تفہیم المسائل
سوال: ایک خطیب جمعہ کا خطبہ عربی میں شروع کرتا ہے، پھر درمیان میں اپنی زبان اُردو/پنجابی یا سرائیکی میں گفتگو کرتا ہے اورعربی کلمات پر اختتام کرتا ہے، دونوں خطبوں میں اسی طرح کرتا ہے، اس بارے میں کیاحکم ہے؟ کراہت ہے یا کراہت سے خالی ہے؟ (مولانا انصر نورانی )
جواب: نمازِ جمعہ میں خطبہ شرط ہے اور عربی زبان میں ہونا سنّتِ مُتوارثہ ہے، اس کا ترک مکروہ ہے، اس لیے خطبہ عربی زبان میں ہی دیا جائے۔ خطبہ میں وعظ ونصیحت ، شرعی احکام، نواہی بیان کیے جاتے ہیں، جو قرآن کریم کی مختلف آیات میں موجود ہیں، علّامہ نظام الدین ؒ خطبے کی سنتوں کے بارے میں لکھتے ہیں: ’’ گیارہویں سنّت : خطبہ میں قرآن پڑھنا ہے اور اس کا ترک گناہ ہے، ’’البحرالرائق‘‘ میں اسی طرح ہے اور اس کی مقدار تین چھوٹی آیات یا ایک بڑی آیت ہے، جیسا کہ ’’الجوہرۃ النّیّرہ ‘‘ میں ہے ،(فتاویٰ عالمگیری ،جلد1،ص:147)‘‘
علّامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ’’ خطبہ کو عربی زبان کے ساتھ مُقیّد نہیں کیا، اس بات پر اکتفا کرتے ہوئے جو باب صفۃ الصلوٰۃ میں بیان کیاہے کہ یہ شرط نہیں، اگرچہ وہ عربی زبان میں خطبہ دینے پر قادر ہو ، یہ امام اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہے ،صاحبین نے اس سے اختلاف کیا ہے، صاحبین نے شرط لگائی ہے کہ عجز کے وقت ایسا کرسکتا ہے ،(ردالمحتار علیٰ الدرالمختار، جلد2،ص:147)‘‘۔
علّامہ ابو بکر بن علی بن محمد الحدادییمنی حنفی لکھتے ہیں: ’’ (وہ دو خطبے دیتا ہے ،جن کے درمیان بیٹھنے کا وقفہ ہوتا ہے)اور ان کی مقدار طوال مفصل کی ایک سورت کے برابر ہوتی ہے اور اس میں پڑھنے کی مقدار تین چھوٹی آیات یا ایک لمبی آیت ہوتی ہے اور خطبے میں قرآن کی تلاوت ہمارے ہاں سنّت ہے اور امام شافعیؒ نے فرمایا: یہ واجب ہے اور ان کے درمیان بیٹھنے کی مقدار طحاوی کے نزدیک اس قدر ہے جتنا وہ منبر پر بیٹھنے کی جگہ میں بیٹھتا ہے اور ظاہر روایت میں مقدار تین آیات ہے، اسی طرح فتاوی میں کہا گیا ہے اور یہ بیٹھنا ہمارے ہاں آرام کے لیے ہے اور یہ شرط نہیں ہے اور امام شافعیؒ کے نزدیک یہ شرط ہے کہ ایک ہی خطبے پر اکتفا نہ کیا جائے چاہے وہ کتنا ہی طویل ہو۔
خجندی نے کہا : خطبے میں سنت یہ ہے کہ اللہ کی حمد کی جائے اور اس پر ثنا کی جائے اور نبی ﷺپر درود بھیجا جائے اور لوگوں کو نصیحت کی جائے اور قرآن پڑھا جائے اور مومنین اور مومنات کے لیے دعا کی جائے اور دوسری خطبے میں بلند آواز سے پڑھنا پہلی کے مقابلے میں ہو،(الجوہرۃ النّیّرہ ، جلد1، ص:89)‘‘ ۔
امام اہلسنّت امام احمد رضاقادری ؒ لکھتے ہیں:’’خطبہ میں عربی کے سوا دوسری زبان ملانا مکروہ وخلافِ سنّت ہے، (فتاویٰ رضویہ ، جلد8،ص:454)‘‘۔ آپ ؒسے سوال کیا گیا: ’’ جمعہ کے خطبہ اُولیٰ کے بجائے وعظ وپند عوام کو احکامِ شرعیہ بتانے اور سمجھانے کے لیے جائز ہے یا نہیں یا قطعی حرام ہے، اردو کلام کرنا اندر خطبہ کے یا خطبوں کا ترجمہ یا آیات واحادیث جو خطبوں میں ہیں، ان کا ترجمہ کرنا درست ہے یا نہیں‘‘۔
آپ نے جواب میں لکھا :’’خطبہ خود وعظ وپند ہے، مگر اس میں غیر عربی زبان کا خلط مکروہ وخلاف سنتِ متوارثہ ہے، اگر چہ نفس فرض خطبہ خالص دوسری زبان سے ادا ہوجائے گا،صحابۂ کرامؓ نے عجم کے ہزاروں شہر فتح فرمائے اور ان میں منبر نصب کیے اور خطبے پڑھے اور ان کی زبانیں جانتے تھے، ان سے گفتگو کرتے تھے مگر کبھی منقول نہیں کہ عربی کے سوا کسی اور زبان میں خطبہ فرمایا یا غیر زبان کو ملایا،( فتاویٰ رضویہ، جلد 8، ص:466)‘‘۔
صدرالشریعہ علامہ امجدعلی اعظمی لکھتے ہیں: ’’ غیرعربی میں خطبہ پڑھنا یا عربی کے ساتھ دوسری زبان خطبہ میںخلط کرنا خلافِ سنّتِ مُتوارثہ ہے ۔ یوں ہی خطبہ میں اشعار پڑھنابھی نہ چاہیے اگرچہ عربی ہی کے ہوں ،(بہارِ شریعت، جلد:اول،ص:769)‘‘۔
امام اہلسنّت امام احمد رضا قادری ؒ لکھتے ہیں: ’’سوم: کچھ عربی کچھ اردو اس کا حال بھی بیان سابق سے واضح ہوچکا مگر جب امام بحالتِ خطبہ کوئی امر منکر دیکھے تو اُس سے نہی کیا ہی چاہئے اور جب وہ عربی سمجھتا یا امام خود عربی میں کلام کرنا نہیں جانتا تو ناچار زبان مقدور و مفہوم کی طرف رجوع ہوگی یہ کلام جو خطبہ میں ہوگا خطبہ ہی ہوگا کہ امر بالمعروف بھی اُس کے مقاصد حسنہ سے ہے۔ترجمہ:’’درمختار میں ہے: خطبہ میں گفتگو مکروہ ہے، البتہ نیکی کا حکم جائز ہے کیونکہ یہ خطبہ کا حصہ ہے ‘‘۔
یُوں ایک حصہ خطبہ اردو میں ہونا البتہ مکروہ نہیں بلکہ واجب تک ہو سکتا ہے جبکہ ازالہ منکر اسی میں منحصر ہو۔چہارم:محض اشعار پر قناعت یہ ضرور مکروہ واساء ت وخلاف سنت وموجب ترکِ تلاوت، اور اگر ایک آیت طویلہ یا تین آیت قصیرہ کو نظم کرکے لائیں تو اول تو غالباً یہ بلا تغییر نظم قرآن نا متیسر اور بعد تغییر نظم تلاوت نہ رہے گی اگر چہ اقتباس ہو اور اگر بَن بھی پڑے تو ادائیگی سنّت تلاوت کے لیے قرآن مجید کو منظوم کرکے پڑھنا ترک قرأ ت سے اشد ّواشنع ہے، قرآن عظیم شعر سے پاک و منزّہ اور اپنے شعر بننے کی گوارش سے متعالی وارفع ہے۔
ترجمہ:’’اور ہم نے آپﷺ کو شعر کی تعلیم ہی نہیں دی اور نہ ہی یہ آپ کی شان کے لائق ہے ‘‘۔ تو اس طور پر قصدِ تلاوت صریح اساءت ادب ہے۔ ترجمہ: ’’اس سے وہ اقتباس الگ ہوگیا جس سے مقصد تلاوت قرآن نہیں کیونکہ اصح قول کے مطابق یہ مشہور اور مروج ہے ‘‘۔ اور یُوں بھی نظم پر اقتصار میں بلاوجہ کلماتِ ماثورہ وطریقہ متوارثہ سے اعراض ہے تو اُس سے اعراض ہی چاہئے۔
پنجم: بعض اشعار محمودہ ملائمہ داخل کرنا یہ اگر زبان عجم ہوں تو وہی امر سوم ہے، ورنہ کچھ حرج نہیں خصوصاً جبکہ احیاناً ہو کہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے خطبہ میں بعض اشعار پڑھنا مروی: جیسا کہ عسکری نے کتاب المواعظ میں ذکر کیا ہے اور ہم نے اس کے بارے میں اپنے فتاوٰی میں بھی گفتگو کی ہے، (فتاویٰ رضویہ ،جلد8،ص:325)‘‘۔
منصور بن یونس بن صلاح الدین ابن حسن بن إدریس البہوتی الحنبلی لکھتے ہیں: ’’ اور خطبہ بغیر عربی کے صحیح نہیں ہے جب کہ عربی پر قدرت ہو (جیسا کہ پڑھنے میں) کیونکہ یہ بغیر عربی کے کافی نہیں ہے اور خطبہ بغیر عربی کے صحیح ہے (جبکہ وہ عربی میں عاجز ہو )کیونکہ اس کا مقصد نصیحت اور یاد دہانی ہے اور اللہ کی حمد اور رسول اللہﷺ پر درود بھیجنا ہے، جبکہ قرآن کے الفاظ کے بارے میں یہ بات مختلف ہے کیونکہ یہ نبوت کی دلیل اور رسالت کی علامت ہے اور یہ غیر عربی میں حاصل نہیں ہوتا، (کشاف القناع عن متن الاقناع ،جلد2، ص:34)‘‘۔امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک اگرچہ وہ عربی زبان پر قادر ہو، تب بھی غیر عربی میں خطبہ دے سکتا ہے ۔ (جاری ہے)