• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دانت ہمارے جسم کا اہم حصّہ ہیں، جن کی حفاظت ہماری ذمّے داری ہے۔ ویسے تو دنیا بَھر میں دانتوں کے متعدّد مسائل لوگوں کو پریشان کرتے ہیں، لیکن اُن میں سے سب سے زیادہ اور عام شکایت دانتوں اور مسوڑھوں کی جھریوں (خلا) سے خون نکلنے کی ہوتی ہے۔

دانتوں یا مسوڑھوں سے خون آنے سے ایک تو متاثرہ افراد کو شدید تکلیف ہوتی ہے، دوم اُنھیں دانتوں میں ٹھنڈا یا گرم بھی لگنے لگتا ہے، جو بعض اوقات خاصی اذیت ناک شکل اختیار کر جاتا ہے۔ یہ دانتوں کا سب سے عام اور بنیادی مسئلہ ہے۔

دانتوں کے اِن مسائل سے نجات کے لیے بہتر طریقہ یہی ہے کہ اُن کی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے۔ روزانہ ٹھیک اور مناسب انداز میں برش کریں، جس کے لیے ضروری ہے کہ ہاتھ نرم رکھا جائے، یعنی سختی کے ساتھ یا زور زور سے برش نہ کیا جائے۔

نیز، دانتوں کی صفائی ستھرائی کے لیے Scallingبھی کی جاتی ہے، اس طریقۂ علاج سے دانتوں سے تیزابی نمک (ٹارٹر) اور پلاک صاف کیا جاتا ہے، یوں دانتوں سے پان اور گٹکے کے دھبّے بھی صاف ہوجاتے ہیں۔ دانتوں میں ٹھنڈا، گرم وقتی طور پر محسوس ہوتا ہے، مگر ان میں حساسیت پیدا نہیں ہوتی۔ ٹارٹر سے مسوڑھے اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے دانت کم زور ہوجاتے ہیں۔

چھوٹے بچّوں کے دانت صحت مند رکھنے اور اُن کے منہ کی صفائی کے لیے سب سے پہلی اور ضروری بات یہ ہے کہ بچّوں کے دن بَھر کے کھانے پینے کی اشیاء پر نظر رکھی جائے۔ عام طور پر بچّے روزانہ چاکلیٹس، کینڈیز، ٹافیاں اور میٹھے بسکٹس وغیرہ کھاتے رہتے ہیں اور یہ چیزیں دانتوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں۔

روزانہ دن میں دو بار بچّوں کے دانت برش کریں اور خیال رہے کہ بچّے اکیلے یہ کام نہ کریں، بلکہ والدین کی موجودگی اور اُن کی نگرانی ہی میں دانت برش کرنے چاہئیں۔ بچّوں کی منہ کی صفائی کے لیے ضروری ہے کہ اگر ممکن ہو، تو ہر بار کینڈی، چاکلیٹ کھانے کے بعد اُنھیں سادہ پانی پلائیں یا کم از کم کُلّیاں ہی کروالیں۔

ہمارے ہاں عام بیماریوں کے لیے تو ڈاکٹرز کے پاس جانے کا رواج ہے، لیکن لوگ دانتوں کے امراض کے ماہرین کے پاس کم ہی جاتے ہیں، زیادہ تر دیسی ٹوٹکوں ہی سے کام چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہاں، جب معاملہ بگڑ جائے، تب ڈینٹیسٹس سے رجوع کیا جاتا ہے، حالاں کہ ہمیں چاہیے کہ دانتوں کے ماہر سے اپنا ریگولر چیک اَپ کروائیں، ہر چھے ماہ کے دوران ایک بار تو ضرور ہی اُن کے پاس جائیں اور دانتوں کے کسی بظاہر چھوٹے مسئلے کو بھی نظر انداز نہ کریں، کیوں کہ اگر کسی مرض کی ابتدا ہی میں تشخیص اور علاج معالجہ ہو جائے، تو بعد میں بڑی پریشانی سے بچا جاسکتا ہے۔ سب بڑوں اور بچّوں کو رات سونے سے پہلے اچھی طرح برش کرنا چاہیے یا پھر اچھی طرح کُلّیاں تو لازماً کریں۔

(مضمون نگار، سینئر ڈینٹل سرجن ہیں اور سینٹر آف کاسمیٹک ڈینٹل سرجری اینڈ امپلانٹ ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید