• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسانی تاریخ کا شاید ہی کوئی ایسا دَور ہو، جس میں لمبی عُمر پانے کی خواہش موجود نہ رہی ہو۔ کبھی آبِ حیات کی تلاش کی گئی، کبھی جڑی بوٹیوں اور اکسیر کو دائمی جوانی کا ذریعہ سمجھا گیا، اور مصنوعی ذہانت، جینیاتی سائنس اور جدید طب کے اِس دور میں بھی دنیا بَھر کے سائنس دان اِسی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ انسان نہ صرف زیادہ عرصہ زندہ کیسے رہ سکتا ہے بلکہ بڑھاپے تک صحت مند اور فعال زندگی کیسے گزار سکتا ہے۔

تاہم، جدید طبّی تحقیق نے ایک بنیادی حقیقت تو واضح کر ہی دی ہے کہ لمبی عُمر کا راز کسی ایک دوا، وٹامن، سپلیمنٹ یا منہگے علاج میں پوشیدہ نہیں بلکہ اُن روزمرّہ عادات میں ہے، جو ہماری زندگی کا حصّہ ہوتی ہیں۔ اِسی سوچ نے طب اور صحتِ عامّہ میں ایک نئے تصوّر کو جنم دیا ہے، جسے’’ہیلتھ اسپین‘‘ (Healthspan) کہا جاتا ہے۔ اِس سے مُراد صرف زندگی کے سالوں میں اضافہ نہیں، بلکہ اُن کا معیار بہتر بنانا بھی ہے۔

دوسرے الفاظ میں، مقصد صرف زیادہ عرصہ زندہ رہنا نہیں، بیماری، معذوری، جسمانی کم زوری اور ذہنی انحطاط سے حتیٰ الامکان محفوظ رہتے ہوئے زندگی کے آخری حصّے تک فعال رہنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بَھر میں صحت کی کام یابی کو صرف اوسط عُمر (Life Expectancy) سے نہیں، صحت مند عُمر (Healthy Life Expectancy) سے بھی ناپا جا رہا ہے۔ صحتِ عامّہ کے نقطۂ نظر سے یہ تبدیلی انتہائی اہم ہے۔

گزشتہ چند دہائیوں میں متعدّی بیماریوں پر کافی حد تک قابو پایا گیا، مگر ساتھ ہی غیر متعدّی امراض پوری دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آئے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق امراضِ قلب، فالج، ذیابطیس، سرطان، سانس کی دائمی بیماریاں اور گُردوں کے امراض دنیا میں ہونے والی بیش تر اموات کا سبب ہیں۔ اِن بیماریوں کا تعلق بڑی حد تک ہمارے طرزِ زندگی سے ہے اور مناسب رویّوں کے ذریعے ان کی شرح میں خاطر خواہ کمی لائی جاسکتی ہے۔

پاکستان میں ذیابطیس کی شرح، دنیا کی بلند ترین شرح میں شمار ہوتی ہے، ہائی بلڈ پریشر ہر عُمر کے افراد میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، موٹاپا بچّوں اور نوجوانوں تک پہنچ چُکا ہے، جب کہ ذہنی دباؤ، بے خوابی اور ڈیپریشن بھی خاموشی سے ایک بڑے عوامی صحت کے مسئلے کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔

دوسری جانب شہری زندگی، فضائی آلودگی، جسمانی سرگرمیوں میں کمی، غیر متوازن خوراک اور سوشل میڈیا پر انحصار نے صحت مند زندگی کے بنیادی اصول مزید کم زور کر دیے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں صحتِ عامّہ علاج سے زیادہ روک تھام پر زور دیتی ہے۔

اگر بیماری پیدا ہونے کے بعد اسپتالوں، ادویہ اور منہگے علاج پر انحصار کیا جائے، تو نہ صرف نظامِ صحت پر بوجھ بڑھتا، بلکہ افراد اور خاندان بھی معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر معاشرے میں صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دیا جائے، تو لاکھوں افراد کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

