اسلام آباد (قاسم عباسی) پاکستان ریلویز میں 18ارب روپے کا بڑا مالیاتی تضاد بے نقاب، ریلوے میں 7 سال کے دوران شدید غفلت، سرمایہ بلاک اور دھوکہ دہی کے کیسز سامنے آ گئے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلویز کے اسٹورز کی انوینٹری (سامان کے اسٹاک) سے متعلق آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی تازہ ترین رپورٹ میں ایک بڑا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق ادارے کے سرکاری ریکارڈ اور اس کے اصل مالیاتی گوشواروں کے درمیان 18 ارب روپے سے زائد کا واضح اور بڑا فرق پایا گیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف آڈٹ ریلوے لاہور کی جانب سے کیے جانے والے اس آڈٹ میں مالیاتی سال 2016-17 سے 2022-23 تک کے عرصے کا احاطہ کیا گیا ہے۔ آڈٹ کی رپورٹس سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ محکمے کے 28 اسٹور ڈپوؤں میں اندرونی کنٹرول کی شدید ناکامی، اربوں روپے کے حساب کتاب میں تضاد، سرمائے کا جمود (بلاک ہونا) اور مبینہ طور پر دھوکہ دہی اور خورد برد جیسے سنگین معاملات پائے گئے ہیں۔ مالیاتی تضاد کی بنیادی وجہ پاکستان ریلویز کے مادی طور پر سامان کی جانچ پڑتال کرنے والے نظام (فزیکل ٹریکنگ سسٹم) اور اس کے کھاتوں کے درمیان ایک بہت بڑا تضاد ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 30 جون 2023 تک ’’مٹیریل اکاؤنٹنگ سسٹم‘‘ نے پاکستان ریلویز کی کل انوینٹری کی مالیت 4804.73 روپے ریکارڈ کی تھی۔ اس کے برعکس، ادارے کے سرکاری مالیاتی گوشواروں میں اسی انوینٹری کی مالیت حیران کن طور پر 23462.07 ملین روپے بتائی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں 18657.34 ملین روپے کا ایک ایسا تضاد سامنے آیا ہے جس کی کوئی وضاحت نہیں دی جا سکی، اور یہ فرق 2019 کے اختتامی بیلنس کے مقابلے میں حساب کتاب کے حساب سے 29 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں اسٹرکچرل غفلت (نظامی کوتاہی) کے نتیجے میں ہونے والی بڑی مالی بے قاعدگیوں اور نقصانات کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں، جو کہ درج ذیل ہیں:’’1) انوینٹری کی غلط رپورٹنگ: حتمی مالیاتی گوشواروں میں 23462.08 ملین روپے کی ایک خطیر رقم کو انوینٹری (سامان کے اسٹاک) کے اعداد و شمار کے طور پر غلط رپورٹ کیا گیا تھا۔2) اسکریپ (کباڑ) کی فروخت میں سنگین خامیاں: مارکیٹ سروے کیے بغیر، کم از کم قیمت (ریزرو پرائس) مقرر کیے بغیر اور ٹینڈر کی درست دستاویزات تیار کیےبغیر 1468.05 ملین روپے مالیت کا اسکریپ فروخت کیا گیا۔ مزید برآں، اسکریپ کی فروخت میں واضح طور پر دھوکہ دہی اور خورد برد کے کیسز بھی سامنے آئے جن کی مالیت 82.33 ملین روپے ہے۔3) غیر تصدیق شدہ ایڈجسٹمنٹس: مٹیریل اکاؤنٹنگ سسٹم کے اندر براہِ راست 1407.69 ملین روپے کی غیر مجاز اور غیر تصدیق شدہ ایڈجسٹمنٹس (حساب کتاب میں ردوبدل) کی گئیں۔4) غفلت اور ضیاع: اسٹیکنگ (سامان ترتیب سے رکھنے) اور اسٹوریج (گوداموں) کی سہولیات کی مکمل عدم دستیابی کے باعث 876.26 ملین روپے مالیت کا ٹریک کا سامان کھلے آسمان تلے پڑا پڑا خراب ہو گیا۔