اسلام آباد:(انصار عباسی)…وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ نظام منہدم ہونے کے بیان نے ایک بار پھر پاکستان میں طرزِ حکمرانی کی ناکامیوں پر بحث چھیڑ دی ہے۔
اگرچہ انہوں نے موجودہ صورتحال پر مایوسی کا اظہار کیا، لیکن وہ مسئلے کی اصل جڑ کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے۔ بحران صرف کم صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی تعداد کا نہیں، نہ ہی یہ صرف اعلیٰ سطح پر سیاسی عزم کی کمی کا معاملہ ہے۔
بنیادی مسئلہ پاکستان کے سول انتظامی ڈھانچے کی دائمی کمزوری ہے، جو گزشتہ کئی دہائیوں میں مؤثر انداز میں حکومت چلانے کی اپنی صلاحیت بتدریج کھو چکا ہے۔
اس بنیادی ادارہ جاتی ناکامی کی تشخیص کرنے کے بجائے محسن نقوی کا بیان مسئلے کی وجوہات کو چھوڑ کر اس کی علامات پر زیادہ توجہ دیتا دکھائی دیتا ہے۔
غیر معمولی اقدامات، ٹاسک فورسز اور متوازی انتظامی ڈھانچوں پر بار بار انحصار خود اس بات کا ثبوت ہے کہ معمول کا سول بیوروکریٹک نظام اپنی مطلوبہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔
چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں عسکری قیادت معیشت کی بحالی، مافیاز کے خلاف کریک ڈاؤن اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی پر زور دیتی رہی ہے۔
اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل (SIFC) کا قیام بھی اس حقیقت کا ردِعمل تھا کہ سول بیوروکریسی بروقت معاشی حل فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ تاہم یہ اقدامات بھی ایک مؤثر سول انتظامیہ کا متبادل نہیں بن سکتے۔
طرزِ حکمرانی کا اصل بحران اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ وفاق، صوبوں، ڈویژنوں اور اضلاع تک پھیلی پاکستان کی وسیع سول بیوروکریسی سیاسی مداخلت، کمزور احتساب اور پیشہ ورانہ افرادی قوت کے ناقص انتظام کے باعث مسلسل غیر مؤثر ہوتی جا رہی ہے۔
حال ہی میں پنجاب کی انتظامی کارکردگی کو جزوی استثنا کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جہاں روزمرہ کے انتظامی امور میں سیاسی مداخلت کم ہونے سے بیوروکریسی کو نسبتاً زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنے کا موقع ملا۔
اس سے یہ بنیادی نکتہ مضبوط ہوتا ہے کہ بہتر طرزِ حکمرانی وقتی یا ہنگامی اقدامات سے نہیں بلکہ ادارہ جاتی خودمختاری اور میرٹ پر مبنی انتظامیہ سے حاصل ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی وہ شعبہ ہے جہاں نظام مسلسل ناکام ہو رہا ہے۔
طرزِ حکمرانی کے ماہرین طویل عرصے سے یہ تجویز دیتے آئے ہیں کہ وفاق میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور صوبوں میں سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹس (S&GADs) کو دوبارہ ان کے اصل کردار یعنی آزاد اداروں کی حیثیت سے بحال کیا جائے، جو انسانی وسائل کے انتظام کے ذمہ دار ہوں۔
مقصد یہ ہے کہ تقرریوں، ترقیوں اور کیریئر پلاننگ کو سیاسی اثر و رسوخ اور بیرونی دباؤ سے محفوظ بنایا جائے۔پاکستان کی سول سروس کو جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کی ملٹری سیکریٹری برانچ کی طرز پر ایک منظم نظام اپنانا چاہیے، جہاں میرٹ، کارکردگی، تربیت اور کیریئر میں ترقی کا انتظام ادارہ جاتی نظم و ضبط کے تحت کیا جاتا ہے، نہ کہ بیرونی مداخلت کے ذریعے۔
اکثر فوج کے داخلی نظامِ افرادی قوت کا تقابل کیا جاتا ہے، جسے عمومی طور پر منظم، میرٹ پر مبنی اور سیاسی مداخلت سے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برعکس سول اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو اکثر ایک محض دفتری ادارہ قرار دیا جاتا ہے، جہاں تقرریاں اور تبادلے ادارہ جاتی ضرورت کے بجائے سیاسی لابنگ، ذاتی تعلقات اور مختلف طاقتور حلقوں کے دباؤ کے تحت ہوتے ہیں۔
اس بگاڑ کے طویل المدتی نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ افسران کو اکثر ان کے شعبۂ مہارت سے غیر متعلقہ عہدوں پر تعینات کیا جاتا ہے، کیریئر پلاننگ یا تو کمزور ہے یا سرے سے موجود ہی نہیں، جبکہ احتساب کا نظام بھی غیر مستقل اور غیر مؤثر ہے۔ نتیجتاً مختلف شعبوں میں طرزِ حکمرانی متاثر ہوتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ کوئی نئی تشخیص نہیں۔ گزشتہ 75 برسوں کے دوران 20 سے زائد کمیشنوں اور اصلاحاتی کمیٹیوں نے پاکستان کے سول سروس ڈھانچے کا جائزہ لیا ہے۔ صرف 1996 سے 2008 کے درمیان کم از کم چھ بڑی مطالعاتی رپورٹس نے انہی بنیادی مسائل کی نشاندہی کی: بیوروکریسی کی سیاست زدگی، میرٹ پر مبنی تقرریوں کا فقدان اور افرادی قوت کے انتظام میں ادارہ جاتی کمزوری۔ تاہم ان میں سے زیادہ تر سفارشات پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا۔
مسلسل آنے والی حکومتوں، خواہ وہ سول ہوں یا فوجی نے انتظامی تقرریوں اور تبادلوں پر اپنا اثر و رسوخ کم کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ نتیجتاً اصلاحات کی تمام کوششیں بار بار تعطل کا شکار ہوتی رہیں۔یہ تاریخی ریکارڈ ایک بنیادی حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ پاکستان میں طرزِ حکمرانی کا بحران مسئلے کی تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات نافذ کرنے کے لیے سیاسی عزم کی کمی کے باعث ہے۔
اس تناظر میں محسن نقوی کے حالیہ ریمارکس ریاست کی اس گہری ساختیاتی ناکامی کا احاطہ نہیں کرتے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ "نظام منہدم ہو چکا ہے"، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریاست کے بنیادی انتظامی انجن یعنی سول بیوروکریسی کو بامعنی اصلاحات کے بغیر زوال کا شکار ہونے دیا گیا ہے۔
لہٰذا اس کا حل مزید صوبے بنانے میں نہیں بلکہ سول انتظامی ڈھانچے کو میرٹ، سیاسی مداخلت سے تحفظ اور فوجی بیوروکریسی کی طرز پر پیشہ ورانہ کیریئر مینجمنٹ کے اصولوں پر ازسرِنو استوار کرنے میں ہے۔
جب تک اس بنیادی مسئلے کا حل نہیں نکالا جاتا، پاکستان ایک بحران سے نکل کر دوسرے بحران میں داخل ہوتا رہے گا اور ہر بار بیماری کے بجائے صرف اس کی علامات کو ہی اصل مسئلہ سمجھا جاتا رہے گا۔