اِسی تناظر میں ہارورڈ میڈیکل اسکول نے طویل اور صحت مند زندگی کے پانچ بنیادی ستون متعیّن کیے ہیں: جسمانی سرگرمی، متوازن غذا، معیاری نیند، ذہنی دباؤ میں کمی اور مضبوط سماجی تعلقات۔ یہ پانچوں ستون دراصل بیماریوں کے علاج سے زیادہ روک تھام، جسمانی و ذہنی صلاحیت کے تحفّظ اور صحت مند بڑھاپے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ اصول انفرادی زندگی کے ساتھ قومی صحت کی پالیسیز کا حصّہ بنا لیے جائیں، تو نہ صرف اوسط عُمر میں اضافہ ممکن ہے، بلکہ صحت مند عُمر میں بھی نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

پہلا ستون: جسمانی سرگرمی

قدرت نے انسان کو حرکت کے لیے پیدا کیا ہے۔ انسانی جسم کا ہر عضو، ہر جوڑ، عضلہ، یہاں تک کہ دل و دماغ بھی مسلسل حرکت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ مگر جدید شہری زندگی نے انسان کو پہلے سے کہیں زیادہ غیر متحرّک کر دیا ہے۔ دفتر میں کئی گھنٹے مسلسل بیٹھنا، گاڑی پر انحصار، لفٹ کا استعمال، کمپیوٹر اور موبائل فون پر طویل وقت گزارنا اور تفریح کے روایتی جسمانی ذرائع کی جگہ ڈیجیٹل سرگرمیوں کا فروغ ایک ایسا طرزِ زندگی پیدا کر چُکا ہے، جسے ماہرین’’Sedentary Lifestyle‘‘ کہتے ہیں، اور یہی آج بہت سی بیماریوں کی جڑ بن چُکا ہے۔

صحتِ عامّہ کی تحقیق واضح کرتی ہے کہ جسمانی سرگرمی صرف وزن کم کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ دل، دماغ، پھیپھڑوں، ہڈیوں، عضلات، مدافعتی نظام اور ذہنی صحت سب کے لیے یک ساں فائدہ مند ہے۔ باقاعدہ جسمانی سرگرمی خون کی روانی بہتر، بلڈ پریشر متوازن، انسولین کی حساسیت بڑھاتی، خون میں نقصان دہ چکنائی کم کرتی، جسمانی سوزش میں کمی لاتی، دل کے دَورے اور فالج کے خطرات نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔

ورزش کے فوائد صرف جسم تک محدود نہیں رہتے بلکہ دماغ بھی اس سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔ جسمانی سرگرمی کے دوران ایسے کیمیائی مادّے خارج ہوتے ہیں، جو خوشی، اطمینان اور ذہنی سکون کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باقاعدہ ورزش کرنے والے افراد میں ڈیپریشن، بے چینی اور دائمی ذہنی دباؤ نسبتاً کم دیکھا جاتا ہے۔

تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ عُمر رسیدہ افراد میں روزانہ چہل قدمی اور ہلکی ورزش یادداشت کی حفاظت اور ڈیمنشیا کے خطرات میں کمی سے بھی منسلک ہے۔ پاکستان کے تناظر میں جسمانی سرگرمی کو صرف کھیل کود یا نوجوانوں کی ضرورت سمجھنا ایک بڑی غلط فہمی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بچّے، نوجوان، خواتین، ملازمت پیشہ افراد، بزرگ، سب کو اپنی عُمر اور جسمانی استعداد کے مطابق روزانہ حرکت کی ضرورت ہے۔ عالمی ادارۂ صحت، بالغ افراد کے لیے ہفتے میں کم از کم150 منٹ معتدل جسمانی سرگرمی یا 75 منٹ نسبتاً تیز ورزش کی سفارش کرتا ہے، جب کہ بچّوں کے لیے روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ جسمانی سرگرمی مفید سمجھی جاتی ہے۔ ورزش کا مطلب جم جانا یا منہگے آلات خریدنا نہیں۔

