• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نجی اسکولز میں اساتذہ کی سالانہ کارکردگی جانچنا لازمی قرار، کمزور طلبہ کیلئے خصوصی معاونت کی ہدایت

کراچی (سید محمد عسکری) حکومت سندھ کے محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی کے ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز نے صوبے بھر کے نجی اسکولوں کو تعلیمی معیار بہتر بنانے اور اساتذہ کی کارکردگی کے مؤثر جائزے کے لیے نئے اقدامات پر عمل درآمد کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ڈائریکٹر انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز پروفیسر رفیعہ ملاح کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ نجی تعلیمی اداروں نے معیاری تعلیم کے فروغ اور مختلف قومی و بین الاقوامی شعبوں کے لیے قابل طلبہ تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم بعض نجی اسکولوں کے طلبہ کی ثانوی تعلیمی بورڈز کے میٹرک امتحانات، جی سی ای او لیول اور اے لیول کے نتائج تشویشناک حد تک غیر تسلی بخش پائے گئے ہیں۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ متعدد طلبہ یا تو ان امتحانات میں کامیاب نہیں ہو پاتے یا پھر توقعات سے کہیں کم نمبر حاصل کرتے ہیں، جو والدین کی جانب سے ادا کی جانے والی بھاری فیسوں اور معیاری تعلیم کی توقعات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ محکمہ تعلیم کے مطابق یہ صورتحال تدریسی معیار، کلاس روم میں تدریس، اساتذہ کی جوابدہی اور اسکولوں میں نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔ مراسلے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بعض اداروں میں تدریسی معیار کی نگرانی اور اساتذہ کی کارکردگی جانچنے کا مؤثر نظام موجود نہیں، جس کے باعث خامیوں کی نشاندہی اور ان کا بروقت ازالہ ممکن نہیں ہو پاتا۔ ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی طور پر کمزور طلبہ کو بروقت شناخت کرکے ان کے لیے اضافی تدریسی معاونت، ریمیڈیل کلاسز، انفرادی رہنمائی، مسلسل تعلیمی جائزہ، مشاورت اور والدین سے باقاعدہ رابطے کا نظام قائم کیا جائے تاکہ وہ سرکاری امتحانات میں بہتر نتائج دے سکیں۔ محکمہ تعلیم نے تمام نجی اسکولوں کو بغیر کسی استثنا کے متعدد اقدامات پر عمل درآمد کا پابند بنایا ہے۔ ان میں اس امر کو یقینی بنانا شامل ہے کہ تمام اساتذہ مطلوبہ تعلیمی قابلیت، پیشہ ورانہ اسناد اور تدریسی تجربہ رکھتے ہوں۔
اہم خبریں سے مزید