• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گندم کی ذخیرہ اندوزی، کراچی میں آٹا بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آٹا 170 روپے تک فروخت

کراچی ( سہیل افضل ) گندم کی بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی کے باعث شہر میں آٹے کےبحران کا خدشہ بڑھ گیا، ایسوسی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ گندم کا بحران حکومتی پالیسی کا نتیجہ ہے ،حکومت نے فلور مل مالکان کے ساتھ ٹریڈرز کو بھی گندم خریدنے کی اجازت دی جس کی وجہ سے ٹریڈرز نے بڑے پیمانے پر گندم خرید کر ذخیرہ کر لیا ہے ، دوسری جانب ، فلور ملز اور چکی مالکان نے سرکاری نرخوں پر آٹے کی فروخت کو ناممکن قرار دے دیا ، فلور ملز اور آٹا چکی مالکان کا کہنا ہے کہ اگر اوپن مارکیٹ میں گندم کی موجودہ قیمتوں کو مدنظر رکھے بغیر سرکاری نرخ نافذ کرنے پر اصرار کیا گیا تو شہر میں آٹے کی قلت، مارکیٹ میں افراتفری اور چھوٹی فلور ملز و چکیوں کی بندش جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں،شہر میں سرکاری نرخ پر آٹا کہیں بھی دستیاب نہیں ،شہر میں ڈھائی نمبر آٹا 145 سے 150روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے، فائن آٹا 160 سے170 روپے کلو،اور چکی آٹا 170روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے ، فلور ملز ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 116 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جبکہ فلور ملز کو سرکاری گندم دستیاب نہیں۔ ایسے حالات میں سرکاری نرخوں پر آٹا فروخت کرنا ممکن نہیں رہا۔ اس وقت سپر ریگولر آٹے کی ایکس مل قیمت تقریباً 135 روپے جبکہ فائن آٹے کی ایکس مل قیمت 144 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، اس لیے مقررہ سرکاری نرخ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے، آٹا چکی ایسوسی ایشن کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ چھوٹی چکی مالکان کو گندم تقریباً 125 روپے فی کلو کے حساب سے مل رہی ہے، جس میں پسائی، بجلی، مزدوری، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات شامل کرنے کے بعد فی کلو آٹے کی لاگت تقریباً 160 روپے تک پہنچ جاتی ہے اس لئے چھوٹی چکی آٹا 170 روپے فی کلو سے کم میں فروخت ممکن نہیںدریں اثنا سندھ حکومت کی ہدایات پر کراچی انتظامیہ نے گندم کے آٹے کی سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے اور گراں فروشی، زائد قیمت وصولی، ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور دیگر خلاف ورزیوں کے خلاف شہر بھر میں کارروائیاں مزید تیز کردی ہیں۔جمعہ کو جاری مجموعی رپورٹ کے مطابق کراچی کے ساتوں اضلاع میں فلور ملز، آٹا چکیوں، تھوک فروشوں، پرچون فروشوں اور آٹے کے دیگر فروخت مراکز کی مجموعی طور پر 673 انسپکشنز کی گئیں۔ انسپکشنز کے دوران 143 خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جن پر سرکاری نرخوں اور متعلقہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے کاروباری اداروں پر مجموعی طور پر 12 لاکھ 5ہزار روپے جرمانے عائد کیے گئے۔ سنگین خلاف ورزیوں پر دو کاروباری مراکز کو سیل کیا گیا جبکہ 144اداروں کو نوٹس جاری کیے گئے ۔کارروائیوں کے دوران سرکاری نرخ سے زائد قیمت وصول کرنے والے دکانداروں کے خلاف موقع پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ بعض کاروباری اداروں کو محکمہ خوراک سے مطلوبہ لائسنس حاصل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔ضلعی اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ انسپکشنز ضلع کورنگی میں کی گئیں۔

اہم خبریں سے مزید