روزانہ تیز قدموں سے چہل قدمی، سیڑھیاں استعمال کرنا، مختصر فاصلے پیدل طے کرنا، سائیکل چلانا، تیراکی، باغ بانی، گھریلو کاموں میں حصّہ لینا یا بچّوں کے ساتھ کھیلنا بھی جسمانی سرگرمی میں شمار ہوتا ہے۔ اہم بات مستقل مزاجی ہے، کیوں کہ جسم روزانہ کی حرکت سے فائدہ اُٹھاتا ہے، کبھی کبھار کی شدید ورزش سے نہیں۔

عوامی صحت کے ماہرین کے نزدیک اگر حکومتیں شہروں کی منصوبہ بندی میں پیدل چلنے والوں، سائیکل سواروں، پارکس، کھیل کے میدانوں اور محفوظ واکنگ ٹریکس کو ترجیح دیں، تو لاکھوں افراد بغیر کسی اضافی طبّی اخراجات کے بہتر صحت حاصل کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے بیش تر شہروں میں صحت دوست شہری منصوبہ بندی پر ابھی خاطر خواہ توجّہ نہیں دی جاتی، جس کے نتیجے میں جسمانی سرگرمی مسلسل کم اور غیر متعدی بیماریاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

دوسرا ستون: متوازن غذا

اگر جسمانی سرگرمی انسانی جسم کو حرکت دیتی ہے، تو متوازن غذا اِس حرکت کو توانائی، قوّت اور تحفّظ فراہم کرتی ہے۔ انسان جو کچھ کھاتا ہے، وہی اُس کے جسم، دماغ، مدافعتی نظام اور مستقبل کی صحت کی بنیاد بنتا ہے۔ اِسی لیے ماہرینِ غذائیت کہتے ہیں کہ دوا کا آغاز اکثر باورچی خانے سے ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے جدید دَور میں خوراک کی دست یابی تو بڑھ گئی ہے، مگر غذائیت کا معیار مسلسل گر رہا ہے۔

پراسیسڈ غذائیں، فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات، سفید آٹے سے بنی اشیا، زیادہ نمک، چکنائی اور مصنوعی اجزا پر مشتمل خوراک نے روایتی متوازن غذا کی جگہ لینا شروع کر دی ہے، جس کے نتائج غیر متعدّی بیماریوں کی صُورت پوری دنیا کے سامنے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ تبدیلی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ایک طرف غذائی قلّت، خون کی کمی، بچّوں میں نشوونما کی کمی اور مائیکرونیوٹرینٹس کی کمی جیسے مسائل موجود ہیں، جب کہ دوسری طرف موٹاپا، ذیابطیس، فیٹی لیور، بلند فشارِ خون اور کولیسٹرول کی زیادتی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

صحتِ عامّہ کی اصطلاح میں اِسے دُہرا غذائی بوجھ (Double Burden of Malnutrition) کہا جاتا ہے، جہاں غذائیت کی کمی اور غیر صحت بخش خوراک، دونوں ایک ہی معاشرے میں موجود ہوتی ہیں۔ یہ صُورتِ حال صرف طبّی نہیں، معاشی، سماجی اور ترقیاتی مسئلہ بھی بن جاتی ہے۔ متوازن غذا کا مطلب منہگی غذا ہرگز نہیں۔ درحقیقت، پاکستان کی روایتی خوراک میں بہت سی ایسی غذائیں موجود ہیں، جو غذائیت سے بھرپور ہونے کے ساتھ نسبتاً سَستی بھی ہیں۔

دالیں، چنے، لوبیا، ثابت اناج، باجرا، جَو، سبز پتّوں والی سبزیاں، موسمی پھل، دہی، دودھ، انڈے، مچھلی اور مناسب مقدار میں خشک میوہ جات صحت بخش غذا کی بہترین مثالیں ہیں۔ اس کے برعکس رنگ برنگے مشروبات، بار بار فاسٹ فوڈ، پیک شدہ اسنیکس، زیادہ چینی اور نمک والی غذائیں وقتی ذائقہ تو فراہم کرتی ہیں، مگر طویل مدّت میں جسم کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ خوراک کا ایک اہم پہلو غذائی توازن ہے۔

ہر کھانے میں کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، صحت مند چکنائیاں، فائبر، وٹامنز اور معدنیات مناسب مقدار میں شامل ہونے چاہئیں۔ اگر پلیٹ کا نصف حصّہ سبزیوں اور سلاد، ایک چوتھائی حصّہ معیاری پروٹین اور باقی حصّہ ثابت اناج پر مشتمل ہو، تو یہ ایک متوازن غذا کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اس کے ساتھ روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا بھی نہایت ضروری ہے، کیوں کہ پانی جسم کے تقریباً ہر حیاتیاتی عمل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ غذائیت کا تعلق صرف جسمانی صحت سے نہیں، بلکہ ذہنی صحت سے بھی ہے۔

حالیہ برسوں میں آنتوں کے مفید جراثیم پر، جنہیں گٹ مائیکروبائیوم (Gut Microbiome) کہا جاتا ہے، ہونے والی تحقیق نے ثابت کیا کہ متوازن غذا دماغی افعال، مزاج، قوّتِ مدافعت اور ذہنی سکون پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ فائبر سے بھرپور غذا، دہی، پھل اور سبزیاں مفید جراثیم کی افزائش میں مدد دیتی ہیں، جب کہ زیادہ چینی اور پراسیسڈ خوراک ان کا توازن بگاڑ سکتی ہے۔

غذا کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم کیا کھاتے ہیں، بلکہ اس کا تعلق اِس امر سے بھی ہے کہ کیسے کھاتے ہیں۔ جلدی جلدی کھانا، موبائل فون یا ٹیلی ویژن دیکھتے ہوئے کھانا، رات گئے بھاری کھانا، جذباتی کیفیت میں غیر ضروری خوراک اور بار بار اسنیکس لینا، جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کرتا ہے۔

اگر خاندان کے افراد کم از کم ایک وقت کا کھانا اکٹھے بیٹھ کر سکون سے کھائیں، تو اس طرح نہ صرف غذائی عادات بہتر ہوتی ہیں، بلکہ خاندانی تعلقات بھی مضبوط ہوتے ہیں۔ عوامی صحت کے نقطۂ نظر سے حکومتوں کو ایسی پالیسیز اختیار کرنے کی ضرورت ہے، جو صحت بخش غذا کو عام آدمی کی دست رَس میں رکھیں۔

اسکولز میں جنک فوڈ کی دست یابی محدود کرنا، غذائی لیبلنگ بہتر بنانا، میٹھے مشروبات کے بے جا استعمال کی حوصلہ شکنی، زرعی پالیسیز میں غذائیت کو ترجیح دینا اور عوام میں متوازن غذا سے متعلق آگاہی پیدا کرنا، وہ اقدامات ہیں، جو آنے والی نسلوں کی صحت پر دیرپا اثرات مرتّب کر سکتے ہیں۔

تیسرا ستون: معیاری نیند

اگر متوازن غذا جسم کو ایندھن فراہم کرتی ہے، تو معیاری نیند اس ایندھن کا مؤثر انداز میں استعمال، جسم کی مرمّت اور دماغ تازہ دَم کرنے کا قدرتی نظام ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ نیند کو اکثر غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ مصروف طرزِ زندگی، رات گئے تک موبائل فون کا استعمال، سوشل میڈیا، ذہنی دباؤ، بے قاعدہ اوقاتِ کار اور مصنوعی روشنی نے لاکھوں افراد کو نیند کی دائمی کمی کا شکار بنا دیا ہے۔ سائنسی اعتبار سے نیند ایک فعال حیاتیاتی عمل ہے۔

