کینٹ کے ساحل پر غیر قانونی طور پر سیوریج پھینکنے کے الزام میں سدرن واٹر کو 7 ملین پاؤنڈ سے زائد کا جرمانہ عائد کر دیا گیا۔
سدرن واٹر کو کینٹربری کراؤن کورٹ میں 2019 اور 2021 کے درمیان غیر قانونی طور پر کینٹ کے ساحل سے سیوریج پھینکنے پر جرمانوں کا سامنا کرنا پڑا۔
گزشتہ اپریل میں براڈ اسٹیئرز اور مارگیٹ کے گندے پانی کے پمپنگ اسٹیشنوں پر غیر قانونی اخراج سے منسلک 13 جرائم میں قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ سدرن نے بار بار سیوریج کا بڑا حصہ غیر سکرین شدہ تھا یعنی اس میں ٹھوس فضلہ موجود تھے جسے فلٹر نہیں کیا گیا‘ عدالت کو کمپنی کی طرف سے 2019 اور سال 2021 میں بھی کئی معاملے میں ناقص کارکردگی سے آگاہ کیاگیا۔
ماحولیاتی ایجنسی کی تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ پانی سے کیچڑ اور گندگی کو ہٹانے کے لیے استعمال ہونے والے چار ٹینکوں میں سے صرف ایک ہی کام کر رہا تھا۔
کمپنی کی طرف سے صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایک ٹیم اور حکمت عملی کے ساتھ کام کرنے کے طریقہ کا رمیں اہم تبدیلیاں اور سرمایہ کاری کی گئی ہے۔