• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بدقسمتی سے پاکستان کا شمار اُن ممالک میں ہوتا ہے، جہاں ذیابطیس کے مریضوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چُکی ہے۔ یوں تو اِس بیماری کی وجہ سے کئی خطرناک پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں، مگر ان میں سب سے زیادہ تکلیف دہ اور پیچیدہ مسئلہ پاؤں کے زخم ہیں، جو نہ صرف مریض کی روز مرّہ زندگی متاثر کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات پاؤں کٹوانے تک کی نوبت آجاتی ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے مریض مناسب معلومات نہ ہونے کی وجہ سے احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کر پاتے، حالاں کہ احتیاط اور مناسب دیکھ بھال سے پاؤں کے زخموں سے 80فی صد تک بچاؤ ممکن ہے۔ذیابطیس میں پیروں کے زخم صرف طبّی ہی نہیں، ایک سماجی، معاشی اور نفسیاتی مسئلہ بھی ہے۔

اس میں مریض شدید تکلیف، ذہنی دباؤ، معذوری اور مالی مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے، جب کہ اہلِ خانہ بھی شدید ذہنی اذیّت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ذیابطیس کے تمام مریضوں کے پاؤں میں زخم نہیں ہوتے، مگر اُنہیں زخم ہونے کا کچھ نہ کچھ خطرہ بہرحال ضرور ہوتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ذیابطیس کے 12تا 18فی صد مریضوں کے پاؤں میں زخم ہوتے ہیں۔

دراصل، ذیابطیس کے مریضوں میں پاؤں کی حِس میں کمی ہو جاتی ہے، جیسے ’’نیوروپیتھی‘‘ کہا جاتا ہے۔ نتیجتاً اُسے چوٹ لگنے، جلنے یا کسی چیز کے چُبھنے کا احساس نہیں ہوتا۔ اِس وجہ سے پیدا ہونے والے پاؤں کے زخموں کو’’نیورو پیتھک فُٹ السر‘‘ کہا جاتا ہے۔

پاؤں میں خون کی گردش بھی کم ہونا شروع ہو جاتی ہے اور اِس وجہ سے پیدا ہونے والے زخم کو’’اسمیک فُٹ السر‘‘ کہتے ہیں۔ یہ دیر سے مندمل ہوتے ہیں کہ ان میں خون کی گردش کم ہوتی ہے۔ اِن زخموں کے ساتھ پاؤں میں شدید درد ہوتا ہے۔ بعض مریضوں میں یہ دونوں مسئلے ایک ساتھ ہوتے ہیں، تو اُن زخموں کو ’’نیورواسمیک فُٹ السر‘‘ کہا جاتا ہے۔

اگر ذیابطیس کے مریض کے پاؤں میں معمولی سی خراش، چھالا یا زخم بن جائے، تو اسے معمولی نہ سمجھیں، کیوں کہ اس سے زخم میں انفیکشن ہو جاتا ہے اور بعض اوقات یہ انفیکشن اِتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ پاؤں کا متاثرہ حصّہ یا پورا پاؤں ہی کاٹنا پڑتا ہے۔

یاد رہے، ذیابطیس میں پاؤں کے زخم اچانک نہیں بنتے، بلکہ اُن سے پہلے کچھ علامات ظاہر ہوتی ہیں اور اگر مریض اُن علامات کو پہچان لے، تو بروقت علاج ممکن ہے۔ ان علامات میں پاؤں کا سُن ہونا، پاؤں کا جلنا، سوئیاں چُبھنے کا احساس، جِلد کا خشک ہونا، پاؤں کی رنگت میں تبدیلی، سوجن، درد، چھالے یا ناخن کا خراب ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ یہ علامات ہرگز نظر انداز نہ کریں اور فوری طور پر مستند معالج سے رجوع کریں۔

پاؤں کے زخموں سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر:

(1) ذیابطیس کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ روزانہ اپنے پیروں کا اچھی طرح معائنہ کریں یا معائنے کے لیے گھر کے کسی فرد کی مدد لیں۔ پاؤں میں کٹ، چھالا، سوجن، لالی یا رنگت میں تبدیلی نظر آئے، تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ انگلیوں کی درمیانی جگہ ضرور دیکھیں۔ اگر وہ گیلی اور سفید ہوں، تو ڈاکٹر کو آگاہ کریں کہ ایسی صُورت میں فنگس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

