اسلام آباد (فاروق اقدس) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مودی غیر ملکی دوروں میں پریس کانفرنس میں صرف لکھا ہوا مواد پڑھتے ہیں ان کے مخالفین تنقید کی گہری نگاہ رکھتے ہیںمیڈیا کے سوالوں پر خاموشی عالمی میڈیا میں تنقیدی موضوع بن گیا اوزیراعظم مودی کے حالیہ سہ ملکی دورے کے دوران آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں اپنے وزیراعظم کے دورے کے حوالے سے وہاں بھارتی ہائی کمیشن نے ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا تھا جس میں بھارتی وزارتِ خارجہ کے حکام نے مقامی اور غیر ملکی صحافیوں کو دورے کی تفصیلات سے آگاہ کیا اس موقع پر نیوزی لینڈ کے ایک صحافی نے بھارتی وزیراعظم کی میڈیا ٹاک کے حوالے سے ان سے سوال کیا کہ آپ کے وزیراعظم باضابطہ طور پر خود پریس کانفرنس کیوں نہیں کرتے؟ گو کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ایک افسر نے سفارتی چالاکی کے ساتھ یہ جواب دے کر کہ, وزیراعظم کے سیاسی انداز پر تبصرہ کرنا بطور سرکاری ملازم میرے دائرہ اختیار سے باہر ہے تاہم وزیراعظم ایک ہندوستانی سیاستدان ہیں جو عوام کے ساتھ براہ راست رابطے کو ترجیح دیتے ہیں انہوں نے اپنے طور پر یہ معاملہ ختم کر دیا تاہم درحقیقت یہاں سے معاملہ شروع ہوا تھا کیونکہ یہ پہلا موقع نہیں جب اسی نوعیت کا استفسار بھارتی وزیراعظم سے پہلے بھی کئ مواقعوں پرکیا جا چکا ہے دو ماہ قبل جب وہ ناروے کے دورے پر اپنے نارویجن ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے تھے تو انہوں نے لکھا ہوا بریف پڑھنے پر اکتفا کیا تو معروف نارویجن خاتون صحافی ہیلے لینگ نے جو ان سے بھارت میں آزادی اظہار کے حوالے سے جاننا چاہتی تھی ان سے سوال کیا کہ وہ میڈیا کے سوالات کیوں نہیں لے رہے لیکن مودی خاموشی کے ساتھ پوڈیم سے اتر کر کمرے سے باہر نکل گئے اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر میڈیا کی آزادی اور سوالات کرنے اور جواب نہ ملنے کے حوالے سے بحث چھیڑ دی اس حوالے سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی غیر سکرپٹڈ پریس کانفرنسوں سے مسلسل گریز کی پالیسی ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے ۔