اِسی دَوران دماغ دن بَھر کی معلومات ترتیب دیتا ہے، غیر ضروری فضلات خارج کرتا، یادداشت مضبوط بناتا، مدافعتی نظام متحرّک کرتا، ہارمونز متوازن رکھتا اور جسمانی خلیات کی مرمّت کا عمل انجام دیتا ہے۔ اگر یہ قدرتی عمل مسلسل متاثر ہوتا رہے، تو اس کے اثرات پورے جسم پر مرتّب ہوتے ہیں۔ نیند کی کمی سے صرف تھکن ہی محسوس نہیں ہوتی، ذیابطیس، موٹاپا، بلند فشارِ خون، دل کی بیماری، ذہنی دباؤ، ڈیپریشن، توجّہ میں کمی، یادداشت کی خرابی اور حادثات کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ کم سونے والے افراد میں بھوک بڑھانے والے ہارمون زیادہ متحرّک ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے غیر ضروری کھانے کی خواہش بڑھتی اور وزن میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں رات گئے تک سماجی سرگرمیاں، ٹیلی ویژن، موبائل فون اور بے ترتیب معمولات عام ہیں، نیند کی اہمیت سے متعلق عوامی آگاہی پیدا کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ بالغ افراد کے لیے روزانہ تقریباً سات سے نو گھنٹے کی معیاری نیند ضروری سمجھی جاتی ہے، جب کہ بچّوں اور نوجوانوں کو اس سے بھی زیادہ نیند درکار ہوتی ہے۔

معیاری نیند کے لیے چند سادہ مگر مؤثر اصول اپنائے جا سکتے ہیں۔ روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا، سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل اور دیگر اسکرینز سے دُور رہنا، شام کے بعد کیفین کا استعمال محدود، رات کا کھانا ہلکا رکھنا، سونے کا کمرا پُرسکون، صاف اور تاریک ہونا اور دن بھر مناسب جسمانی سرگرمی اختیار کرنا نیند کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر بناتا ہے۔

صحتِ عامّہ کے تناظر میں معیاری نیند صرف ایک ذاتی عادت نہیں، بلکہ معاشرتی پیداواریت، تعلیمی کام یابی، ذہنی صحت، ٹریفک حادثات کی روک تھام اور مجموعی قومی صحت سے براہِ راست جُڑی ہوئی ہے۔ اِسی لیے اب بہت سے ممالک میں نیند کو بھی صحت مند طرزِ زندگی کے بنیادی ستونوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔

چوتھا ستون: ذہنی دباؤ میں کمی

ذہنی دباؤ انسانی زندگی کا ایک فطری حصّہ ہے۔ روزگار، تعلیم، معاشی مشکلات، خاندانی ذمّے داریاں، بیماری، مستقبل کی غیر یقینی صُورتِ حال اور روزمرّہ کے چیلنجز ہر انسان کو کسی نہ کسی درجے پر متاثر کرتے ہیں۔ محدود اور عارضی دباؤ بعض اوقات انسان کو بہتر کارکردگی کے لیے تیار کرتا ہے، لیکن جب یہی دباؤ مسلسل، شدید اور بے قابو ہو جائے، تو یہ خاموشی سے جسم اور دماغ دونوں کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتا ہے۔ عوامی صحت کے ماہرین ذہنی دباؤ کو صرف ایک نفسیاتی مسئلہ نہیں سمجھتے، بلکہ اسے غیر متعدّی بیماریوں کے اہم خطراتی عوامل میں شمار کرتے ہیں۔

مسلسل ذہنی دباؤ کی صُورت میں جسم کا کورٹیسول اور دیگر تناؤ پیدا کرنے والے ہارمونز کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ اگر یہ کیفیت طویل عرصے تک برقرار رہے، تو اس کے نتیجے میں بلند فشارِ خون، دل کی بیماری، ذیابطیس، معدے کے امراض، نیند کی خرابی، قوّتِ مدافعت میں کمی، ڈیپریشن اور بے چینی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ فیصلہ سازی، توجّہ، یادداشت اور سماجی تعلقات بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔

پاکستان جیسے ممالک میں معاشی عدم استحکام، بے روزگاری، بڑھتی منہگائی، تعلیمی دباؤ، شہری زندگی کی تیز رفتاری، ٹریفک، ماحولیاتی آلودگی اور قدرتی آفات جیسے عوامل ذہنی دباؤ میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کی کمی اور معاشرتی بدنامی (Stigma) کے باعث بہت سے افراد بروقت مدد حاصل نہیں کر پاتے، جس کے نتیجے میں مسائل مزید سنگین ہو جاتے ہیں۔

