پشاور(سٹاف رپورٹر)بنوں سے پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی اور ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی (DDAC) کے چیئرمین ملک زاہد اللہ خان وزیر نے 13 کروڑ 50 لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز کی مبینہ غیر مجاز منتقلی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ڈپٹی کمشنر بنوں کو ارسال کردہ تحریری مراسلے میں ایم پی اے نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اے ایس ڈی آئی پروگرام کے تحت ایک ہی اسکیم کے لیے 135 ملین روپے کی رقم اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ تحصیل ڈومیل کو ڈپٹی کمشنر کی انتظامی منظوری اور ریلیز لیٹر کے بغیر منتقل کی گئی جو قواعد و ضوابط کے برعکس ہے۔مراسلے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ضلعی اکاؤنٹس آفس، اے ڈی سی فنانس اینڈ پلاننگ آفس اور اے ڈی لوکل گورنمنٹ ڈومیل کے ریکارڈ میں فنڈز کی ریلیز سے متعلق ضروری دستاویزات موجود نہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ رقم کچہری اور کمشنر آفس کی عمارت کی تعمیر کے لیے جاری کی گئی حالانکہ متعلقہ محکمہ اس نوعیت کے تعمیراتی کام کا مجاز ادارہ نہیں۔ایم پی اے نے الزام عائد کیا ہے کہ فنڈز کی ریلیز ٹینڈر کے بغیر کی گئی اور مطلوبہ انتظامی منظوریوں کا بھی ریکارڈ دستیاب نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی فوری انکوائری کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کو مکمل طور پر قواعد کے مطابق یقینی بنایا جائے۔مراسلے کی نقول چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اور دیگر اعلیٰ حکام کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