لندن: سکھوں کے مقدس مقام دربار صاحب پر بھارتی حملے کے 42 برس مکمل ہونے پر لندن کے معروف سیاحتی مقام ٹریفالگر اسکوائر پر بھارت کے خلاف فریڈم ریلی میں ہزاروں سکھوں نے شرکت کی۔
فریڈم ریلی میں لندن سے لے کر گلاسگو تک کے سکھ کوچز کے ذریعے لندن پہنچے جن میں خواتین اور بچوں کے بڑی تعداد بھی شامل تھی۔ فریڈم ریلی کے سبب سینٹرل لندن کی فضا ’راج کرے گا خالصہ‘ اور ’بن کے رہے کا خالصتان‘ کے نعروں سے گونج اٹھی۔
ریلی کے شرکا نے ہائیڈ پارک کے قریب ویلنگٹن آرچ سے ریلی کا آغاز کیا، شرکا بکنگھم پیلس کے سامنے سے ہوتے ہوئے ٹریفالگر اسکوائر پہنچے۔
ریلی کے شرکا سے سکھ رہنماؤں نے خطاب کیا اور برطانیہ سے سکھوں کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ سکھ دربار صاحب پر حملے کو کبھی نہیں بھولیں گے، بھارت نے 1984 میں سکھوں کا بےدردی سے قتل عام کیا، سکھ بھارت سے آزادی حاصل کر کے امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ دربار صاحب پر حملے کیلئے برطانوی معاونت کے حوالے سے لیبر پارٹی نے تحقیقات کی ہامی بھری تھی لیکن آج تک سکھ اس رپورٹ کے نتائج کے منتظر ہیں۔
گزشتہ دنوں برطانیہ میں کرپان کے ذریعے سکھ کے ہاتھوں سفید فام شخص کے قتل کے بعد کرپان پر پابندی لگانے کے حوالے سے بعض شرکا نے کہا کہ سکھ پُرامن قوم ہیں اور وکرم ڈگوا کی غلطی پر پوری کمیونٹی کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