کراچی (بابر علی اعوان) سندھ کے بیشتر سرکاری تدریسی اسپتالوں میں مورٹالیٹی اینڈ موربیڈیٹی میٹنگز کا نظام تقریباً غیر فعال ہو چکا ہے، جس کے باعث علاج کے دوران ہونے والی اموات، طبی پیچیدگیوں، ریفرل میں خامیوں اور دیگر غفلتوں کا باقاعدہ طبی اور غیر جانبدارانہ جائزہ نہیں لیا جا رہا۔جے پی ایم سی میں بزرگ مریض کی ہلاکت نے ایک مرتبہ پھر سرکاری اسپتالوں میں ریفرل سسٹم اور مریضوں کی حفاظت کے طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، ماہرین کے مطابق ان اجلاسوں کا مقصد کسی ڈاکٹر یا عملے کو مورد الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ یہ جاننا ہوتا ہے کہ مریض کی تشخیص، علاج، اینستھیزیا، ریفرل، انفیکشن کنٹرول یا نگرانی کے کس مرحلے پر کیا خامی ہوئی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نظام میں کیا اصلاحات ضروری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب یہ نظام فعال نہ ہو تو ایک جیسی غلطیاں بار بار دہرائی جاتی ہیں، مریضوں کی حفاظت متاثر ہوتی ہے اور ادارہ جاتی احتساب بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران سندھ میں ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سے متعلق سامنے آنے والے متعدد سنگین واقعات، علاج کے دوران ہونے والی اموات اور مختلف سرکاری اسپتالوں میں پیش آنے والے پیچیدہ کیسز ایسے تھے جن پر باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جانے چاہیئے تھے تاکہ ان واقعات کی بنیادی وجوہات، انفیکشن پریوینشن اینڈ کنٹرول، علاج اور طبی نگرانی سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کر کے مستقبل کے لیے مؤثر اصلاحی حکمت عملی مرتب کی جا سکتی، تاہم بیشتر سرکاری اسپتالوں میں ایسا مؤثر نظام دکھائی نہیں دیتا۔ واضح رہے کہ دنیا بھر کے بڑے تدریسی اسپتالوں میں مورٹالیٹی اینڈ موربیڈیٹی میٹنگز مریضوں کی حفاظت اور علاج کے معیار کو بہتر بنانے کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ ان اجلاسوں میں اموات اور پیچیدہ طبی واقعات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے کر نظامی خامیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اصلاحی سفارشات مرتب کی جاتی ہیں۔ اسی تناظر میں گزشتہ روز جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر سے قومی ادارہ برائے امراض قلب منتقل کیے گئے 65 سالہ مریض عبدالرشید کی ہلاکت نے ایک مرتبہ پھر سرکاری اسپتالوں میں ریفرل سسٹم اور مریضوں کی حفاظت کے طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جناح اسپتال کے شعبہ حادثات و ایمرجنسی کی جانب سے جاری کیے گئے میمورنڈم کے مطابق مریض کو این آئی سی وی ڈی منتقل کرتے وقت وصول کرنے والے ادارے سے مناسب رابطہ نہیں کیا گیا، منظور شدہ ریفرل پروٹوکول پر عمل نہیں کیا گیا اور ضروری دستاویزات بھی مکمل نہیں کی گئیں۔ میمورنڈم میں اس عمل کو اسپتال پالیسی، مریض کی حفاظت اور میڈیکو لیگل ریکارڈ کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے نائٹ شفٹ انچارج ڈاکٹر وقاص خان سے 24 گھنٹوں میں وضاحت طلب کی گئی ہے۔ دوسری جانب این آئی سی وی ڈی کے ترجمان نے بتایا کہ مریض کو انتہائی تشویشناک حالت میں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے منتقل کیا گیا۔ ان کے مطابق مریض کی آمد پر فوری طور پر سی پی آر سمیت تمام ہنگامی طبی اقدامات کیے گئے، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسے مریضوں کی منتقلی سے قبل متعلقہ اسپتال کی جانب سے وصول کرنے والے ادارے سے رابطہ اور ریفرل پروٹوکول پر مکمل عمل ضروری ہوتا ہے تاکہ مریض کے استقبال اور فوری علاج کی مناسب تیاری کی جا سکے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جناح اسپتال کے ای این ٹی شعبے میں ٹانسلز کے آپریشن کے لیے آنے والا 10 سالہ بچہ جنرل اینستھیزیا دیے جانے کے فوراً بعد جاں بحق ہو گیا تھا۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق بچے کی حالت بگڑنے کے باوجود بروقت سینئر اینستھیٹسٹ کو طلب نہیں کیا گیا، جبکہ واقعے کی شکایت اسپتال انتظامیہ کو دسمبر 2025 میں موصول ہونے کے باوجود تحقیقاتی کمیٹی تقریباً چھ ماہ بعد تشکیل دی گئی۔