ذہنی دباؤ پر قابو پانے کے لیے ہمیشہ منہگے علاج ضروری نہیں ہوتے کہ روزانہ چند منٹ گہرے سانس کی مشق، نماز میں خشوع وخضوع، دُعا، ذکر، مراقبہ، قرآنِ مجید کی تلاوت، فطرت کے قریب وقت گزارنا، باقاعدہ ورزش، پسندیدہ مشغلہ اپنانا، کتاب خوانی اور خاندان کے ساتھ معیاری وقت گزارنا، ذہنی سکون پیدا کرنے میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔

اِسی طرح اپنی پریشانیوں کو کسی قابلِ اعتماد دوست، خاندان کے فرد یا ماہر سے شیئر کرنا بھی ذہنی بوجھ کم کرتا ہے۔ صحتِ عامّہ کے نقطۂ نظر سے ضروری ہے کہ ذہنی صحت کو جسمانی صحت جتنی اہمیت دی جائے۔ اسکولز، جامعات، دفاتر اور طبّی مراکز میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی، مشاورت کی سہولت اور بروقت تشخیص کا نظام مضبوط بنایا جائے۔ اگر ذہنی دباؤ ابتدائی مرحلے میں سنبھال لیا جائے، تو نہ صرف فرد کی زندگی بہتر ہوتی ہے، بلکہ معاشرے پر بیماریوں اور علاج کا بوجھ بھی کم ہوتا ہے۔

پانچواں ستون: مضبوط سماجی تعلقات

انسان فطری طور پر ایک سماجی مخلوق ہے۔ اس کی خوشی، غم، اعتماد، اُمید اور ذہنی سکون کا بڑا حصّہ اُس کے تعلقات سے وابستہ ہوتا ہے۔ جدید دنیا نے اگرچہ رابطے کے بے شمار ذرائع فراہم کیے ہیں، مگر اس کے باوجود تنہائی، سماجی دُوری اور جذباتی لاتعلقی میں اضافہ بھی ایک حقیقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مضبوط سماجی تعلقات اب صحت مند اور طویل زندگی کے بنیادی ستونوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

خاندان، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن اور کمیونٹی انسان کو صرف جذباتی سہارا ہی نہیں دیتے، بلکہ مشکل وقت میں عملی مدد، حوصلہ اور اُمید بھی فراہم کرتے ہیں۔ ایسے افراد جو اپنے خاندان اور معاشرے سے جُڑے رہتے ہیں، اُن میں ذہنی دباؤ، ڈیپریشن اور بے چینی نسبتاً کم دیکھی جاتی ہے۔ اُن کی قوّتِ مدافعت بہتر ہوتی ہے، علاج پر عمل درآمد زیادہ مؤثر ہوتا ہے اور بیماری سے صحت یابی کا عمل بھی نسبتاً بہتر رہتا ہے۔

پاکستانی معاشرہ روایتی طور پر مضبوط خاندانی نظام، رشتے داری، مہمان نوازی، اجتماعی عبادات اور سماجی میل جول کی وجہ سے منفرد شناخت رکھتا ہے۔ اگرچہ شہری زندگی اور مصروف معمولات نے یہ روایات کسی حد تک متاثر کی ہیں، لیکن یہ پھر بھی ہماری معاشرتی طاقت ہیں۔ بزرگوں کی عزّت، والدین کی خدمت، رشتے داروں سے ملاقات، بیمار پُرسی، خوشی و غم میں شرکت اور پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنا، صرف مذہبی و اخلاقی اقدار ہی نہیں، صحت مند معاشرے کی بنیاد بھی ہیں۔

سوشل میڈیا حقیقی تعلقات کا مکمل متبادل نہیں ہو سکتا۔ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنا، گفتگو ، ہم دردی کا اظہار کرنا، کمیونٹی کی سرگرمیوں میں حصّہ لینا اور رضاکارانہ خدمات انجام دینا انسان میں مقصدِ زندگی، خُود اعتمادی اور اطمینان پیدا کرتا ہے۔

یہی احساسات ذہنی و جسمانی صحت دونوں کو بہتر بناتے ہیں۔ صحتِ عامّہ کی پالیسیز میں بھی سماجی تعلقات کی اہمیت تسلیم کی جا رہی ہے۔ عُمر رسیدہ افراد کے لیے کمیونٹی سینٹرز، نوجوانوں کے لیے کھیل کود اور ثقافتی سرگرمیاں، خواتین کے لیے معاون گروپس اور رضاکارانہ خدمات کے مواقع نہ صرف سماجی ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں، بلکہ بیماریوں کی روک تھام میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

صحت مند قوم کی بنیاد، صحت مند طرزِ زندگی

اکیسویں صدی میں صحت کا سب سے بڑا چیلنج صرف نئی ادویہ ایجاد کرنا یا مزید اسپتال تعمیر کرنا نہیں، بلکہ ایسے معاشرے تشکیل دینا ہے، جہاں لوگ بیمار ہونے سے پہلے صحت مند رہنے کے اصول سیکھیں اور اُن پر عمل کریں۔ اگرچہ جدید طب نے بے شمار کام یابیاں حاصل کی ہیں، لیکن کوئی بھی صحت کا نظام اُس وقت تک پائے دار نہیں ہو سکتا، جب تک بیماریوں کی روک تھام کو ترجیح نہ دی جائے۔

جسمانی سرگرمی، متوازن غذا، معیاری نیند، ذہنی دباؤ پر قابو اور مضبوط سماجی تعلقات بظاہر سادہ اصول محسوس ہوتے ہیں، مگر اِن کا مجموعی اثر غیر معمولی ہے۔ یہی پانچ ستون دل کی بیماریوں، ذیابطیس، موٹاپے، فالج، ڈیپریشن، بعض اقسام کے سرطان اور قبل از وقت بڑھاپے جیسے مسائل کے خطرات کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی اصول انسان کو نہ صرف زیادہ عرصہ زندہ رہنے بلکہ بہتر، فعال اور خود مختار زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

پاکستان جیسے ترقّی پذیر مُلک میں، جہاں صحت کے وسائل محدود ہیں، صحت مند طرزِ زندگی کا فروغ ایک قومی ترجیح ہونا چاہیے۔ حکومت کو شہری منصوبہ بندی، محفوظ پارکس، کھیل کے میدانوں، سائیکل ٹریکس، غذائیت سے متعلق آگاہی، تمباکو نوشی کے انسداد، ذہنی صحت کی خدمات اور پرائمری ہیلتھ کیئر نظام کو مضبوط بنانے پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ بچّوں میں صحت مند عادات کو فروغ دیں، تو میڈیا درست صحت بخش معلومات عام کرے، جب کہ طبّی ماہرین علاج کے ساتھ طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی کی رہنمائی کو بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمّے داری سمجھیں۔ صحت مند قوم اسپتالوں میں نہیں، گھروں، اسکولز، محلّوں، کھیل کے میدانوں اور روزمرّہ زندگی کی اچھی عادات سے تشکیل پاتی ہے۔

اگر ہم اپنی پلیٹ بہتر بنا لیں، روزانہ کچھ دیر چلنے کی عادت ڈال لیں، نیند کو اہمیت دیں، ذہنی سکون کے لیے وقت نکالیں اور اپنے خاندانی و سماجی رشتے مضبوط کریں، تو نہ صرف اپنی زندگی کے سالوں میں اضافہ کر سکتے ہیں، بلکہ ہر سال کو زیادہ صحت مند، باوقار اور زیادہ بامقصد بنا سکتے ہیں۔ یہی صحتِ عامّہ کا اصل پیغام، ایک خوش حال معاشرے کی بنیاد اور آنے والی نسلوں کے لیے بہترین تحفہ ہے۔

(مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، محکمۂ صحت، سندھ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید