ڈاکٹر ضیاء الحسن
جنرل فزیشن
گلے میں خراش ایک عام بیماری ہے، جو موسم بدلنے کی وجہ سے لاحق ہو تی ہے۔ اس کے علاوہ جو بہت زیادہ ٹھنڈی چیزیں کھانے پینے کے علاوہ وائرل یا بیکٹیریل انفیکشن، معدے کی تیزابیت، اور خشک ہوا سے بھی گلے میں خراش ہوجاتی ہے۔ ایسے میں کھانے پینے اور بولنے سے تکلیف ہوتی ہے۔ اگر درد زیادہ بڑھ جائے تواینٹی بایوٹک کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔
صبح گلے میں کانٹے چبھنے کے احساس کے ساتھ بے دار ہونااس بات کا عندیہ ہے کہ وائرس آپ کے جسمانی مدافعتی نظام میں داخل ہوچکا ہے۔ گلے میں جلن کا احساس کئی روز تک رہتا ہے۔ دراصل بار بار ہونے والی خراش عام طور پر وائس باکس اور گلے میں انتہائی حساسیت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اپنے گلے کو صاف کرنا یا کھنکھارنا عام طور پر گلے میں خراش پر آپ کے جسم کا ردعمل اور آواز کی تہہ کو ایک ساتھ رگڑ کر اس کیفیت کو دور کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔
اکثر لوگ اپنا گلا صاف کر تے رہتے ہیں ،کیوں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گلے میں کوئی چیز پھنس رہی ہے۔ گلے کو بار بار صاف کرنا خود کوئی طبی بیماری نہیں ہے لیکن یہ اس کی علامت ہو سکتی ہے۔ خراش یا سوزش وائرس کے علاوہ بیکٹیریا کی وجہ سے بھی ممکن ہے، خاص طور پر بچوں میں اسٹریپ تھروٹ یعنی بیکٹیریل اٹیک گلے میں خراش کی ایک عام وجہ ہے، اس کے علاوہ سردی لگنا، بخار، ٹانسلز اور لمف نوڈس کا سوجنا، سر اور جسم میں درد، الٹیاں آنا اور ریشز ہونا شامل ہیں۔
اگر کسی بھی شخص میں ان علامات میں سے کوئی ایک بھی ظاہر ہوتو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔ علا وہ ازیں اس میں الرجی اور ایسڈ ریفلوکس سے لے کر ادویات کے مضر اثرات اور کھانے کی عادات بھی شامل ہیں۔
اگر آپ کو خشکی، دھول اورکسی چیز سے الرجی ہوتی ہے تواس سے گلے میں سوزش ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں خشک ہواگلے کو کھردرا اور خشک کر دیتی ہے،جس کی وجہ سے بھی خراش کا ہوسکتی ہے، نیز ہو ا میں خارج ہونے والے کیمیکل سے بھی گلے میں خراش ہوسکتی ہے۔
خراش کی ایک عام وجہ’’ ایل پی آر‘‘ (Laryngopharyngeal reflux ) ہے۔ آپ کے معدے میں موجود لائپن اور پیپسن تیزاب کھانا ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ لیکن معدے کا اضافی تیزاب بعض اوقات اس ٹیوب کے پیچھے کی طرف بہتا ہے جسے غذائی نالی کہتے ہیں جو گلے کو معدے سے جوڑتی ہے۔ جوآواز کی ہڈیوں یا گلے پر گرسکتا ہے، جس سے جلن اور گلے میں بار بار ہونے والی خراش محسوس ہوتی ہے۔
ایسڈ ریفلکس میں مبتلا ہر مرض کو گلے میں جلن محسوس نہیں ہوتی اور نہ ہی ہر ایک کو سینے میں جلن ہوتی ہے اسےگیسٹرو فوجیل ریفلوکس بیماری جسےجی ای آر ڈی کہا جاتا ہے۔ کچھ مریضوں کو ہر وقت گلے میں خراش ہوتی ہے اور بعض کو مستقل کھانسی کی شکایت رہتی ہے۔ اس کے حل میں اینٹی ریفلوکس کھانے کے فورا بعد لینا فائدہ مند ہوتا ہے۔ اکثر، لوگوں کو پیٹ میں تیزابیت کم کرنے کے لیے کئی ہفتوں یا مہینوں تک دوائیں استعمال کرنی پڑتی ہیں۔
ٹانسلز (جوکہ گلے کے پچھلے حصے میں ہوتے ہیں) جراثیم سے متاثر ہوتے ہیں، جب کسی بھی شخص کو ٹانسلائٹس ہوتے ہیں تو اسے گلے میں خراش ہوتی ہے، ساتھ ہی سردی لگنا، بخار، سر، کان اور جبڑوں میں دردکے ساتھ کچھ بھی نگلتے وقت درد ہوتا ہے۔
گلے میں خراش بخار، نمی اور خشک اور گرم ہوا سے بھی ہوتی ہے، حلق خشک ہوجاتا اور درد ہونے لگتا ہے۔ ایسی صورت میں نیم گرم پانی میں نمک ڈال کر دن میں دو تین مرتبہ غرارے کریں، بخار ،جسم میں درد ہوتو ڈاکٹر سے رجوع کریں ،بہ صورت دیگر مرض بڑھتا جائے گا۔