• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جی سیون ممالک بہت خوش ہیں کہ ہم نے ایران سے معاہدہ کر لیا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جی سیون ممالک بہت خوش ہیں کہ ہم نے ایران سے معاہدہ کر لیا۔

جی سیون اجلاس کے اختتام پر امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پریس کانفرنس کی گئی، اس موقع پر وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ 

اس دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جی سیون ممالک سے ایران معاہدے کی تفصیلات پر بات کی ہے، جی سیون ممالک بہت خوش ہیں کہ ہم نے ایران سے معاہدہ کر لیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دنیا میں معیشت کی زبوں حالی نہیں چاہتا تھا، معاہدہ نہ کرتے تو آبنائے ہرمز نہ کھلتی۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو بعض اوقات کچھ جذباتی ہوجاتا ہے لیکن اچھا ساتھی رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم ایران سے افزودہ جوہری مواد نکال کر ناکارہ بنائیں گے، ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روک کر پوری دنیا کو تباہی سے بچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران راضی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنائے گا نہ حاصل کرے گا۔

امریکی صدر نے یہ بھی بتایا کہ مفاہمتی یادداشت کی ایک کاپی اسرائیل کو بھیجی ہے۔ ایران معاہدے پر بہت جلد دستخط ہوجائیں گے، شاید جمعے کو۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور قطر نے مذاکرات کیلئے بہت کام کیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل حزب اللّٰہ کے معاملے میں اچھی کارکردگی دکھا سکتا ہے، جوہری ذخائر سے متعلق تکنیکی بات چیت بھی جلد شروع ہوجائے گی۔ خلیجی ممالک سے بھی نان نیوکلیئر معاملات پر بات چیت کر رہے ہیں۔

انہوں نے دھمکی دی کہ ایران نے معاہدے کا احترام نہ کیا تو بمباری پر واپس جائیں گے اور دوبارہ ہونے والی بمباری تب تک نہیں رُکے گی جب تک وہ معاہدے پر نہ آجائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ لبنان کے امن کے لیے کام کریں گے، مید ہے معاہدے سے پورے مشرق وسطیٰ میں امن آئے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کر رہا، پڑوسی ایسا کرسکتے ہیں۔ ایران کو جنگ سے 2 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ ایران کو سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ پڑوسی ممالک یا کچھ اور لوگ اس مد میں مدد کرسکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصنوعی ذہانت کے معاملے میں ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے، مصنوعی ذہانت بہت اچھی اور بہت بری بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابراہیمی معاہدے میں توسیع چاہتے ہیں۔ 

انہوں نے اماراتی صدر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید غیر معمولی جنگجو ہیں۔ وہ بم گرا رہے تھے، میں نے پوچھا یہ بم کون گرا رہا ہے، معلوم ہوا یہ یو اے ای تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خلیجی ممالک سے ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور دہشت گرد پراکسیز پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ میں غیرجانبدار رہنے پر چینی اور روسی صدور کے شکرگزار ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید