کسی بھی ملک کی معیشت کے بارے میں سب سے اہم رائےوہ نہیں ہوتی جو حکومتیں اپنے بارے میں خوددیتی ہیں بلکہ وہ ہوتی ہے جو سرمایہ کار، عالمی مالیاتی ادارے اور بین الاقوامی منڈیاں قائم کرتی ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے گزشتہ چند برسوں میں عالمی تاثر زیادہ تر معاشی مشکلات، سیاسی غیر یقینی صورتحال، بلندمہنگائی، زرمبادلہ کی کمی اور قرضوں کے دباؤ کے گرد گھومتا رہا۔ تاہم 2026میں یہ تاثربتدریج تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور دنیابھر سے آنے والی تازہ رپورٹس، سرویز اور مالیاتی اشاریے ایک نئے اعتماد کی نشاندہی کر رہے ہیں۔مالی سال2026ء کے ابتدائی مہینوں میں پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً 1.35 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 163فیصد زیادہ ہے۔ یہ صرف ایک عددی اضافہ نہیں بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اظہار ہے۔ ٹیکنالوجی، فِچ ٹیک، توانائی، ڈیجیٹل سروسز اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نئی سرمایہ کاری اور توسیعی منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان دوبارہ عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔اس مثبت رجحان کی تصدیق اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سروے نے بھی کی۔ سروے کے مطابق 73 فیصد غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان کو براہِ راست سرمایہ کاری کیلئے موزوں مقام قرار دیا، جبکہ دو سال قبل یہ شرح 61 فیصد تھی۔ اسی طرح پاکستان کی 83 فیصد بڑی کمپنیاں ملکی معاشی ترقی کے بارے میں پُرامید ہیں، حالانکہ ایک سال قبل یہ تناسب صرف 49 فیصد تھا۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں یہ اضافہ معاشی نمو کا مظہرسمجھاجارہاہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی تازہ جائزہ رپورٹ بھی پاکستان کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ملک میں معاشی بحالی کا عمل جاری ہے، افراطِ زر قابو میں آ رہا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں اور معاشی نمو میں تدریجی اضافہ متوقع ہے۔ ادارے کا اندازہ ہے کہ رواں مالی سال میں شرح نمو تقریباً 3.6 فیصد تک پہنچ سکتی ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر 17سے 18 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے مزید مالی معاونت کی منظوری بھی عالمی اعتماد کا اظہار سمجھی جا رہی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی حالیہ مانیٹری پالیسی رپورٹ کے مطابق مہنگائی 5 سے 7 فیصد کی حد میں رہنے کی توقع ہے جبکہ معاشی نمو3اعشاریہ 75سے 4اعشاریہ75فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ محدود سطح پر برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے اسی طرح عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایج سی فچ نے بھی پاکستان کی ریٹنگ برقرار رکھتے ہوئےاس کا آؤٹ لک ’’اسٹیبل‘‘ قرار دیا ہے۔ ادارے کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط میں بہتری، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور معاشی استحکام نے پاکستان کے مالیاتی پروفائل کو مضبوط کیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کو حالیہ عرصے میں دنیا کی بہتر کارکردگی دکھانے والی مارکیٹوں میں شمار کیا گیا، چار سال کے وقفے کے بعد 750 ملین ڈالر کے یورو بانڈ کا اجرااورعالمی مالیاتی منڈیوں میں اس کی کامیاب فروخت اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار اس ملک کی ادائیگی کی صلاحیت اور معاشی مستقبل پر اعتماد رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس اقدام کو پاکستان کیلئے ایک اہم معاشی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ اگرچہ معاشی اشاریے بہتر ہوئے ہیں لیکن عالمی ادارے ابھی مکمل اطمینان کا اظہار نہیں کر رہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے مطابق پاکستان کو اب بھی کئی بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے۔ا ن کے خیال میں ٹیکس ریٹ کا محدود ہونا، توانائی کے شعبے کے مسائل، سرکاری اداروں کی کمزور کارکردگی اور نجکاری کے عمل میں سست روی ایسے عوامل ہیں جو طویل المدتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔علاوہ ازیں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پاکستان کیلئے ایک بڑا بیرونی خطرہ سمجھی جا رہی ہے۔ اگر تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے تو درآمدی بل بڑھے گا، مہنگائی دوبارہ اوپر جا سکتی ہے اور روپے پر دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح بیرونی قرضوں اور مالیاتی ضروریات کا بوجھ بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ عالمی ادارے مسلسل زور دے رہے ہیں کہ استحکام کو پائیدار ترقی میں بدلنے کیلئے اصلاحات کا عمل جاری رکھنا ہوگا۔
اس تمام صورتحال کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کی معیشت اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ بحران کے دور سے نکل کر استحکام کی جانب پیشرفت ہو رہی ہے، عالمی اعتماد بحال ہو رہا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو رہا ہے اور مالیاتی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں۔ لیکن یہ کامیابی کی ابھی مکمل منزل نہیں بلکہ ایک نئےسفر کا آغاز ہے۔اگر حکومت پالیسیوں کے تسلسل، ادارہ جاتی اصلاحات، برآمدات میں اضافے، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور سرمایہ کار دوست ماحول کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو پاکستان نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری کا ایک بڑا مرکز بن سکتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار اور عالمی رپورٹس کم از کم یہی بتا رہی ہیں کہ دنیا پاکستان کو اب پہلے سے مختلف نظر سے دیکھنا شروع کر چکی ہے۔