• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر سال بجٹ کی آمد کے ساتھ پاکستان میں ایک مانوس منظر دہرایا جاتا ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومتیں اعداد و شمار پیش کرتی ہیں، ترقیاتی منصوبوں کے دعوے سامنے آتے ہیں، تنخواہوں اور مراعات پر بحث ہوتی ہے اور عوام امید اور مایوسی کے درمیان اگلے مالی سال کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ یہ سب اہم بحثیں ہیں، مگر ایک سوال ان سب سے بڑا ہے: کیا صرف بجٹ، چاہے وہ وفاق کا ہو یا صوبے کا، قوموں کو ترقی یافتہ بنا دیتاہے؟تاریخ کاجواب واضح ہے: نہیں۔‎قوموں کی ترقی صرف مالی وسائل سے نہیں ہوتی؛ وہ اس شعور سے ہوتی ہے جو وسائل کے استعمال کا طریقہ طے کرتا ہے۔ اگر معاشرے میں تنقیدی سوچ، احتساب، علمی مزاج اور ادارہ جاتی سنجیدگی موجود نہ ہو تو وفاق اور صوبے دونوں کے بڑے بجٹ بھی وقتی اثرات سے آگے نہیں جا سکتے۔ اسی لیے پاکستان کی آج سب سے بڑی ضرورت صرف معاشی پالیسی یا مالیاتی نظم نہیں بلکہ فکری شعور ہے۔‎ہمارا اجتماعی مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ سوچ کے معیار کا بحران بھی ہے۔ ہم اکثر فیصلے دلیل سے پہلے جذبات کی بنیاد پر کرتےہیں۔ سیاسی رہنما ہو، وفاقی حکومت کی پالیسی ہو، صوبائی بجٹ ہو یا قومی مسئلہ ہم پہلے پسند یا ناپسند کا فیصلہ کرتے ہیں، پھر اس کے حق میں دلائل تلاش کرتے ہیں۔ یہ رویہ صرف سیاسی کمزوری نہیں بلکہ فکری ناپختگی بھی ہے۔‎یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں فیصلے دیرپا نہیں ہوتے۔ پالیسی بدلتی رہتی ہے، ترجیحات بدلتی رہتی ہیں، اور ریاستی تسلسل کمزور ہو جاتا ہے۔ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب انکے ادارے افراد سے بالاتر ہو جائیں اور فیصلے جذبات کے بجائے علم اور تحقیق کی بنیاد پر ہوں۔‎اٹھارہویں صدی میں یورپ کی روشن خیالی نے اسی اصول کو ریاستی اور سماجی شعور میں بدلا۔ جرمن فلسفی ایمانوئل کانٹ نے لکھا: "اپنی عقل استعمال کرنے کی ہمت کرو۔" یہ محض فلسفہ نہیں، جدید ریاستی فکر کی بنیاد تھی۔ یہی وہ سوچ تھی جس نے یورپ میں سائنسی انقلاب، صنعتی ترقی، اور مضبوط اداروں کو جنم دیا۔پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ جذباتی ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ جذبات شعور کے تابع نہیں۔ ‎یہ مسئلہ صرف عوام تک محدود نہیں بلکہ وفاق اور صوبائی سطح کی پالیسی سازی میں بھی نظر آتا ہے۔ بجٹ سازی اکثر طویل المدتی قومی منصوبہ بندی کے بجائے قلیل المدتی سیاسی ترجیحات کے گرد گھومتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے اپنے دائرہ اختیار میں منصوبے بناتی ہیں، مگر تعلیم، تحقیق، اور انسانی وسائل کی ترقی اکثر ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔‎یہی وجہ ہے کہ ترقیاتی منصوبے بنتے ہیں مگر معاشرہ نہیں بدلتا۔ ‎ہمارے سیاسی کلچر میں بھی یہی کمزوری ہے۔ جلسوں میں منشور کم اور شخصیت زیادہ ہوتی ہے۔ عوام کو معاشی ماڈل سمجھانے کے بجائے جذباتی بیانیہ دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شہری ووٹر سے زیادہ مرید بن جاتا ہے۔ جمہوریت سوال مانگتی ہے، عقیدت نہیں۔‎یہی کمزوری تعلیمی نظام میں بھی موجود ہے۔ ہم وفاقی اور صوبائی تعلیمی بجٹ کو اخراجات سمجھتے ہیں، سرمایہ کاری نہیں۔ ہمارے اسکول اور جامعات معلومات تو فراہم کرتے ہیں مگر سوال، تحقیق، اور تنقیدی سوچ پیدا نہیں کرتے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا، مگر اس نے تعلیم، تحقیق اور صنعت کو ایک مربوط قومی منصوبہ بنایا۔ یہی حکمت عملی اسے چند دہائیوں میں صنعتی طاقت بنا گئی۔‎جنوبی کوریا نے 1960ء کی دہائی میں انسانی وسائل، تعلیم اور سائنس کو قومی ترجیح بنایا۔ آج وہ تحقیق اور ٹیکنالوجی میں دنیا کے صف اول کے ممالک میں شامل ہے۔‎سنگاپور نے محدود وسائل کے باوجود تعلیم، میرٹ اور نظم کو قومی ترقی کی بنیاد بنایا۔‎چین نے 1978ء کے بعد وفاقی سطح پر تعلیمی اصلاحات، جامعات اور تحقیق میں بھاری سرمایہ کاری کی، جس نے اسے عالمی طاقت بنایا۔‎ان تمام مثالوں میں ایک مشترک حقیقت ہے: ریاست نے تعلیم اور شعور کو معیشت کی بنیاد بنایا۔‎پاکستان کیلئے بھی یہی سب سے بڑا سبق ہے۔‎اگر وفاق اور صوبے تعلیم، تحقیق، سائنس اور انسانی وسائل کو مرکزی ترجیح بنا لیں تو ترقی ممکن ہے۔ لیکن اگر بجٹ صرف ترقیاتی اسکیموں، تنخواہوں اور وقتی سیاسی ترجیحات تک محدود رہا تو نتائج بھی وقتی رہیں گے۔‎آج میڈیا اور سوشل میڈیا نے اس بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔ خبر اب معلومات نہیں بلکہ جذباتی ردعمل کا ذریعہ بن چکی ہے۔ جو بات زیادہ شور پیدا کرے وہ زیادہ پھیلتی ہے۔ ایسے ماحول میں باشعور شہری وہ ہے جو سوال کرے: ذریعہ کیا ہے؟ ثبوت کیا ہے؟ فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟‎علامہ اقبال نے خودی کو فرد کی خود مختار اور ذمہ دار شخصیت کے طور پر پیش کیا۔ یہی اصول ریاستوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ایک باشعور قوم اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتی ہے، سیکھتی ہے اور اصلاح کو کمزوری نہیں سمجھتی۔‎آج پاکستان کی سب سے بڑی قوت اور سرمایہ اسکی نوجوان آبادی ہے۔ اگر اسے علم، تحقیق اور تنقیدی شعور دیا جائے تو یہی نسل ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے، لیکن اگر اسے صرف نعروں اور جذبات میں رکھا گیا تو یہ تقسیم اور بحران کو بڑھائیگی۔‎اسلئے بجٹ کی اصل بحث صرف یہ نہیں ہونی چاہیے کہ وفاق یا صوبے کتنی سڑکیں بنائینگے یا کتنی تنخواہیں بڑھائیں گے؛ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کتنے ذہن تعمیر ہوں گے۔‎پاکستان کو سڑکوں، بجلی اور انفراسٹرکچر کی ضرورت ضرور ہے، مگر اس سے پہلے اسے ایسے شہریوں کی ضرورت ہے جو سوال کر سکیں، اختلاف برداشت کر سکیں، اور اپنی پسندیدہ وفاقی یا صوبائی قیادت سے بھی جواب مانگ سکیں۔‎قومیں جذبے سے اٹھتی ہیں مگر شعور سے قائم رہتی ہیں۔

تازہ ترین