اسلام آباد / راولپنڈی (نامہ نگار خصوصی / نیوز ایجنسیز)آزاد جموں و کشمیر کے سیکریٹری داخلہ چوہدری گفتار حسین نے کہا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھے جدید ترین خودکار ہتھیار اور دھماکا خیز مواد استعمال کر رہے ہیں لہٰذا عوام کو شرپسندوں سے نجات دلانے اور امن کی بحالی کے لیے آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے۔ آزاد کشمیر میں امن کی بحالی کے لیے آپریشن ناگزیر ،طلبہ، خواتین اور بچوں کا بطور انسانی ڈھال استعمال کیا جا رہا ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے منگل کو ایوانِ صدر میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی، جس میں مجموعی سیاسی صورتحال، قومی اہمیت کے مختلف امور اور علاقائی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے درمیان منگل کی شب ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان آزاد جموں و کشمیر میں ہڑتال کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے پر اتفاق ہوا۔ ادھر آزاد کشمیر حکومت نےآزادجموں وکشمیرقانون سازاسمبلی کے ستائیس جولائی کوشیڈول عام انتخابات کی سیکورٹی کے لیے وفاقی حکومت کوخط لکھ دیا-ذرائع کا کہنا ہے کہ انتخابات کی سیکیورٹی کے لیے پاک فوج اورسول آرمڈ فورسزکی تعیناتی کی درخواست کی گئی ہے، خط میں انتخابات کے لیے سیکیورٹی فورسزکی تعیناتی کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ دریں اثناء میڈیا گفتگو میں چیئر مین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کرسکتے ہیں،ہمیں الیکشن کے بائیکاٹ پر مجبور کیا گیا، ہمیں آزادانہ اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے،چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف جمہوریت پر یقین رکھتی ہے ،آزاد جموں و کشمیر کے الیکشن بائیکاٹ جیسا سخت فیصلہ ہمارے لئے بہت مشکل تھا،ہمیں آزادانہ اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرثانی بھی کر سکتے ہیں۔