• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تہران مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے لیے تیار ہے، واشنگٹن بھی سنجیدہ رویہ اختیار کرے: علی بحرینی

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر علی بحرینی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں نے ایران اور امریکا کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا تھا۔

 بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران صدر ٹرمپ کے بیانات نے اعتماد سازی کے عمل کو متاثر کیا اور بات چیت کے ماحول پر منفی اثرات مرتب کیے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ تہران مذاکراتی عمل جاری رکھنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ واشنگٹن تعمیری اور سنجیدہ رویہ اختیار کرے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مذاکرات میں شریک فریقین اس وقت مفاہمتی یادداشت (MoU) کی تمام شقوں پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے بعد جوہری پروگرام سے متعلق حساس معاملات پر باضابطہ پیش رفت کی جائے گی۔

علی بحرینی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں، لیکن سفارتی ذرائع مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ اتوار کو مذاکرات کے آغاز کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان جاری کرتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ لبنان میں اپنے اتحادی گروپوں، بالخصوص حزب اللّٰہ کی سرگرمیاں فوری طور پر بند کروائے۔

ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کر سکتا ہے، جو گزشتہ ہفتے کیے گئے اقدامات سے بھی زیادہ شدید ہوگی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید