لاہور(نمائندہ خصوصی) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی زیر صدارت مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گرینڈ جرگہ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت سے رابطہ کرے گا۔ آزاد کشمیر مسائل کا حل اور ہر صورت امن کا قیام جرگہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،12 سیٹوں کے مسئلہ کا کوئی قابل عمل حل نکل آئے گا، حکمران جان لیں کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہوتا، ضد اور انا کو ایک طرف کیجیے۔آزاد کشمیر کی صورت حال سے مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جارہا ہے۔امیر جماعت اسلامی نے لائحہ عمل پر پیش رفت کے لیے نائب امیر لیاقت بلوچ کی سربراہی میں کمیٹی بھی قائم کی ہے۔ ڈاکٹر محمد مشتاق خان امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر اور سابق امراء آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی اور ڈاکٹر خالد محمود کمیٹی کے ذمہ داران میں شامل ہیں۔ حافظ نعیم نے حکومت پر زور دیا ہے کہ آزادکشمیر کے حالات کو معمول پر لانے کے لیے ہر صورت میں مذاکرات کا آغاز کرے۔ قبل ازیں امیر جماعت اسلامی کی صدارت میں منعقدہ مجلس شوریٰ اجلاس نے آزاد کشمیر کے حالات کا بغور جائزہ لیا اور خطہ میں جاری صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ممبران شوریٰ نے واضح کیا قضیہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ، جماعت اسلامی کے کارکنان اور دیگر لاکھوں لوگوں نے کشمیر کے لیے خون بہایا ، آزاد کشمیر کی صورت حال سے مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جارہا ہے ایسے میں جماعت اسلامی خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ کشمیر ، پاکستان کی شہ رگ ہے ، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ریاست ماں کا کرداد ادا کرے ، ناراض لوگوں کو گلے لگائے، بلوچستان ، کے پی کی صورتحال سب کے سامنے ہے اور اب آزاد کشمیر کے حالات خراب بنا دئیے گے،پاکستان اپنے گھر میں ہی مزید دشمنیوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے جماعت اسلامی کی جانب سے پہلے سے تشکیل شدہ کمیٹی کو مزید وسعت دینے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی میں آزاد کشمیر کے سابق سول بیوروکریٹس، ریٹائرڈ ججز ، عسکری شخصیات اور سول سوسائٹی کے افراد کو شامل کیا جائے گا اور کمیٹی جلد راولاکوٹ جا کر جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کرکے حالات کو معمول پر لانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید واضح کیا کہ اگرچہ بارہ سیٹوں کے مسئلہ پر مظاہرین کے چند اعتراضات کافی حد تک جائز ہیں تاہم یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر اور مہاجرین کی نمائندگی ہی نہ ہو۔