• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ میں معذوری الاؤنس لینے والے خوشحال گھرانوں کی تعداد دُگنی ہوگئی

برطانیہ میں معذوری الاؤنس (پرسنل انڈیپنڈنس پیمنٹ - PIP) حاصل کرنے والے خوشحال اور متوسط طبقے کے گھرانوں کی تعداد گزشتہ چار برسوں کے دوران دو گنا سے زائد ہوگئی، جس کے بعد فلاحی اخراجات اور امدادی نظام کی پائیداری پر نئی بحث شروع ہو گئی۔

محکمہ برائے کام و پنشن (ڈی ڈبلیو پی) کے اعداد و شمار کے مطابق 25-2024 میں تقریباً ایک لاکھ 97 ہزار ایسے گھرانے پی آئی پی وصول کر رہے تھے جن کی سالانہ مجموعی آمدنی ایک لاکھ چار ہزار پاؤنڈ سے زیادہ تھی جبکہ 22-2021 میں ایسے گھرانوں کی تعداد 98 ہزار ریکارڈ کی گئی تھی۔

پی آئی پی ایک ایسا الاؤنس ہے جو طویل المدتی جسمانی یا ذہنی بیماری یا معذوری کے شکار افراد کو اضافی اخراجات پورے کرنے کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ امداد آمدنی کی بنیاد پر محدود نہیں بلکہ درخواست گزار کی صحت اور روزمرہ زندگی پر بیماری یا معذوری کے اثرات کو مدنظر رکھ کر دی جاتی ہے۔

برطانیہ میں اس وقت تقریباً 39 لاکھ افراد پی آئی پی حاصل کر رہے ہیں جبکہ اس مد میں سالانہ سرکاری اخراجات 26 ارب پاؤنڈ تک پہنچ چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو رواں دہائی کے اختتام تک یہ رقم 41 ارب پاؤنڈ تک بڑھ سکتی ہے۔

ٹیکس پیئرز الائنس نے اپنی سفارشات میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پی آئی پی کے نظام میں آمدنی کی بنیاد پر جانچ متعارف کروائی جائے تاکہ وسائل زیادہ ضرورت مند افراد تک محدود رہیں۔

تنظیم کے پالیسی ماہر شیمون لی کے مطابق تقریباً 2 لاکھ اعلیٰ آمدنی والے گھرانوں کا اس الاؤنس سے مستفید ہونا ٹیکس دہندگان کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ پی آئی پی کے لیے سخت اور تفصیلی جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور یہ امداد معذور افراد کو اضافی مالی بوجھ سے نمٹنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

حکومتی ترجمان کے مطابق فلاحی نظام میں اصلاحات کا عمل جاری ہے اور اس کا مقصد نظام کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ذہنی صحت سے متعلق امراض، جن میں اضطراب، ڈپریشن اور اے ڈی ایچ ڈی شامل ہیں، پی آئی پی کے تقریباً 39 فیصد دعووں کی بنیاد بن رہے ہیں، جو اس پروگرام کا سب سے بڑا شعبہ تصور کیا جاتا ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید