• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حیات آباد کمپلیکس میں پلاسنٹا، پری میچور بچوں کی ڈیڈ باڈیاں چائنہ کو بیچی جارہی ہیں

پشاور( لیڈی رپورٹر)حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں گائنی یونٹ میں ڈیوٹی سر انجام دینے والی چارج نرس شکیلہ بی بی نے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مبینہ طور پر حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں پلاسنٹا اور پری میچور بچوں کی ڈیڈ باڈیاں باقاعدہ چائنہ کو فروخت کی جا رہی ہیں جس کے خلاف آواز اٹھانے پر مجھے ڈی جی ہیلتھ کو ریلیو کیا گیا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نرسنگ کے شعبے میں 18سال سے ڈیوٹی دے رہی ہوں اور اپنی عزت بچانے کیلئے اور ناجائز کاموں کے خلاف ہر فورم پر لڑ رہی ہوں وزیراعلیٰ ایکشن لے کر تحفظ فراہم کریں۔انہوں نے کہا کہ مافیا نے ہراسمنٹ کا شکار بنانے کی کوشش کی انکار پر میرے خلاف انکوائریاں شروع کی گئی اور تنخواہ بند کی گئی۔ہراسمنٹ اور چائنہ کو پلاسنٹا اور پری میچور بچوں کہ فروخت میں مبینہ طور پر ایچ ایم سی کے منیجنگ ڈائریکٹر شاہ سوار، ایچ ڈی شیر زمان، ایمرجنسی ڈاکٹر نظیف وزیر، آرتھوپیٹک سرجن زاہد وزیر، گائنی ڈاکٹر ڈاکٹر مدیحہ، ڈاکٹر سعدیہ شمشیر، پروفیسر ڈاکٹر بشرا اور ڈاکٹر رابعہ صدف شامل ہیں انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے سے انہیں ہسپتال کے منیجنگ ڈائریکٹر جو اس وقت ڈیوٹی پر نہیں ہے شاہ سوار اور ایچ ڈی شیر زمان اور ڈاکٹر نظیف وزیر نے ارتھوپیڈک سرجن زاہد وزیر کے ہمراہ انہیں مختلف آفرز کیں اور ہراسمنٹ کا شکار بنایا لیکن انہوں نے ان ڈاکٹروں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے اور اپنے ڈیوٹی سر انجام دیتی رہی انہوں نے کہا کہ اس مافیا میں گائنی ڈاکٹر مدیحہ، ڈاکٹر سعدیہ شمشیر، پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ، ڈاکٹر رابعہ صدف شامل ہیں نے بھی ہراسمنٹ کا شکار بنانے کی کوشش کی اور کہا کہ آپ ان ڈاکٹروں کی بات مان لیں اپ کے ساتھ اچھا نہیں ہوگا۔ میں اپنی ڈیوٹی کرتی رہی اور اس دوران میرے خلاف انکوائریوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا مجھے بغیر شوکاز نوٹسز کے انکوائریوں کا سامنا ہے مجھے ڈی جی ہیلتھ کو ریلیو کیا گیا جس کے خلاف میں عدالت گئی عدالت نے مجھے سٹے دیا لیکن ہسپتال انتظامیہ عدالتی احکامات ماننے سے بھی انکاری ہے۔
پشاور سے مزید