• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی مسلسل بندش کو 37 روز مکمل

چناری ( آن لائن ) آزاد کشمیر میں مسلسل انٹر نیٹ بندش کو37روز مکمل ہو گئے،عوام، طلبہ، کاروباری طبقہ، صحافی،آن لائن روزگار سے وابستہ ہزاروں افراد شدید مشکلات سے دوچار،ایس سی او کے علاوہ دیگر موبائل کمپنیز آزاد کشمیر کے عوام کے کروڑوں روپے کھا گئیں،انٹرنیٹ صارفین کا کہنا ہے کہ بندش کے دوران فعال انٹرنیٹ پیکجز استعمال نہ ہونے کے باعث لاکھوں صارفین کو مجموعی طور پر کروڑوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے،عوامی، سماجی، سیاسی حلقوں کے مطابق 6 جون سے جاری انٹرنیٹ بندش کے باعث نہ صرف معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے بلکہ آزاد کشمیر میں جاری سیاسی سرگرمیوں،انتخابی مہم پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں،مختلف سیاسی جماعتوں، امیدواروں کی آن لائن انتخابی مہم تقریبا معطل ہو کر رہ گئی ہے،جبکہ عوام تک بروقت معلومات کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے،آزاد کشمیر اور باالخصوص دور دراز علاقوں میں موبائل،جی پان،ڈی ایس ایل انٹرنیٹ فراہم کرنے والے ادارے ( ایس سی او ) نے جی پان،ڈی ایس ایل انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین سے جون کے مہینے کے بل میں انٹرنیٹ چارجز وصول نہیں کیے، اس حوالہ سے ایس سی او نے صارفین کو بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا تھا کہ جی پان،ڈی ایس ایل انٹر نیٹ سروس میں تعطل کی وجہ سے جن دنوں سروس دستیاب نہیں تھی ان دنوں کے چارجز وصول نہیں کیے جائیں گے،ایس سی او کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے انٹرنیٹ صارفین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی دیگر کمپنیز بھی ایس سی او کی طرح صارفین کی وہ رقومات واپس کریں یا انٹرنیٹ بحالی کے بعد ایڈجسٹ کریں جو چھ جون سے انٹرنیٹ بندش کی وجہ سے عوام کے پیکجز غیر فعال ہونے سے ضائع ہو چکے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید