• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خراب شہرت ثابت ہونے پر جج کو لازمی ریٹائرمنٹ نہیں برطرف کرنا مناسب سزا، سپریم کورٹ

اسلام آباد(رپورٹ:،رانامسعود حسین) سپریم کورٹ نے سابق ایڈیشنل اینڈ سیشن جج میلسی افضل زاہد کی برطرفی ʼʼ کے خلاف اپیلوں کا فیصلے جاری کرتے ہوئے قراردیاہے کہ خراب شہرت ثابت ہونے پر جج کو لازمی ریٹائرمنٹ نہیں، برطرف کرنا مناسب سزا  ہے  خراب شہرت رکھنے والا جج عدالتی منصب پر برقرار نہیں رہ سکتا ، جج کے لیے صرف بدعنوانی کے الزامات سے بچنا ہی کافی نہیں، اس کا بے داغ کردار اور معاشرے میں اچھی شہرت ہونا بھی لازمی ہے، اگر کسی جج کی ساکھ اور شہرت خراب ہو جائے، تو اسے اس عہدہ پر برقرار رکھنا عدالتی نظام کی اخلاقیات اور عوامی اعتماد کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے،جج کا دامن صرف ثابت شدہ بدعنوانی سے ہی داغدار نہیں ہوتا بلکہ خراب شہرت بھی عدلیہ کے وقار کو تاریک کر دیتی ہے،سپریم کورٹ نے جمعہ کے روزپنجاب کی تحصیل میلسی کے سابق جج کی برطرفی کی سزا برقرار،جج کی بحالی اور منفی ریمارکس ختم کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں ،9صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے قلمبند کیا ۔جس میں آبزرویشن دی گئی کہ عوام عدالتوں میں قوانین سے بحث کرنے نہیں آتے، بلکہ وہ جج کے لبادے میں بیٹھے ایک انسانی ضمیر کو سننے آتے ہیں، اگر اسی ضمیر پر شک پیدا ہو جائے، تو پورا قانون ہی مشکوک ہو جاتا ہے، عدلیہ اپنی طاقت بندوق یا فوج سے نہیں، بلکہ عوامی ساکھ اور اخلاقی جواز سے لیتی ہے، خراب شہرت کے حامل جج کو مراعات کے ساتھ ʼʼلازمی ریٹائرمنٹʼʼدینا اس بات کا تاثر دیتا ہے کہ عدلیہ میں شہرت یا دیانت داری پر سودے بازی کی جا سکتی ہے، جو کہ قانون کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے، جب ایک بدنام یا کرپٹ جج کو نوکری سے ʼʼبرطرفʼʼکیا جاتا ہے، تو عدالتی ادارہ اپنے جسم سے ایک ʼʼکینسر زدہ رسولیʼʼ کو کاٹ کر پھینکتا ہے، جس سے ادارے کی شفا ء یابی شروع ہوجاتی ہے، فیصلے میں قرآن و حدیث اور اسلامی فقہ کا تفصیلی حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا گیاہے کہ اسلام میں جج کا عہدہ محض نوکری نہیں بلکہ مقدس امانت اور عبادت ہے، فیصلے میں سورہ النسا کی آیت نمبر 58 کا حوالہ دیا گیاہے جس میں اللہ تعالی امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچانے اور لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حکم دیتا ہے،عدالت نے ایک مشہور حدیث نقل کی ہے کہ جج دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک جنتی (جو حق کو پہچان کر حق کے مطابق فیصلہ کرے)، دوسرا جہنمی(جو جہالت یا ناانصافی سے فیصلہ کرے )، عدالت نے قراردیاہے کہ علم کے ساتھ تقوی اور راست بازی لازم ہے، امام الماوردی اور ابن قدامہ جیسے عظیم اسلامی فقہا کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اگر کسی قاضی(جج)کے کردار کی وجہ سے عوام میں اس کی دیانت داری کا شک پیدا ہو جائے، تو اسے فوری طور پر عہدے سے ہٹا دینا واجب ہے، کسی نااہل یا بدنام شخص کوجج کے عہدہ پر برقرار رکھنا خدا اور اس کے رسو ل اور مسلم امہ کی امانت میں خیانت کے مترادف ہے، عدالت نے قراردیاہے کہ جج کا معیار صرف بے گناہی نہیں بلکہ ہر قسم کے شکوک و شبہات سے بالاتر ہونا ہے،ایک جج کی دیانت تقسیم نہیں ہو سکتی، وہ یا تو مکمل ہوتی ہے یا بالکل نہیں ہوتی،عدالت نے قراردیاہے کہ عدلیہ قوت سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد سے قائم رہتی ہے، اگر یہ اعتماد مجروح ہو جائے تو جج کو عہدے پر نہیں رکھا جا سکتا،یاد رہے کہ سابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل زاہدکے خلاف رشوت لینے کی متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں، جس پر لاہور ہائی کورٹ نے اس کی خصوصی نگرانی کا حکم دیا تھا ،جس میں سہ ماہی رپورٹوں میں اس کی شہرت خراب پائی گئی ،اگرچہ محکمانہ انکوائری میں اس پر بدعنوانی کا براہِ راست الزام تو ثابت نہ ہو سکا، تاہم اسکی خراب شہرت اور مشتبہ دیانت کا الزام سچ ثابت ہونے پر مجاز اتھارٹی نے اسے برطرف کر دیا تھا،جسکے خلاف اپیل پر سروس ٹربیونل نے اس کی برطرفی کی سزا کو ریٹائرمنٹ میں بدل دیا تھا، جس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ نے اپنے رجسٹرار کے وسط یہ اپیل دائر کی تھی جبکہ جج نے بحالی اور منفی ریمارکس ختم کرنے سے متعلق اپیل دائر کی تھی۔

اہم خبریں سے مزید