• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک مرتبہ پھر دھماکے

ایران اور امریکہ جنگ کے شعلے پھر سے بھڑک اٹھے ہیں، صدر ٹرمپ کی زبان ایک مرتبہ پھر لاوا اُگل رہی ہے اس سے پہلے خبریں آ رہی تھیں کہ امن معاہدے کا ڈرافٹ تیار ہو گیا ہے اور عین ممکن ہے کہ اس پر دستخط کیلئے امریکی صدر اسلام آباد آ ئیں،تب بھی ہم میں سے کوئی یہ ماننے کیلئے تیار نہیں تھا کہ ایرانی قیادت پاکستان آئے گی تاہم ہمارا دل چاہتا تھا کہ سعدی،عمر خیام،حافظ اورفردوسی کا مُلک سلامت رہے،وہاں بچے اور بچیاں پھر سے چہکیں، اپنے مکتبوں کو جائیں ان کے بڑے بے شک شیشہ پئیں خشک میوے کھائیں،کوئی زندگی سے پیار کرنے والے نعرے ایجاد کریں،مرگ بر امریکہ نصف صدی پرانا ہوگیا۔ ہم میں سے بہت سے خوش ہونے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں جیسے ہمارے ایک نیوزچینل کے مبصرین بتا رہے تھے کہ ٹرمپ کے ٹویٹ میں ہرمز کے ہجے درست نہیں۔جنگ بازوں کے جہاز،راکٹ،توپیں یا ڈرون اور ریڈار سسٹم خلیج فارس کے شیوخ میں مقبول ہو رہے ہیں سو اس مرحلے کی جنگ کے خاتمے پر ایک مرتبہ پھر صدر ٹرمپ پریس کانفرنس میں بتائیں گے کہ ہمارے فلاں ہلاکت خیز ہتھیار کے طلب گار ہزاروں عرب ہیں وہ ڈالر اور دینار کی تھیلیاں لے کے ہمارے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں۔

یہ تو بہت سیانے لوگ بتائیں گے کہ اب بیلفاسٹ کو کیا ہوا ہے ،آئرش آرمی بظاہر ختم ہو گئی ،صدر کلنٹن نے مصالحانہ کردار ادا کیا تھا، کہاں کہاں چنگاریاں سلگ رہی ہیں اور تو اور اسکاٹ لینڈ والے بھی برطانیہ عظمیٰ کا خود کو حصہ نہیں سمجھتے۔ جارج برنارڈ شا کا وطن ہو یا تیرہویں صدی کا ولیم ویلیس جس پر فلم بریو ہارٹ بنائی گئی ،میل گبسن جس کا ہیرو اور شاید ڈائریکٹر تھا، ہمارے فلم بین طبقے کی یادداشت میں چپکی ہوئی ہے ۔ اس کے مطابق تشدد،نا انصافی کے خلاف قربانی رنگ لاتی ہے چاہے کچھ صدیاں گزر جائیں گویا لگتا ہے کہ جہاں جنگیں ہوتی ہیں مزاحمتیں ہوتی ہیں آتش فشاں نمودار ہوتے ہیں لاوا اگل کے خاموش ہو جاتے ہیں مگر پھر سے لاوا اگلنے لگتے ہیں۔افغانستان بھی ایسا ہے، کوئی بہادر اور جفا کش پٹھانوں کی دوسری اور تیسری نسل کا ذکر کرتا ہے جسے کبھی ہمارے کچھ ماہرین نے اپنا فطری حلیف کہا تھا جو پھر ایک مرتبہ دہشت گردی کی راہ پر چل پڑا ہے کہ مولانا فضل الرحمان تک بھی انہیں ناقابلِ اعتبار کہہ رہے ہیں۔

گلگت بلتستان میں انتخابات ہوئے ہم جیسے امید پر ستوں نے کہا آبشاروں، جھیلوں اور سیبوں کی وادی میں امن قائم ہوگا اور اس مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ نصرت بھٹو کا نواسہ ان کے بے روزگاروں اور غریبوںکیلئےانتخابی وعدوں کی پہلی قسط بانٹے گا مگر آزاد امیدواروں کے گھونگھٹ اٹھانے سے پہلے کچھ نئے دھرنے شروع ہوئے، کہیں ووٹوں کی گنتی دوبارہ ہونے لگی پہلے اعلان ہوا کہ تین حلقوں میں آج سے چار دن بعد کچھ پولنگ اسٹیشنوں میں دوبارہ ووٹ ڈالے جائیں گے پھر کہا گیا کہ پی پی پی کے ایک امیدوار کے حق میں جو پوسٹل ووٹ آئے ہیں پہلے انہیں گن لیا جائے گا۔

ادھر محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ تب تک موسم کا مزاج بگڑ جائے گا اور زیادہ دکھ اور پریشانی یہ ہے کہ آزاد کشمیر میں کچھ باتوں کو الجھا دیا گیا اور وہاں ڈوگرہ گلاب سنگھ کے حلیف بھارت کی مسکراہٹ اور زیادہ تکلیف دہ ہوتی گئی،حالانکہ مہاجر نشستوں پر وہاں کی سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین میں ترمیم ہونی چاہئے گویا جولائی میں ہونیوالے انتخابات کا انتظار کیا جانا چاہئے نئی اسمبلی دستور میں ترمیم کا مسودہ لے آئے اور ان بارہ نشستوں کو ختم کرے یا کم کرے جو بھی کرے اس وادی کے دکھوں اور اذیتوں کے ساتھ قربانیوں کا خیال کر کے کرے تاکہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے لوگ مل کر جو جدو جہد کر رہے ہیں وہ رائیگاں نہ ہو جائے۔

اس منظرنامے کو اور سنگین کر رہی ہے بھارت کی تازہ ترین دھمکی کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان تک ’’ہمارے ‘‘ دریائوں کی ایک بوند نہ جائے، یہی نہیں بھارت جس طرح اسلحہ خرید رہا ہے اور وہاں بی جے پی جس طرح کا بیانیہ بنا رہی وہ ان کیلئے رزمیہ ہے اب بھارت اور پاکستان میں وہ سیا ست دان اور مدبر کم یاب ہو گئے جو کہا کرتے تھے کہ دونوں ملک پس ماندہ ہیں غربت ،جہالت ،بیماری اور دیگر معاملات میں انہیں وسائل عوامی فلاح کیلئے استعمال کرنے چاہئیں۔ اب ہر لکھنے والا ارون دھتی رائے تو ہو نہیں سکتا جو کشمیر کے بارے میں لکھے ’’خود ارادیت کی جدو جہد جب مسلح بغاوت میں بدلی تو ہزاروں نوجوان کشمیری مارے گئے،وادی قبرستانوں سے اٹی پڑی ہے،ناقابل تصور تشدد سے جسمانی و ذہنی طور پر مفلوج کئے گئے لوگوں کے علاوہ ان ہزاروں لاپتا لوگوں کی مائوں اور نیم بیوائوں سے ملنے کے علاوہ غداریوں،ساز بازوں اور آپسی عسکری جھگڑوں کے علاوہ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ دہلا دیا وہ یہ ہے کہ عام کشمیریوں سے کہا جاتا ہے کہ اسے نارمل سمجھو... اگر وہ ہمیں نہیں چاہتے تو ہم کیوں اپنے آپ کو ان پر مسلّط کر رہے ہیں؟‘‘ میرے دو ایک کشمیری شاگرد مجھے مظفر آباد اور راولاکوٹ کے بارے میں پریشان ہو کے لکھتے ہیں کہ بھارتی منصوبہ ساز جادو گروں سے بھی مدد لیتے ہیں شاید ان کے انچھروں کے اثر میں ہمارے کشمیری نوجوان بپھرے ہوئے ہیں اور ستائیس جولائی کے انتخابات کا انتظار نہیں کر رہے۔

اب ایک دھماکہ قومی بجٹ کا ہے جسکا خوش آئند پہلو یہ ہے کہ وزیرِ اعظم کے ساتھ چاروں وزرائے اعلیٰ بھی قومی اقتصادی کونسل میں بیٹھے وہاں خیبر پختون خواکے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں ہی باتیں نہیں ہوئیں تحریکِ انصاف کے قائد کے حوالے سے بھی کچھ باتیں ہوئیں۔ حفیظ ہوشیارپوری کی معروف غزل کے دو شعر سن لیجئے۔

دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی

اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے

حفیظ میں ان سے جتنا بد گماں ہوں

وہ مجھ سے اس قدر برہم نہ ہوں گے

تازہ ترین