کراچی (رفیق مانگٹ)108 روزہ ایران جنگ ایک انتہائی مہنگی اور خونریز تنازع ثابت ہوا، جس میں مجموعی طور پر 7 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے-اس جنگ نے عالمی معیشت، توانائی منڈی اور مشرق وسطیٰ کے انفراسٹرکچر کو شدید جھٹکا دیا اور امریکا کو اس جنگ میں تقریباً 367 کھرب 7 ارب روپے کا معاشی نقصان ہوا۔ جس میں براہِ راست فوجی اخراجات80 کھرب 64 ارب روپے تھے 20 امریکی فوجی اڈے متاثر ہوئے، 42 طیارے تباہ یا نقصان زدہ ہوئے، اور 1000 سے زائد ٹوماہاک میزائل اور 1500 سے زیادہ فضائی دفاعی میزائل استعمال کیے گئے جن میں پیٹریاٹ نظام کا بڑا حصہ شامل تھا- عالمی معیشت کو اس جنگ سے سالانہ 6117 کھرب 87ارب روپے نقصان ہوا،عالمی شرح نمو کم ہو کر 2.5 فیصد رہ گئی اور خطے میں خلیجی ممالک کو تقریباً 161 کھرب 41 ارب روپے نقصان ہوا جبکہ ایران کی تعمیرِ نو کی لاگت 834 کھرب 90 ارب روپےبتائی گئی-مشرق وسطیٰ کی ترقی 4.5 فیصد سے کم ہو کر 1.3 فیصد تک گرنے کا تخمینہ سامنے آیا.کھاد کی قیمتوں میں 47 فیصد اضافہ ہواکونسل آن فارن ریلیشنز اور نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران جنگ میں امریکا کے 13 فوجی ہلاک ہوئے جبکہ ایران میں 3375 سے زائد افراد شہید ہوئے جن میں 170 ایک اسکول کے بچے بھی شامل ہیں، اسرائیل میں 26 افراد ہلاک ہوئے,جبکہ لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد لگ بھگ 3700 تک پہنچ گئی اور خلیجی ممالک میں درجنوں اموات ہوئیں،عمان کے قریب واقعے میں 3 بھارتی ملاح بھی مارے گئے؛ معاشی طور پر جنگ نے امریکا کو تقریباً367 کھرب 7 ارب روپے (132 ارب ڈالر )کا نقصان پہنچایا، پٹرول کی قیمت اوسطاً 4.56 ڈالر فی گیلن تک گئی اور کھاد کی قیمتوں میں 47 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ عالمی شرح نمو کم ہو کر 2.5 فیصد رہ گئی؛ فوجی اخراجات میں صرف براہِ راست لاگت80 کھرب 64 ارب روپے ( 29ارب ڈالر) رہی جبکہ خطے میں 20 امریکی فوجی اڈے متاثر ہوئے اور 42 طیارے تباہ یا نقصان زدہ ہوئے، نیز امریکا نے ایک ہزار سے زائد ٹوماہاک میزائل اور 1500 سے زیادہ فضائی دفاعی میزائل استعمال کیے جن میں پیٹریاٹ میزائلوں کا نصف سے زیادہ ذخیرہ شامل تھا اور ان کی بحالی میں 6 سال تک لگ سکتے ہیں؛ خطے میں خلیجی ممالک کو تقریباً 161 کھرب 41 ارب روپے(58 ارب ڈالر) نقصان ہوا جبکہ ایران کی تعمیرِ نو کی لاگت 834 کھرب 90 ارب روپے(300 ارب ڈالر )تک بتائی گئی، آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل متاثر ہوئی اور معاہدے کے تحت کم از کم 60 دن تک اس گزرگاہ کو کھولنے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ ایران کو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈ سمیت مالی فوائد بھی حاصل ہوئے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے امریکی صارفین نے مزید 60 ارب ڈالر ادا کیے جو فی گھرانہ اوسطاً 460ڈالر بنتے ہیں عالمی منڈی میں خام تیل ایک مرحلے پر 120ڈالر فی بیرل تک گیا.دی نیشنل کی رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے باعث عالمی معیشت کو سالانہ تقریباً6117 کھرب 87 ارب روپے( 20کھرب 20ارب( 2.2 ٹریلین) ڈالر )کے جی ڈی پی نقصان کا سامنا ہے، جبکہ جزوی طور پر آبنائے ہرمز کھلنے کی صورت میں یہ نقصان3615 کھرب 11ارب روپے( 10 کھرب 30 ارب ڈالر(1.3 ٹریلین) ڈالر )اور جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں9732 کھرب98 ارب روپے( 30 کھرب 50 ارب (3.5 ٹریلین) ڈالر) تک پہنچ سکتا ہے، جو عالمی پیداوار کا تقریباً 0.6 فیصد بنتا ہے؛ انفراسٹرکچر نقصانات میں ایران کو 80 ارب سے 350 ارب ڈالر تک کا نقصان ہوا، قطر کو 15 ارب سے( 167 کھرب روپے)60 ارب ڈالر جبکہ سعودی عرب اور اسرائیل کو بھی زیادہ سے زیادہ 167 کھرب روپے( 60 ارب ڈالر) تک، متحدہ عرب امارات کو 3 ارب سے 35 ارب ڈالر اور عمان کو 50 کروڑ (0.5 ارب) سے 5 ارب ڈالر تک نقصان کا تخمینہ لگایا گیا؛ جی ڈی پی کے لحاظ سے جنگ بندی کی صورت میں ایران کی معیشت 15 فیصد سکڑ کر تقریباً 268 ارب ڈالر کا نقصان اٹھا سکتی ہے جبکہ جنگ دوبارہ شروع ہونے پر یہ سکڑاؤ 25 فیصد اور نقصان 446 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے، اسی صورتحال میں بحرین اور کویت کی معیشتیں 10 فیصد تک سکڑ کر بالترتیب تقریباً 12 ارب اور 28 ارب ڈالر کا نقصان اٹھا سکتی ہیں، قطر کی معیشت 15 فیصد یا تقریباً 54 ارب ڈالر، متحدہ عرب امارات کی 8 فیصد یا 80 ارب ڈالر سے زائد جبکہ سعودی عرب کی 6 فیصد کمی کے ساتھ تقریباً 174 ارب ڈالر نقصان متوقع ہے؛ اس دوران متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے متبادل پائپ لائنز کے ذریعے مجموعی طور پر 70 لاکھ بیرل یومیہ تیل برآمدات بحال کیں۔