• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

KP حکومت کا وفاق کو 175 ارب کی منتقلی کے معاہدے کیلئے شرائط رکھنے کا فیصلہ

اسلام آباد (عاصم جاوید) خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق کو175ارب روپے کی منتقلی کے معاہدے پر دستخط کیلئے سخت شرائط رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ ان شرائط میں سابق فاٹا کے صوبے میں ضم شدہ اضلاع کے حصہ 300 ارب روپے کی فراہمی، عمران خان کی شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی، قید تنہائی کے خاتمے، فیملی، وکلاء، سیاسی رفقاء سے ملاقاتوں اور بیٹوں سے ٹیلیفونک رابطے کی بحالی شامل ہیں، ہر ہفتے اہل خانہ کے 6 افراد، 6 وکلاء اور 6 دوستوں (سیاسی ساتھیوں) سے ملاقات، بیٹوں کے ساتھ ہفتہ وار ٹیلیفونک رابطے اور کتابوں، اخبارات اور دیگر مطالعے کے مواد تک رسائی فوری بحالی بھی شرائط کاحصہ ہیں ۔ اس بات کا انکشاف بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے کیا۔ جمعہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر انہوں نے بتایا کہ ‏گزشتہ روز ہماری فیملی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں خیبر پختونخوا کے وزراء سے ملاقات کی جس میں عمران خان کے تمام قانونی اور جائز جیل حقوق کی بحالی کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ علیمہ خان نے دعوی کیا کہ وزراء نے پیشرفت سے آگاہ کیا کہ خیبر پختونخوا کا کوئی اضافی (سرپلس) بجٹ نہیں ہو گا، کیونکہ عمران خان نے ہمیشہ ہدایت دی ہے کہ تمام دستیاب وسائل خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی، فلاح و بہبود اور خوشحالی پر خرچ کئے جائیں۔ علیمہ خان کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کی جانب سے طلب کردہ 175 ارب روپے کی منتقلی کے لئے کسی بھی معاہدے پر اس وقت تک دستخط نہیں کرے گی جب تک خیبر پختونخوا کو ضم شدہ اضلاع (سابق فاٹا) کے لئے موجودہ مالی سال کا مکمل حصہ تقریباً 300 ارب روپے فراہم نہ کیا جائے۔

اہم خبریں سے مزید