پشاور(نیوزرپورٹر) پشاور ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد 9 اور 10 مئی کے پرتشدد واقعات میں درج مقدمات واپس لینے کے لئے صوبائی حکومت کی درخواست پر متعلقہ حکام کو ایک مرتبہ پھر جواب جمع کرنے کے لئے مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔ پشاورہائیکورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل سنگل رکنی بنچ نے سماعت شروع کی تو عدالت میں سپیشل پراسکیوٹر انعام اللہ یوسفزئی عدالت میں پیش ہوئے ۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ صوبائی حکومت نو اور دس مئی کے پانچ مقدمات واپس لینا چاہتی ہے اور اس کے لئے صوبائی حکومت نے مجھے مقدمات کی واپسی کے لیے سپیشل پراسیکیوٹر مقرر کیا ۔تھانہ اس ضمن میں غلنئی مہمند ، تھانہ فقیر آباد اورشرقی پشاور کے تین مقدمات واپس لینے کے لئے درخواستیں دائر کیں تا ہم انسداد دہشت گردی پشاور کی خصوصی عدالت نے درخواستیں خارج کی ہیں جس کے خلاف ہائیکورٹ میں نظرثانی کی درخواستیں دائرکی گئی ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ تما م مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں کیونکہ مقدمات میں شہادتوں کی بھی کمی ہے تمام مقدمات نگران حکومت کے دور میں بنائے گئے ہیں ۔پشاور ہائیکورٹ نے سماعت کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے تحریری حکم نامہ میں لکھا ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود متعلقہ فریقین سے مقدمات کا ریکارڈ تاحال موصول نہیں ہوا، عدالت نے دوبارہ ریکارڈ طلب کر کرتے ہوئے تفتیشی افسر ان کو نوٹس جاری کردیا درخواستوں پر مزید سماعت مختصر مدت کے لیے ملتوی کر دی جاتی ہے ۔