کراچی (سید منہاج الرب) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ نے عالمی معاشی نمو کی سمت کو نمایاں طور پر تبدیل کردیا ہے۔ اگرچہ جنگ کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے اثرات سب سے زیادہ اسی خطے میں محسوس کیے گئے، تاہم توانائی اور دیگر اجناس کی رسد کو پہنچنے والے دھچکے اور وسیع تر سپلائی چینز پر پڑنے والے اثرات نے خطے سے کہیں دور تک معیشتوں کے لیے مشکلات پیدا کیں۔آئی ایم ایف نے بدھ کو جاری ہونے والی اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ نیا دھچکا ایسے وقت میں آیا جب عالمی سطح پر سرکاری قرضے پہلے ہی ریکارڈ کے قریب بلند سطح پر پہنچ چکے تھے۔رپورٹ کے مطابق جغرافیائی سیاسی دھچکوں، جاری تنازعات اور عالمی تجارتی نظام میں بڑی تبدیلیوں کے باوجود 2025 میں عالمی معیشت نے لچک کا مظاہرہ کیا۔ نجی شعبے کی تیز رفتار مطابقت، مالیاتی اور زری پالیسیوں کی معاونت اور ٹیکنالوجی سے متعلق سرمایہ کاری کے باعث عالمی معاشی نمو برقرار رہی جبکہ افراط زر میں مسلسل کمی ہوتی رہی۔