لاہور ،پھول نگر(نمائندہ خصوصی،نامہ نگار) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک میں عوامی مینڈیٹ، آئین اور جمہوری اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے، جبکہ مہنگائی، بدامنی اور معاشی بحران نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، انتخابی عمل میں دھاندلی کے باعث عوام کا اعتماد مجروح ہوا، ٹیکسوں کے بوجھ کے باوجود عوام کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابی عمل میں دھاندلی کے باعث عوام کا اعتماد مجروح ہوا، اسی لیے موجودہ حکومت کو عوامی تائید حاصل نہیں۔وہ گزشتہ روز قصور کے علاقے پھول نگر میں تحفظ مدارس دینیہ و عوامی حقوق کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پنجاب کے عوام کے رویوں میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں اور عوام جاگیردارانہ اور روایتی سیاسی نظام سے نجات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کسانوں، مزدوروں اور محروم طبقات کے حقوق کی جنگ لڑے گی اور کسی بھی طاقتور طبقے کو عام آدمی کے استحصال کی اجازت نہیں دے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فرقہ واریت، لسانیت اور نفرت کی سیاست کے خاتمے میں جمعیت علماء اسلام نے اہم کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی ملک کو بیرونی دباؤ اور مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا فرض عوام کے حقوق کا تحفظ ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے کے لیے صرف طاقت کا استعمال کافی نہیں بلکہ سیاسی مفاہمت، عوامی اعتماد اور مؤثر سفارت کاری کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی، پٹرول اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے، جبکہ ٹیکسوں کے بوجھ کے باوجود عوام کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اس لیے ٹیکس دینے سے گریزاں ہیں کیونکہ انہیں یقین نہیں کہ ان کا سرمایہ ان کی فلاح پر خرچ ہوگا۔جمعیت علماء اسلام کے سربراہ نے پنجاب میں زیر غور عادی مجرم قانون پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے انتظامیہ کو غیر معمولی اختیارات مل جائیں گے اور عدلیہ کا کردار متاثر ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے قوانین مستقبل میں خود حکمرانوں کے لیے بھی مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔مدارس دینیہ کی رجسٹریشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی منظور کردہ قانون سازی کے باوجود انتظامیہ مدارس کی رجسٹریشن میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے، جو قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