اسرائیل میں وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے کردار اور اختیارات پر نئی سیاسی بحث شروع ہو گئی، سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا قومی سلامتی کے فیصلے اب بھی نیتن یاہو خود کرتے ہیں یا وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بڑھتے ہوئے انحصار کا شکار ہو چکے ہیں۔
ترک نیوز ایجنسی ’انادولو‘ کے مطابق اس بحث کی وجہ یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ مہینوں میں اسرائیل سے متعلق متعدد جنگ بندی معاہدوں کا اعلان خود کیا۔
ٹرمپ نے 10 اکتوبر 2025ء کو غزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جبکہ بعد ازاں ایران اور لبنان سے متعلق جنگ بندی انتظامات کا بھی اعلان کرتے رہے۔
نیتن یاہو کے قریبی وزراء نے اس تاثر کو مسترد کر دیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم امریکی صدر کے تابع ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حکمراں جماعت لیکود کے وزیر میکی زوہار نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا ہے کہ تمام فیصلے نیتن یاہو خود کرتے ہیں، اگر وہ ٹرمپ کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں تو صرف اس لیے کہ وہ اسرائیل کے مفاد میں ہوتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل کو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات سے ایسے اہم فوائد حاصل ہوئے ہیں جو عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار بین کاسپیت نے نیتن یاہو کو کمزور قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے دوران نیتن یاہو اپنی سابقہ پُر اعتماد تقاریر کے برعکس کمزور دکھائی دیے۔
کاسپیت کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے سیاسی اور قانونی مسائل، خصوصاً بد عنوانی کے مقدمے میں ٹرمپ کو شامل کر کے خود کو امریکی صدر پر انحصار کرنے والی شخصیت بنا لیا ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی، لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں اور سال کے آخر میں متوقع انتخابات نیتن یاہو کو قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی طور پر استعمال کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں، ایسے میں ٹرمپ کا تابع رہنا بھی ان کے لیے فائدہ مند ہے۔