کندھ کوٹ/جیکب آباد/شکارپور (اے پی پی) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی اپیل پر سندھ بھر کی طرح ضلع کشمور-کندھ کوٹ، جیکب آباد اور شکارپور میں بھی "مرسوں مرسوں، سندھ کا پانی نہ ڈیسوں" اور "پانی پر ڈاکہ نامنظور" کے نعروں کے ساتھ بڑیاحتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ ریلیوں میں ہزاروں کارکنوں، شہریوں اور پارٹی رہنماؤں نے شرکت کرتے ہوئے بھارت کی آبی جارحیت کو مسترد کیا اور سندھ کے آبی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔ضلع کشمور کندھ کوٹ میں ریلی کی قیادت پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر میر گل محمد خان جکھرانی اور ضلعی جنرل سیکریٹری میر الطاف خان کھوسو نے کی، جبکہ تعلقہ تنگوانی کے صدر اعجاز علی خان دہانی کی کاوشوں سے تنگوانی، کرم پور اور گردونواح کے علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں کارکن شریک ہوئے۔ ریلی پیپلز پارٹی آفس سے شروع ہو کر پریس کلب پہنچی، جہاں میر گل محمد خان جکھرانی، میر الطاف خان کھوسو، ڈویژنل نائب صدر میر رحمت اللہ خان ڈومکی، ضلعی انفارمیشن سیکریٹری رضا مراد چاچڑ، شفقت حسین میرانی اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ملک اور عوام کے حقوق کی محافظ ہے، بھارت کی آبی جارحیت پاکستان کے خلاف سازش ہے اور بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔ رہنماؤں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری ملک کے مستقبل کے وزیر اعظم ہیں اور ان کی قیادت میں پاکستان موجودہ مشکلات سے نکل آئے گا۔جیکب آباد میں احتجاجی ریلی ایم این اے میر اعجاز خان جکھرانی ہاؤس سے نکالی گئی، جس کی قیادت ضلعی جنرل سیکریٹری سردار زادہ میر رضوان خان اوڈھو، تعلقہ صدر ٹھل میر برکت دشتی اور دیگر پارٹی عہدیداروں نے کی۔ ریلی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی پریس کلب پہنچی، جہاں وائس چیئرمین ضلع کونسل و ضلعی جنرل سیکریٹری میر رضوان خان اوڈھو، مزمل حسین بنگلانی، بابر تھہیم، شوکت گھنیو اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے پاکستان کے آبی حقوق پر حملہ آور ہوا ہے۔