• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیسپاک آڈٹ رپورٹ، 13.78 ارب روپے کے بقایاجات پھنس گئے

اسلام آباد (قاسم عباسی)نیسپاک آڈٹ رپورٹ: 13.78 ارب روپے کے بقایا جات پھنس گئے، سنگین مالی بے ضابطگیاں بے نقاب؛ آڈیٹر جنرل نے پانچ سالہ مالیاتی اعداد و شمار جاری کر دیے۔ نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) کے مالیاتی سال 25-2024 کے حالیہ آڈٹ نے سنگین مالیاتی بے ضابطگیوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں 13.78 ارب روپے کی خطیر مجموعی رقم کے غیر وصول شدہ واجبات سب سے نمایاں ہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے انکشاف کیا ہے کہ اگرچہ مالیاتی سال 21-2020 میں کل آمدن 7002.937ملین روپے سے بڑھ کر مالیاتی سال 25-2024 میں 14019.167ملین روپے ہو گئی، لیکن اس کے ساتھ ہی اخراجات بھی تیزی سے بڑھ کر 7736.249 ملین روپے سے 13009.256 ملین روپے تک پہنچ گئے۔ سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اسی عرصے کے دوران ذیلی مشاورتی اخراجات 284 فیصد سے بھی زیادہ کے ہوشربا اضافے کے ساتھ 910.1ملین روپے سے بڑھ کر 3496.6 ملین روپے ہو گئے، جس نے بڑھتی ہوئی آمدن کے باوجود نقد بہاؤ کا شدید بحران پیدا کر دیا۔ آڈیٹر جنرل نے نیسپاک کی قیادت کی قانونی حیثیت اور طرزِ حکمرانی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور کمپنیز ایکٹ 2017کے سیکشن 223 اور 233 کی طویل عرصے سے جاری سنگین خلاف ورزی کا حوالہ دیا ہے۔ آڈٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ نیسپاک مسلسل چار مالیاتی سالوں، یعنی مالی سال 22-2021، 23-2022، 24-2023، اور 25-2024 کے لازمی سالانہ مالیاتی گوشواروں کو مقررہ قانونی مدت کے اندر حتمی شکل دینے، منظور کرنے، ان کا آڈٹ کروانے اور انہیں جمع کرانے میں ناکام رہا ہے۔
اہم خبریں سے مزید