(2) پیروں کو روزانہ نیم گرم پانی سے دھونا چاہیے، جب کہ پانی کا ٹمپریچر چیک کرنے کے لیے کہنی کا استعمال کریں۔ پاؤں دھونے کے بعد اُنہیں نرم تولیے سے اچھی طرح خشک کرلیں، خاص طور پر انگلیوں کی درمیانی جگہ ضرور خشک کریں۔ جِلد نرم رکھنے کے لیے پاؤں پر موئسچرائزنگ کریم لگائیں اور اگر وہ میسّر نہ ہو، تو سرسوں یا کھوپرے کا تیل بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تاہم، انگلیوں کی درمیانی جگہ کریم یاتیل نہ لگائیں، کیوں کہ وہاں نمی جمع ہونے کی وجہ سے فنگل انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر غلطی سے لگا لیں، تو ٹشو پیپر سے خشک کرلیں۔ اِسی طرح وضو کے بعد بھی انگلیوں کی درمیانی جگہ خشک کرلیں اور کبھی بھی گیلے پاؤں جوتا نہ پہنیں۔

(3) درست جوتوں کا انتخاب، پیروں کے زخموں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے کہ ذیابطیس میں پاؤں کے زخموں کی ایک بڑی وجہ درست جوتوں کا استعمال نہ کرنا ہے۔ جوتے نرم، آرام دہ، پنجوں کے لیے کشادہ جگہ والے اور مناسب سائز کے ہونے چاہئیں۔

تنگ جوتے پیروں پر دباؤ ڈالتے ہیں، جس سے چھالے اور زخم بن سکتے ہیں۔ نئے جوتے آہستہ آہستہ پہنے جائیں تاکہ وہ پاؤں کے مطابق سیٹ ہو جائیں۔ جوتا ہمیشہ شام کے وقت خریدیں کہ شام تک ہمارا پاؤں زیادہ سے زیادہ پھیل چکا ہوتا ہے۔ نیز، ننگے پاؤں چلنے سے پرہیز کریں۔

(4) تمباکو نوشی خون کی نالیاں تنگ کرنے کا باعث بنتی ہے، جب کہ اِس سے زخم دیر سے بھرتے ہیں اور انفیکشن ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ذیابطیس کے مریضوں کے لیے تمباکو نوشی بہت ہی خطرناک عمل ہے، لہٰذا ایسے افراد فوراً یہ عادت ترک کردیں۔

(5) ذیابطیس کے مریضوں کے لیے یہ امر لازم ہے کہ وہ سال میں ایک مرتبہ اپنے پیروں کا معائنہ ضرور کروائیں۔ اگر پاؤں میں اعصابی کم زوری یا خون کی گردش میں کمی محسوس ہو، تو پھر جلد معائنہ کروانا چاہیے۔

(6) سب سے اہم ذیابطیس کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔ بلڈ پریشر، کولیسٹرول، وزن اور شوگر لیول ہدف تک رہنا ضروری ہے۔ اگر ذیابطیس پر کنٹرول اچھا رہے، تو اعصابی کم زوری اور پاؤں میں خون کی گردش کی کمی کے ساتھ، پاؤں میں زخم کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ اِس ضمن میں ہر تین ماہ بعد ہیمو گلوبن اے وَن سی، گُردوں کے ٹیسٹ UCE اور مائیکروالیون اور کولیسٹرول کا ٹیسٹ FLP ضرور کروائیں۔

(7) ناخنوں کی درست تراش خراش پیروں کی حفاظت کا ایک اہم جزو ہے۔ ناخن ہمیشہ سیدھے کاٹنے چاہئیں۔ بہت چھوٹے یا کناروں سے کاٹنے سے ناخن گوشت میں دھنس جاتے ہیں، جن سے زخم اور انفیکشن ہوسکتا ہے۔ اگر ناخن سخت یا موٹے ہوں، تو ڈاکٹر یا فُٹ کیئر اسپیشلسٹ سے مدد لیں۔

