تہران (اے ایف پی، جنگ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےبرطانیہ سمیت عالمی رد عمل کے بعد آبنائے ہرمز میں20فیصد ٹیکس وصولی کا فیصلہ واپس لے لیا، ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکس کو امریکا میں خلیجی ملکوں کی سرمایہ کاری کے معاہدوں سے بدلنے کا اعلان کیا ، انہوں نے کہا یہ سرمایہ کاریاں خلیجی ملکوں کے لیے غیر معمولی اور بہترین ہوں گی،ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا، جس کا آغاز منگل کی شام سے ہونا تھا، تاہم انہوں نے کہا کہ ایران کیساتھ مذاکرات کے ذریعے معاہدہ اب بھی ممکن ہے، ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایرانی افواج آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنے مؤقف سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گی،آبنائے ہرمز جنگ، شرارت یا امریکی دبائو کے ذریعے دوبارہ نہیں کھلے گی، اس اہم آبی گزرگاہ کی بحالی کا واحد راستہ ایرانی عوام کے حقوق کا احترام اور ایران کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا ہے،دوسری جانب امریکا کی جانب سے ایران پر نئے حملے کئے گئے ہیں ، تازہ حملوں میں 3افراد شہید ہوگئے، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایرانی رہنماؤں کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے ان کے ملک پر حملہ کیا تو اسرائیل ان پر کاری ضرب لگائے گا،عرب میڈیا کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے ایرانی جزیروں قشم اور کیش پر بمباری کی ہے، امریکی طیاروں نے کیش بندرگاہ میں لنگر انداز کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے،ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین، کویت، عمان اور اردن پر ڈرون اور میزائل داغ دیئے، ایران کےمطابق انہوں نے خلیج میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا ہے ، آبنائے ہرمز میں عمانی پانیوں میں دو جہازوں پر میزائل حملوں میں جہاز کے عملے کا ایک رکن ہلاک ہوگیا ، میڈیا رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر حملے میں ایک بھارتی شہری ہلاک اور 8زخمی ہوئے، انڈیا نے معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے نئی دہلی میں ایرانی سفیر کو طلب کرلیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق اوول آفس میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے آبنائے ہرمز میں 20فیصد ٹیکس وصولی کا اپنا فیصلہ خلیجی ملکوں کے رہنماؤں سے بات چیت کے بعد بدلا ہے۔