• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج او پی ڈی میں ہمیشہ کی طرح رش تھا اچانک ایک شخص بھاگتا ہوا داخل ہوا اور گھبراہٹ اور پریشانی میں ز ور سے بولا ڈاکٹر جلدی سے امی کو دیکھیں، انہیں کیا ہورہا ہے۔ میں نے نظر اُٹھا کر دیکھا 70-75 سالہ خاتون وہیل چیئر پر تھیں، ساتھ میں ایک عورت بھی تھی، جس نے خاتون کے سر پر بندھے رومال پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔

رومال بھی خون آلود تھا اور خاتون درد کی شدت سے کراہ رہی تھیں۔ میں جلدی سے آگے بڑھی، کیا ہوا ہے ان کو؟ جی امی گر گئی ہیں۔ ساتھ ہی شرمندہ سے لہجے میں ساتھ آئی عورت نے کہا، دراصل میں تو کچن میں تھی۔پتا نہیں ایسے کیسے گریں کہ خون تک بہنے لگا۔

ہسٹری لی تو معلوم ہوا کہ والدہ شوگر کی مریضہ ہیں، واش روم میں جانے کے لئے اٹھیں تو پیر کے نیچے آنے والی بچوں کی چھوٹی سی گاڑی پر پیر پڑا اور پھسل کر گرپڑیں۔ سر اور بازو پرچوٹ لگی ہے۔ معائنے کے بعدسر پر تین ٹانکے لگے، ڈریسنگ ہوئی، ایکسرے کرایا تو معلوم ہوا ہاتھ کی کلائی میں فریکچر ہے۔ آرتھوپیڈک ڈاکٹر نے پلاسٹر کردیا۔ دو چار گھنٹے بعد خاتون کو گھر بھیج دیا گیا۔

جوانی میں والدین ہمارا سہارا بنتے ہیں، بڑھاپے میں ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کا سہارا بنیں۔ عمر بڑھنے کےساتھ جسم کے مختلف اعضا کی کارکردگی بتدریج کم ہونے لگتی ہے، جس میں قدرتی تبدیلیاں ر ونما ہوتی ہیں۔ قوت مدافعت کمزور ہونے لگتی ہے، ہڈیاں نازک ہوجاتی ہیں پٹھے کمزور ہونے لگتے ہیں، بینائی اور سماعت متاثر ہوجاتی ہے اور یادداشت میں کمی آسکتی ہے۔

اگر بزرگ افراد کی مناسب دیکھ بھال کی جائے تو وہ صحت مند اور باوقار زندگی گزارسکتے ہیں، بزرگ افراد کو درپیش عام صحت کے مسائل میں بلڈ پریشر، ذیابطیس، دل اور خون کی نالیوں کی بیماریاں، فالج کا خطرہ،جوڑوں گھٹنوں اور کمر کادرد، ہڈیوں کی کمزوری Osteoporosis، یادداشت میں کمی ڈیمنشیا، الزائمر، نظر اور سماعت کی کمزوری، پیشاب کے مسائل، ڈپریشن، تنہائی اور بےخوابی شامل ہیں۔

عمر کے بڑھنے سےدرپیش چیلنجز پر نظر ڈالیں تو جسمانی کمزوری، متعدد ادویات کا بیک وقت استعمال، تنہائی اور سماجی دوری اور معاشی مشکلات کے ساتھ بروقت طبی سہولت تک رسائی میں دشواری شامل ہیں۔ صحت مند بڑھاپے کے لئے احتیاطی تدابیر کی بات کریں تو:

٭ متوازن غذا استعمال کریں، جس میں دودھ، دہی، انڈا، مچھلی، سبزیاں اور پھل شامل ہیں۔٭ نمک تیل چکنائی اور چینی سے جس حد تک ممکن ہو پرہیز کریں۔٭پانی مناسب مقدار میں پئیں٭ روزانہ کم از کم 30؍ منٹ چہل قدمی کریں ٭ بلڈپریشر، شوگر ، کولسٹرول اور آنکھوں کا باقاعدہ معائنہ کروائیں۔

٭ اگر بیماری ہے تو ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ادویات کا باقاعدہ استعمال کریں ساتھ میں ہدایت کے مطابق پرہیز بھی ضرور کریں۔

٭مناسب نیند اور ذہنی سکون کا خیال رکھیں۔٭بزرگ افراد کو ڈاکٹر کے مشورے سے فلو اور نمونیا کی ویکسین اور دیگر حفاظتی ٹیکے لگوائیں۔٭ذہنی سرگرمی کے لیے مطالعہ، گفتگوو اور ہلکی پھلکی سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینا ضروری ہے۔

بہت سے بزرگ افراد جسمانی بیماری سے زیادہ تنہائی نظرانداز کئے جانے اور بے بسی کے احساس سے متاثر ہوتے ہیں، ان سے بات کرنا، وقت گزارنا، ان کی رائے کواہمیت دینا اور انہیں خاندان کا فعال حصہ بنائے رکھنا بھی ایک موثر علاج ہے۔ محبت اور احترام ایسی دوا ہیں جن کا کوئی متبادل نہیں کسی بھی معاشرے کے مہذب ہونے کی پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے بزرگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔

طب کی ترقی نے اوسط عمر میں اضافہ کیا ہے، مگر اس کے ساتھ بزرگ افراد کی ذہنی جسمانی اور سماجی ضروریات بھی بڑھ گئی ہیں۔ اس لئے ان کی صحت کا تحفظ صرف خاندان نہیں بلکہ پورے معاشرے اور نظام صحت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بزرگوں کی دعائیں، تجربات اور شفقت ہمارے لئے قیمتی سرمایہ ہے، ان کی حفاظت کریں۔

صحت سے مزید