• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اے آئی سے نقل اور پرچہ لیک، امتحانی بحران نے عالمی احتجاج کی شکل اختیار کرلی

کراچی (نیوز ڈیسک) اے آئی سے نقل اور پرچہ لیک، امتحانی بحران نے عالمی احتجاج کی شکل اختیار کرلی۔ بھارت سب سے بڑے بحران کی زد میں، انڈیا، پرتگال اور میکسیکو میں طلبہ سڑکوں پر آگئے، بھارت میں پرچہ لیک سے لاکھوں متاثر، وزیر تعلیم مستعفی، میکسیکو میں58ہزار طلبہ کو دوبارہ داخلہ امتحان دینا پڑا، پرتگال میں ڈیجیٹل جانچ کی ناکامی سے تعلیمی بحران، اے آئی نے امتحانات میں نقل کے طریقے مزید جدید بنا دئیے، ماہرین کا کہنا ہے روزگار کے محدود مواقع سے اچھے نمبروں کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ گارڈین کی خصوصی رپورٹ کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک میں امتحانات سے متعلق بے ضابطگیوں، پرچے لیک ہونے، نقل اور مصنوعی ذہانت کے استعمال نے طلبہ کے احتجاج کو جنم دیا ہے۔ دی گارڈین کے مطابق میکسیکو میں تقریباً 58 ہزار طلبہ کو مبینہ نقل کے شبہے میں یونیورسٹی داخلہ امتحان دوبارہ دینا پڑا، جبکہ پرتگال میں امتحانات کی جانچ کا نظام ڈیجیٹل بنانے کی ناکام کوشش کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر غلطیوں پر طلبہ، والدین اور اساتذہ سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم سب سے بڑا بحران بھارت میں سامنے آیا جہاں امتحانی پرچے کے لیک ہونے سے لاکھوں طلبہ متاثر ہوئے اور ایک درجن سے زائد طلبہ کی خودکشیوں سے بھی اس معاملے کا تعلق بتایا گیا، جس کے نتیجے میں وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر نوجوانوں پر اچھے نمبروں کا دباؤ، روزگار کے محدود مواقع اور ایک امتحان سے مستقبل وابستہ ہونے کا تصور بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ ساتھ ہی مصنوعی ذہانت نے نقل کے طریقوں کو انتہائی جدید بنا دیا ہے، جہاں طلبہ امتحان کے دوران چھوٹے کیمروں، ایئر پیسز، انٹرنیٹ اور براہ راست مصنوعی ذہانت سے مدد لینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ادارے ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے پیمانے پر نقل روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر اس عمل میں تعلیم اور طلبہ کی حقیقی سیکھنے کی صلاحیت پسِ پشت جا رہی ہے۔
اہم خبریں سے مزید