• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر رضا کیس میں اب بھی کئی اہم سوالات کے جواب آنا باقی

کراچی( ثاقب صغیر )میر رضا کیس میں اب بھی کئی سوالات کے جواب آنا باقی ہیں۔پولیس تفتیش، متنازع پوسٹ مارٹم اور ڈی این اے رپورٹ پر سنگین شکوک و شبہات اٹھ گئے۔ میر رضا کے والد نے جس گیسٹ ہائوس کا ذکر کیا اسکے مالک کیخلاف اب تک کیا کارروائی کی گئی اور پولیس نے تاحال اس حوالے سے خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے۔اگر وہاں سے کسی کو حراست میں لیا گیا ہے تو اس کی تفصیل اب تک سامنے کیوں نہیں آ سکی ؟۔کیا پولیس کسی بڑی شخصیت کو بچانے کی کوشش میں تھی؟۔میر رضا کی موت کو خودکشی ثابت کرنے کی اتنی جلدی کیوں تھی؟۔سائنسی شواہد قتل کی طرف اشارہ کر ہے ہیں تو پھر ابتدائی تفتیش کس بنیاد پر چلائی جا رہی تھی؟ والدین پہلے روز سے واقعہ کو قتل کہتے رہے تاہم ان کے مالی معاملات اور نجی زندگی کو زیر بحث لانے کی کوششیں ہوتی رہیں۔ میر رضا کا قتل ہے تو قاتل کون؟ تفتیش میں کون کون سی کڑیاں غائب، میر رضا کیساتھ اصل میں کیا ہوا؟ کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں پوسٹ مارٹم اور فرانزک عمل پر بھی اس کیس نے کئی سوالات کھڑے کیے ہیں۔ جس ایم ایل او نے پہلا پوسٹ مارٹم کیا اور غلط رپورٹ بنائی اس کے خلاف کیا کارروائی کی گئی اور پولیس سرجن کیس کے ہائی لائٹ ہونے سے پہلے کیوں خاموش رہیں؟۔ ابتدائی تفتیش میں اتنی بڑی غلطی کیسے ہوئی؟ ڈی آئی جی ایسٹ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کیا کرتے رہے ؟۔جو میڈیکل بورڈ رات کے اندھیرے میں تبدیل کیا گیا اسکے پیچھے کیا محرکات تھے اور اس سے کا کو فائدہ پہنچانا مقصود تھا؟۔کئی روز تک پولیس جائے وقوعہ اور اطراف میں گولی کا خول ڈھونڈتی رہی لیکن آئی جی سندھ کے بیان کے بعد کہ کیس ٹریس کر لیا گیا ہے اچانک کیسے خول مل گیا؟۔ آئی کی سندھ نے کیس ٹریس کرنے والی بات کس بنیاد پر کی ؟۔نئی ٹیم کو نہ صرف میر رضا کیس کی تفتیش نہیں کرنا ہو گی بلکہ اسے ایک پہلے سے متنازع تفتیش کا فرانزک اور قانونی آڈٹ بھی کرنا ہوگا۔ٹیم کو دیکھنا پڑے گا کہ ابتدائی طور پر خودکشی کا زاویہ کس بنیاد پر اختیار کیا گیا؟پوسٹ مارٹم میں خامیاں کیوں رہیں؟۔اگر یہ قتل ہے تو قاتل تک پہنچنے کے لیے اب تک کی تفتیش میں کون سی کڑیاں غائب رہیں؟۔اگر یہ قتل ہے تو قاتل کون ہے؟۔ میر رضا کے ساتھ اصل میں ہوا کیا؟کمیٹی کو پوری timeline دوبارہ بنانی ہوگی۔میر رضا گھر/اپنے معمول کے مقام سے کب نکلا؟کس کے ساتھ رابطے میں تھا؟آخری فون کال کس سے ہوئی؟آخری ایس ایم ایس ،واٹس ایپ یا سوشل میڈیا سرگرمی کیا تھی؟آخری مرتبہ زندہ کب دیکھا گیا؟گولی چلنے کا ممکنہ وقت کیا تھا؟لاش کہاں سے ملی؟کیا وہی اصل جائے وقوعہ تھی؟لاش کو وہاں منتقل تو نہیں کیا گیا؟لاش ملنے کی جگہ اور قتل کی جگہ ایک ہی ہونا ثابت کرنا ضروری ہے۔یہ minute-to-minute reconstruction اس کیس کی بنیاد ہونی چاہیے۔میر رضا کا اگر قتل کیا گیا تو کیا وہ منصوبہ بند قتل ہے ؟ یہ منصوبہ کہاں بنا اور اس میں کتنے لوگ ملوث ہیں؟۔میر رضا کے قتل سے کس کو فائدہ ہو سکتا ہے؟۔میر رضا کیس میں اصل مسئلہ صرف موت کی وجہ معلوم کرنا نہیں بلکہ یہ طے کرنا ہے کہ میڈیکل شواہد، کرائم سین ، بیلسٹک شواہد، ڈیجیٹل شواہد اور گیسٹ ہاؤس کی سرگرمیاں ایک ہی کہانی بیان کرتی ہیں یا ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ اگر یہ شواہد آپس میں نہیں ملتے تو نئی کمیٹی کا پہلا کام کسی نئی کہانی کو ثابت کرنا نہیں بلکہ پرانی کہانی کی بنیاد دوبارہ جانچنا ہونا چاہیے۔دوسری جانب پولیس کے سابق ایس ایس پی نیاز احمد کھوسہ نے گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ لکھی جس کے مطابق "میر علی رضا کیس میں مجھے بڑی انجنیئرنگ نظر آرہی ہے۔ جیساکہ میر علی رضا کی قبر کشائی ہوچکی ہے اور مقتول کے DNA سیملز لیئے جاچکے ہیں مگر مجھے پہلے دن سے شک ہے کہ مقتول میر علی رضا نہیں ہے کیونکہ کہ قتل کرنے والوں نے لاش کے فنگر پرنٹس ختم کردیئے ہیں اور مقتول کا چھرہ تیزاب ڈال کر مسخ کردیا گیا ہے۔میری اس ضمن میں سینئیر تفتیشی افسران سے بھی بات ہوئی ہے اور وہ بھی اسی تذبذب کا شکار ہیں ۔ اب DNA رپورٹ کا انتظار کرنا پڑے گا۔
اہم خبریں سے مزید