• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ریفائنری پالیسی میں 6 نئی شقیں شامل کرنیکی تجویز، 6 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی راہ ہموار

اسلام آباد (خالد مصطفی) ریفائنری پالیسی میں 6 نئی شقیں شامل کرنیکی تجویز، 6 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی راہ ہموار، پیٹرولیم ڈویژن نے منظوری کے لیے 129 صفحات پر مشتمل سمری کابینہ کمیٹی برائے توانائی کو بھجوا دی۔ حکومت نے 7 سالہ مراعاتی پیکیج کی تجویز دیدی، استحکام اور برابری کی شقوں سے سرمایہ کاروں کو تحفظ ملے گا۔ حکومت نے ملک کی آئل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن کے لیے تقریباً 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کی غرض سے براؤن فیلڈ ریفائننگ پالیسی 2023 میں چھ نئی شقیں شامل کرنے کی تجویز دی ہے، جن میں استحکام اور برابری کی شقیں بھی شامل ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن نے اس حوالے سے 129 صفحات پر مشتمل سمری منظوری کے لیے کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) کو بھجوا دی ہے۔ اس کی منظوری کے بعد مقامی ریفائنریوں اور اوگرا کے درمیان اپ گریڈ معاہدوں پر دستخط کی راہ ہموار ہوگی۔ سی سی او ای کو سمری بھیجنے سے قبل اسے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی)، وزارت خزانہ، نیشنل کرائسز مینجمنٹ کمیٹی، وزارت قانون و انصاف، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سے مشاورت کے لیے بھیجا گیا تھا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ایس آئی ایف سی نے سفارش کی ہے کہ جن ریفائنریوں نے دستاویزی ثبوت کے ساتھ اپ گریڈ معاہدوں پر دستخط کی آمادگی ظاہر کی تھی لیکن 22 اکتوبر 2024 کی ڈیڈ لائن پوری نہ کر سکیں، انہیں سزا نہ دی جائے۔ ایسی ریفائنریوں کے لیے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 7.5 فیصد تصوراتی ڈیوٹی کو کم کرکے 5 فیصد کرنے کا اطلاق ماضی سے نہیں بلکہ معاہدے پر دستخط کی تاریخ سے کیا جائے۔ تاہم حکام کے مطابق اس متنازع معاملے پر حتمی فیصلہ سی سی او ای کرے گی۔ 129 صفحات پر مشتمل مسودے میں موجودہ ریفائنریوں کو سات سالہ مالی مراعاتی پیکیج دینے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے بدلے وہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرکے یورو فائیو معیار کے ایندھن تیار کریں گی۔ اس کے ساتھ اوگرا کے ساتھ قانونی طور پر لازم اپ گریڈ معاہدوں کے ذریعے نگرانی، عملدرآمد اور احتساب کا نیا نظام بھی نافذ کیا جائے گا۔ منظوری کے بعد یہ ترامیم ریفائننگ پالیسی 2023 کی جگہ لے لیں گی۔ حکومت کا مقصد پرانی ریفائنریوں کو جدید بنانا، موٹر پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی پیداوار بڑھانا، فرنس آئل کی پیداوار نمایاں طور پر کم کرنا، ایندھن کا معیار بہتر بنانا اور ملک کی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ ترامیم حکومت اور ریفائنری صنعت کے درمیان کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہیں۔ ریفائنریوں کا مؤقف تھا کہ فنانس ایکٹ 2024 میں کی گئی تبدیلیوں نے تقریباً 6 ارب ڈالر کی مجوزہ سرمایہ کاری کو معاشی طور پر غیر موزوں بنا دیا تھا۔ اپ گریڈ معاہدے کی شرائط کے مطابق ترمیمی پالیسی کے تحت اپ گریڈیشن، جدید کاری یا توسیع کرنے والی تمام موجودہ ریفائنریاں مراعات کی اہل ہوں گی، بشرطیکہ وہ پالیسی کے نوٹیفکیشن کے 90 دن کے اندر اوگرا کے ساتھ قانونی اپ گریڈ معاہدہ کریں۔ ان معاہدوں میں ریفائنری کی ترتیب، صلاحیت، یورو فائیو ایندھن کی پیداوار، فرنس آئل میں کمی، منصوبے کے مراحل، ٹائم لائن، فرنٹ اینڈ انجینئرنگ ڈیزائن (FEED)، مالی بندوبست، انجینئرنگ، خریداری، تعمیر، منصوبہ جاتی انتظام اور منصوبہ مکمل ہونے کے بعد مصنوعات کی تفصیلات درج ہوں گی۔ چھ نئی تجاویز میں سب سے اہم استحکام اور برابری کی شقیں ہیں، جن کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی قرض دہندگان کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ استحکام کی شق کے تحت اگر حکومت ٹیکس، مالیاتی پالیسی، ماحولیاتی قوانین، لائسنسنگ، زرمبادلہ کے ضوابط یا دیگر حکومتی اقدامات میں ایسی تبدیلی کرے جو منصوبے کی لاگت یا مدت کو متاثر کریں، تو ریفائنریوں کو تحفظ حاصل ہوگا۔ اپ گریڈ معاہدوں میں سیاسی فورس میجر، طویل فورس میجر، حکومتی تاخیر اور باہمی رضامندی سے منصوبے سے نکلنے کے طریقہ کار کی شقیں بھی شامل ہوں گی۔ پالیسی کے تحت ریفائنریوں کو ملکی بینکوں میں غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت ہوگی تاکہ وہ اپنے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کرسکیں۔ ان اکاؤنٹس میں ایک سال کی قرض ادائیگی کے برابر رقم رکھی جاسکے گی، جس میں فرنس آئل کی برآمد سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی شامل ہوسکے گی۔

اہم خبریں سے مزید