• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر سمیعہ حکومت کا اثاثہ، ہراساں کرنا ناقابل قبول، جوڈیشل کمیشن

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جوڈیشل کمیشن نے حکمنامہ جاری کیا ہے جس کے مطابقڈاکٹر سمیعہ حکومت کا اثاثہ ،ہراساں کرنا ناقابل قبول ہے، ڈاکٹر اسامہ نے ایڈٹڈ گفتگو لیک کر کے ساکھ متاثر کی، تین بار طلبی پر مکمل ریکارڈ پیش نہ کیا، فرانزک تحقیقات اور ہتک آمیز مواد کے ذمہ داران کے تعین کا حکم، کارروائی 24 ستمبر تک ملتوی کردی ،کمیشن نے سوشل میڈیا مہم کی تحقیقات کیلئے این سی سی آئی اے کو سینئر افسر مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔ جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے گذشتہ روز کی کارروائی کا حکمنامہ جاری کردیا۔ حکمنامے کے مطابق پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کی جوڈیشل کمیشن کو ہراسانی اور منفی مہم کی شکایت دائر کی ہے کہ ڈاکٹر اسامہ نے نجی گفتگو کے ایڈٹ شدہ حصے لیک کر کے ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر اسامہ کمیشن کے روبرو 3 بار پیش ہوئے لیکن کمیشن میں گفتگو کا مکمل ریکارڈ پیش نہیں کیا۔ گفتگو کے کچھ حصے مخصوص میڈیا چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو فراہم کئے گئے۔ نجی گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے سے اصل معاملے سے توجہ ہٹنے کا خدشہ ہے۔ ڈاکٹر اسامہ عبوری پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کو درست قرار دیکر حتمی رپورٹ کو تسلیم نہیں کررہے۔ ڈاکٹر اسامہ کے بیانات سے ان کے طرز عمل پر سوالات اٹھتے ہیں۔ سنگل پوسٹ مارٹم کے بعد کثیر رکنی بورڈ کی جانب سے کئے گئے پوسٹ مارٹم کی صورت میں سابقہ رپورٹ کے حیثیت ثانوی ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے گولی لگنے اور نکلنے کے زخموں سے متعلق ابتدائی نتائج سائنسی شواہد کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ کمیشن اجازت دے تو ڈاکٹر اسامہ سے گفتگو کا مکمل ریکارڈ کمیشن کے روبرو پیش کرنے کو تیار ہیں۔ مکمل ریکارڈ کے جائزے سے غلط فہمی یا تشریح کا امکان ختم کیا جاسکے گا۔ ڈاکٹر سمیعہ نے ڈاکٹر اسامہ کی ایماء پر اپنے خلاف منفی مہم کی شکایت دائر کی تھی۔ ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق وہ مہم کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
اہم خبریں سے مزید