• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی ساکھ کو دھچکا، ایران کو جھکانے کی ڈونلڈ ٹرمپ کی کوشش ناکام قرار

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

مشرقِ وسطیٰ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی ایران کے خلاف جنگ کے بعد امریکا کی عالمی ساکھ کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔

برطانوی میڈیا ’دی ڈیلی ٹیلی گراف‘ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق اسرائیل امریکا کی ایران کے خلاف جنگ نے ناصرف خطے کو تباہی سے دو چار کیا بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کے نظام کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض میں اعلان کیا تھا کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں سے نکل رہا ہے لیکن اس کے 1 ماہ بعد ہی امریکی بمبار طیاروں نے ایران کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا۔

اس کے بعد 108 روزہ جنگ نے پورے خطے میں شدید کشیدگی پیدا کر دی جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد جاں بحق اور وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔

ٹیلی گراف کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام ختم کرنے میں ناکام رہے ہیں جبکہ ایران کا نظامِ حکومت بھی برقرار رہا ہے، اس جنگ کے دوران امریکا نے بڑے پیمانے پر عسکری طاقت استعمال کی لیکن سیاسی مقاصد حاصل نہ کر سکا۔

رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق اس تنازع کے باعث امریکا کی عالمی قیادت پر اعتماد کمزور ہوا ہے، امریکا نے جنگ کے دوران تقریباً 13000 فضائی حملے کیے اور 100 ارب ڈالرز کے ہتھیار استعمال ہوئے جس سے اس کی فوجی صلاحیتیں بھی متاثر ہوئیں۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق معاشی طور پر بھی اس جنگ کے اثرات شدید رہے، آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے عالمی تیل کی 20 فیصد سپلائی متاثر ہوئی جبکہ عالمی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا ہوا۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران روزانہ 2 ارب ڈالرز تک لاگت آئی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک ابتدائی مفاہمت سامنے آئی ہے تاہم اس میں کوئی حتمی امن معاہدہ شامل نہیں اور آئندہ 60 دن مذاکرات کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے امریکا کے اتحادیوں، خاص طور پر یورپ اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی دراڑیں پیدا کی ہیں جبکہ اسرائیل بھی سفارتی طور پر تنہائی کا شکار ہوا ہے۔

رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ایران اس جنگ سے کمزور ہونے کے باوجود سیاسی طور پر مضبوط ہوا ہے جبکہ امریکا کی ساکھ، قیادت اور عالمی اثر و رسوخ کو سنگین نقصان پہنچا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید