بھارتی ریاست گجرات کے گاؤں ویرپڑہ میں ایک پراسرار کنویں کا پانی ایک بار پھر خود بخود حرکت کرنے لگا جس کے بعد بڑی تعداد میں مقامی افراد کنویں کے قریب جمع ہو گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ 2 روز قبل کنویں کے پانی میں اچانک غیر معمولی حرکت شروع ہوئی، اس سے قبل بھی رواں ہفتے کے آغاز پر پانی میں ایسی ہی حرکت دیکھی گئی تھی جو جمعرات کی دوپہر تک بتدریج رُک گئی تھی، تاہم بعد میں حرکت دوبارہ شروع ہو گئی۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی، بعض مقامی افراد کا خیال ہے کہ یہ سرگرمی علاقے میں زلزلے کے آنے سے منسلک ہو سکتی ہے تاہم حکام نے کنویں کے پانی کے زلزلے سے تعلق کو مسترد کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر اور ضلعی مجسٹریٹ سواپنل کھارے نے اس معاملے پر کہا ہے کہ غیر معمولی سرگرمی کی اطلاع کے بعد گاندھی نگر سے ماہرین کی ٹیم روانہ کر دی گئی ہے اور تحقیقات جاری ہیں، زلزلے سے متعلق کسی سرگرمی کے شواہد نہیں ملے، عوام افواہوں پر کان نہ دھریں۔
انہوں نے کہا کہ کنویں کے پانی میں ممکنہ گیس کے اخراج سے متعلق قیاس آرائیاں بھی سامنے آئی ہیں تاہم تحقیقاتی ٹیم نے ابھی پانی کے نمونے حاصل نہیں کیے ہیں اس لیے سائنسی جانچ کے بغیر کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہو گا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق کنویں میں پانی کی غیر معمولی حرکت فی الحال کم ہو گئی ہے۔
ماہرین اس پراسرار مظہر کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مصدقہ معلومات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