امریکی محکمۂ انصاف نے ایلون مسک کی کمپنی ’ایکس اے آئی‘ کے حق میں عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے ٹینیسی میں قائم ایک بڑے ڈیٹا سینٹر کے لیے لگائے گئے گیس ٹربائنز سے متعلق آلودگی کے مقدمے کو خارج کرنے کی استدعا کی ہے۔
یہ مقدمہ شہری حقوق کی تنظیم این اے اے سی پی نے دائر کیا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ کمپنی نے جنوبی مسیسیپی میں اجازت کے بغیر درجنوں گیس ٹربائنز نصب کیے جو ٹینیسی کے شہر میمفس میں موجود کولوسس 2 ڈیٹا سینٹر کو بجلی فراہم کرتے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان اقدامات سے قریبی علاقوں میں فضائی آلودگی بڑھی ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں رہائشیوں کو دمہ، سانس کی بیماریاں، دل کے امراض اور بعض کینسرز جیسے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
تنظیم کے مطابق متاثرہ آبادی میں سیاہ فام شہریوں کا تناسب زیادہ ہے۔
محکمۂ انصاف نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ مقدمہ قومی، معاشی اور توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے کیونکہ اس سے مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے جو فوجی نظام میں بھی استعمال ہو رہا ہے۔
حکومتی مؤقف میں یہ بھی کہا گیا کہ ماحولیاتی قوانین کے تحت جرمانے اور کارروائی کا فیصلہ بنیادی طور پر نجی تنظیموں کے بجائے انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
دوسری جانب این اے اے سی پی اور اس کی قانونی معاون تنظیم نے حکومتی اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے طاقت کا ناجائز استعمال قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے متاثرہ کمیونٹیز کے صحت کے حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
ایلون مسک کی کمپنی نے اس مقدمے پر فوری ردِعمل نہیں دیا جبکہ دفاعی محکمے کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق جدید مصنوعی ذہانت کے نظام کو فوجی کارروائیوں میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے اور توانائی کی فراہمی محدود ہونے کی صورت میں دفاعی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