• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت کی آبی جارحیت سے مہاجر پرندوں اور آبی حیات کو خطرہ، ماہرین کا انتباہ

پشاور(اے پی پی )ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی آبی جارحیت سے مہاجر پرندوں اور آبی حیات کو شدید خطرہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی سے حیاتیاتی تنوع متاثر ہونے کا خدشہ ہے ،آبی ماہرین نےمطالبہ کیا کہ عالمی برادری صورتحال کا فوری نوٹس لے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کے ویٹ لینڈز، مہاجر پرندوں اور آبی حیات کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف لاکھوں مہاجر پرندوں کی ہجرت متاثر ہوگی بلکہ ماحولیاتی توازن، حیاتیاتی تنوع اور انسانی زندگی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔محکمہ جنگلی حیات خیبرپختونخوا کے سابق چیف کنزرویٹر ڈاکٹر محمد ممتاز ملک نے کہا کہ پاکستان کا انڈس فلائی وے دنیا کے اہم ترین مہاجر پرندوں کے راستوں میں شامل ہے، جہاں ہر سال سائبیریا اور وسطی ایشیا سے لاکھوں پرندے خوراک، آرام اور افزائش نسل کے لیے آتے ہیں۔ ان کے مطابق تربیلہ جھیل اور دیگر ویٹ لینڈز میں میٹھے پانی کی کمی مہاجر پرندوں کی بقا کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مالارڈ، کامن ٹیل، ناردرن پن ٹیل، ناردرن شوولر، کونج، ہنس، تلور اور دیگر اقسام کی بقا صحت مند ویٹ لینڈز سے وابستہ ہے، جبکہ پانی کے بہاؤ میں کمی، بڑھتی ہوئی نمکیات اور ماحولیاتی آلودگی ان کے قدرتی مسکن کو متاثر کر رہی ہے۔ڈاکٹر ممتاز ملک کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی، بے ترتیب بارشیں، گلیشیئرز کے تیز پگھلاؤ اور سیلاب بھی ویٹ لینڈز کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں، جس سے انڈس ڈولفن، ٹراؤٹ، مہاشیر مچھلی سمیت متعدد جنگلی حیات کی اقسام خطرے سے دوچار ہیں۔خیبرپختونخوا کے چیف کنزرویٹر ڈاکٹر محسن فاروق نے کہا کہ جنگلی حیات کا تحفظ دریا کے پانی کے مسلسل بہاؤ سے مشروط ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں مہاجر پرندوں کے غیر قانونی شکار پر پابندی عائد ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ماہرین نے عالمی برادری، خصوصاً عالمی بینک سے مطالبہ کیا کہ سندھ طاس معاہدے پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ویٹ لینڈز کے تحفظ، دریاؤں میں پانی کے پائیدار بہاؤ، ماحولیاتی قوانین کے مؤثر نفاذ اور بین الاقوامی تعاون کے بغیر پاکستان کو حیاتیاتی تنوع، ماحولیاتی نظام اور میٹھے پانی پر انحصار کرنے والے ذرائع معاش میں طویل المدتی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ملک بھر سے سے مزید