اسلام صفائی ستھرائی پر بہت زور دیتا ہے اور وضو کے دوران پیروں کا دھونا بھی صفائی کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ اگر ذیابطیس کے مریض وضو کے دوران اپنے پیروں کا جائزہ لیں، تو ابتدائی علامات جلد پکڑی جا سکتی ہیں۔ ذیابطیس کے مریضوں میں پاؤں سے متعلق چندغلط فہمیاں عام ہیں، جن کا تدارک بے حد ضروری ہے۔ جیسے: 

(1) ’’پاؤں میں درد نہیں، تو کوئی مسئلہ نہیں‘‘، یہ بالکل غلط بات ہے۔ اعصابی کم زوری کی وجہ سے شوگر کے مریضوں کے پاؤں میں حِس ختم ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے درد محسوس نہیں ہوتا۔

(2) ’’پاؤں کا چھوٹا زخم خود ٹھیک ہو جائے گا‘‘، پاؤں میں ہونے والے چھوٹے زخم کو ہرگز نظر انداز نہ کریں کہ یہ چھوٹے سے زخم، بسا اوقات انفیکشن کی وجہ سے ٹانگ کٹنے کا سبب بن جاتے ہیں۔

(3)’’ گھر کے اندر ننگے پاؤں چلنا محفوظ ہے‘‘، ہرگز نہیں۔ ذیابطیس کے مریض کے لیے ننگے پاؤں چلنا درست عمل نہیں، خواہ کوئی بھی جگہ ہو۔

(4)’’زخم کے ساتھ درد ہو، تو اچھا ہے‘‘،یہ بات بھی درست نہیں۔ اگر زخم کے ساتھ درد ہے، تو وہ اِس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ پاؤں میں خون کی گردش کم ہے۔

(5)’’شوگر میں پاؤں کے زخم کبھی ٹھیک نہیں ہوتے‘‘، یہ سوچ بھی غلط ہے۔ اگر تربیت یافتہ ڈاکٹر سے علاج کروایا جائے، تو یہ ٹھیک ہو جاتے ہیں، لیکن ان کے ٹھیک ہونے میں وقت ضرور لگتا ہے۔

(6)’’اگر پیروں میں ٹھنڈک محسوس ہوتی ہو، تو ان کی سینکائی کریں‘‘، شوگر کے مریض کو پانی (گرم)، سرخ لیمپ، ہیٹر یا آگ وغیرہ سے ہرگز سینکائی نہیں کرنی چاہیے۔

(7) ’’پاؤں کے زخموں کی پٹّی جرّاح سے کروانا بہتر ہے‘‘، بالکل بھی نہیں۔ زخموں کے علاج کے لیے جرّاحوں یا دیسی نسخوں کا استعمال نہ کریں۔ پٹّی ہمیشہ تربیت یافتہ ڈاکٹر یا تربیت یافتہ پٹّی والے ہی سے کروائیں۔

(8)’’شوگر میں پاؤں کے زخم پر پٹّی باندھنے سے زخم دیر سے ٹھیک ہوتے ہیں‘‘، حالاں کہ شوگر میں پاؤں کے زخم پر پٹّی باندھنے سے زخم جلد ٹھیک ہوتے ہیں کہ پٹّی زخم کو نم رکھنے کے ساتھ، درجۂ حرارت برقرار اور انفیکشن سے بچاتی ہے۔

ذیابطیس کے مریضوں کے لیے پیروں کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بے حد ضروری ہے۔ ہر 20سیکنڈ میں دنیا میں کہیں نہ کہیں، کسی مریض کی ٹانگ کٹ رہی ہوتی ہے اور 70فی صد ٹانگ کٹنے کی وجوہ میں ذیابطیس شامل ہے۔ اس کے برعکس، اگر ذیابطیس کے مریض اپنے پیروں کی حفاظت کریں، تو زخموں سے 80فی صد تک بچاؤ ممکن ہے۔ (مضمون نگار، ذیابطیس اور پیروں کے زخموں کے اسپیشلسٹ، ڈائریکٹر کالج آف فیملی میڈیسن، کراچی ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید