کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ و صدر پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہ دریائے سندھ کا پانی صرف صوبہ سندھ اور کراچی کا مسئلہ نہیں ہے، 25 کروڑ عوام کے پینے کا پانی اور ان کی فصلوں کو پانی دریائے سندھ سے ملتا ہے، سندھ طاس معاہدے میں پاکستان اور بھارت کے پاس یہ اختیار نہیں وہ اس کو نہیں مانیں معاہدے کے مطابق اگر کچھ تبدیلی کرنی ہے تو دونوں ممالک کا متفق ہونا ضروری ہے دنیا کا کوئی قانون کوئی مذہب بھارت کا اجازت نہیں دیتا کہ وہ یہ معاہدہ معطل کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی ہدایت پر بھارتی آبی جارحیت کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی کے تحت نکالی جانے والی "مرسوں مرسوں سندھو نہ ڈیسوں" ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ریلی سندھ اسمبلی بلڈنگ تا کراچی پریس کلب نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن و وزیر محنت و افرادی قوت سعید غنی نے کی، اس موقع پر ڈسٹرکٹ سائوتھ کے صدر جاوید ناگوری، جنرل سیکرٹری تیمور سیال، عبد المجید ملا، فرید میمن، اسلم سموں، خلیل ہوت و دیگر کے علاؤہ کارکنان اور عوام کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