• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انٹرمٹنٹ فاسٹنگ: کھانے کے اوقات منظم کرنے کا سائنسی طریقہ

غذائیت اور صحت کے میدان میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ایک بنیادی تبدیلی یہ آئی ہے کہ اب توجّہ صرف اس بات پر مرکوز نہیں رہی کہ انسان کیا کھاتا ہے، بلکہ اس امر پر بھی تحقیق ہو رہی ہے کہ کھانا کس وقت اور کتنی مدّت کے وقفے سے کھایا جائے۔ جدید سائنسی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ کھانے کے اوقات (Meal Timing) بھی جسم کے میٹابولزم، ہارمونز، توانائی کے استعمال اور بیماریوں کے خطرات پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اسی تصوّر نے انٹرمٹنٹ فاسٹنگ (Intermittent Fasting) کو جدید طب اور غذائیت کا ایک اہم موضوع بنا دیا ہے۔

آج دنیا بھر میں موٹاپا، پری ذیابطیس، ٹائپ ٹو ذیابطیس، ہائی بلڈ پریشر، نان الکوحلک فیٹی لیورڈیزیز(Non-Alcoholic Fatty Liver Disease) اور دل کی بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق موٹاپا اب ایک عالمی وبا (Global Epidemic) کی شکل اختیار کرچُکا ہےاورانٹرنیشنل ڈائی بیٹیز فیڈریشن (IDF) کے مطابق 2025 ء میں، دنیا بھر میں تقریباً 58 کروڑ 90 لاکھ (589ملین) بالغ افراد ذیابطیس سے متاثرہ ہیں، جب کہ تقریباً 25 کروڑ20 لاکھ (252 ملین) افراد ایسے ہیں، جنہیں ذیابطیس لاحق ہے،مگروہ اس سےبےخبر ہیں۔

پاکستان بھی اُن ممالک میں شامل ہے، جہاں ذیابطیس کی شرح دنیامیں بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے، جس کی بڑی وجوہ میں غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمیوں کی کمی، موٹاپا اور غیرصحت مند طرزِ زندگی شامل ہیں۔ ایسے حالات میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف ادویہ کے ذریعے ان بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے یا طرزِ زندگی میں ایسی تبدیلیاں بھی ناگزیرہیں، جو بیماری کے خطرات کم کر سکیں؟ جدید تحقیق کا جواب واضح ہے کہ ادویہ کے ساتھ صحت مندطرزِ زندگی بیماریوں کی روک تھام اورعلاج دونوں میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور ’’انٹرمٹنٹ فاسٹنگ‘‘ اسی طرزِ زندگی کا ایک اہم جزو بن کر سامنے آئی ہے۔

انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کیا ہے؟: یہ کوئی مخصوص غذا (Diet) نہیں بلکہ کھانے کے اوقات منظّم کرنے کا ایک سائنسی طریقہ ہے۔ اس میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ دن یا ہفتے کے کس حصّے میں کھانا کھایا جائے اور کس حصّے میں جسم کو آرام دیاجائے تاکہ وہ اپنی ذخیرہ شدہ توانائی استعمال کرسکے۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کا مطلب بھوکا رہنا یا غذائی قلّت پیدا کرنا نہیں۔

اس کا مقصد صرف اتنا ہے کہ کھانے کے درمیان مناسب وقفہ رکھا جائے، تاکہ جسم کو مسلسل انسولین خارج کرنے کی ضرورت نہ پڑے اور وہ اپنی قدرتی میٹابولک صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کر سکے۔ اسی لیے ماہرین اسے ’’Time-Restricted Eating‘‘ یا ’’Time-Restricted Feeding‘‘ بھی کہتے ہیں، کیوں کہ اس میں غذا کے معیار کے ساتھ اس کے وقت کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔

انسانی جسم میں توانائی کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟: انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے جسم کےتوانائی کے نظام کو سمجھا جائے۔ جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو کاربوہائیڈریٹس ہضم ہو کر گلوکوز میں تبدیل ہوتے ہیں، جو خون کےذریعےجسم کےمختلف خلیات تک پہنچتا ہے۔ اس عمل میں انسولین بنیادی کردارادا کرتی ہے۔ انسولین خلیات کو یہ پیغام دیتی ہےکہ وہ گلوکوز کو جذب کرکے توانائی کےطور پر استعمال کریں۔

اگر جسم کو فوری طور پراس تمام گلوکوز کی ضرورت نہ ہو تو اضافی مقدار پہلے جگر اور پٹّھوں میں گلائیکوجن کی صورت محفوظ ہوتی ہے اور جب یہ ذخیرہ بھرجاتا ہے تو باقی توانائی جسم میں چربی (Body Fat) کی شکل میں جمع ہونے لگتی ہے۔

یہ ایک قدرتی نظام ہے، لیکن جدید طرزِ زندگی میں ایک مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ بہت سےلوگ صُبح سےرات تک وقفے وقفے سے کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے ہیں۔ ہر مرتبہ کھانا کھانے سے انسولین دوبارہ خارج ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں جسم کو ذخیرہ شدہ چربی استعمال کرنےکا موقع کم ملتا ہے۔ یہی کیفیت وقت کے ساتھ انسولین ریزیسٹینس، موٹاپے اور میٹابولک سینڈروم کی بنیاد بن سکتی ہے

میٹابولک سوئچنگ: انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کا بنیادی تصور Metabolic Switching ہے۔ جب کئی گھنٹوں تک نئی غذا جسم میں داخل نہیں ہوتی تو پہلے جگر میں موجود گلائیکوجن استعمال ہوتا ہے۔ اس ذخیرے کے کم ہونےکےبعد جسم توانائی حاصل کرنے کے لیے ذخیرہ شدہ چربی توڑنا شروع کرتا ہے اور اس عمل کے دوران فیٹی ایسڈز اور کیٹون باڈیزبنتی ہیں، جودماغ، دل اور دیگر اعضاء کے لیے مؤثر توانائی فراہم کرتی ہیں۔

یہ تبدیلی صرف وزن کم کرنے تک محدود نہیں رہتی بلکہ انسولین کی سطح میں کمی، چربی کے بہتر استعمال، بعض سوزشی عوامل میں کمی اور میٹابولک صحت میں بہتری سے بھی منسلک سمجھی جاتی ہے۔ اِسی وجہ سے ماہرینِ صحت انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کوصرف کیلوریز کم کرنے کا طریقہ نہیں بلکہ جسم کے توانائی کے نظام کو دوبارہ متوازن کرنے کی حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں۔

انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کی مختلف اقسام: چوں کہ ہرفرد کی عُمر، پیشہ، صحت اور روزمرّہ معمول مختلف ہوتا ہے، اِس لیے انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کا ایک ہی طریقہ سب کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا۔ سب سے آسان طریقہ 12:12 ہے، جس میں بارہ گھنٹے کھانا اور بارہ گھنٹے فاسٹنگ کی جاتی ہے۔ نئے افراد کے لیے یہی مناسب آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بعد 14:10 اور پھر 16:8 نسبت کا طریقہ آتا ہے، جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔

اس میں سولہ گھنٹے فاسٹنگ اورآٹھ گھنٹوں کے اندر دن کی تمام غذائیں لی جاتی ہیں۔ مزید سخت طریقوں میں 18:6، 20:4، اور Alternate-Day Fasting شامل ہیں، لیکن یہ ہر شخص کےلیےمناسب نہیں ہوتے اور انہیں صرف مناسب رہنمائی کے ساتھ ہی اپنانا چاہیے۔ ماہرین اس بات پرمتفق ہیں کہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کا بہترین طریقہ وہی ہے، جسے کوئی شخص طویل عرصے تک مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھ سکے۔

سائنسی شواہد کیا کہتے ہیں؟: طبّی تحقیق سے مجموعی طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ وزن کم کرنے، پیٹ کی چربی گھٹانے، انسولین کی حسّاسیت بہتر بنانے اور میٹابولک صحت میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم سائنسی دیانت داری کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ان نتائج کوزیادہ بڑھا چڑھا کر پیش نہ کیا جائے۔ موجودہ شواہد یہ نہیں کہتے کہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ ہر بیماری کا علاج ہے یا ہرفرد کو یک ساں فائدہ پہنچاتی ہے۔

اس کی کام یابی کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ فاسٹنگ کے دوران اور اس کے بعد غذا کتنی متوازن ہے۔ جسمانی سرگرمی کتنی ہے، نیند کیسی ہے اور فرد کو پہلے سےکون سی طبّی بیماریاں لاحق ہیں۔ اسی لیے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ذیابطیس یا دیگر دائمی بیماریوں کے مریض کوئی بھی نئی غذائی حکمتِ عملی اختیار کرنے سے قبل اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔

انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے ذیابطیس، دل، دماغ اور خلیاتی صحت پر اثرات: طبّی تحقیق نے واضح کیا ہے کہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کےفوائد صرف وزن میں کمی تک محدود نہیں۔ اگر اسے متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی کے ساتھ اختیار کیا جائےتو یہ میٹابولک صحت کے کئی اہم اشاریوں پر مثبت اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

تاہم ہر دعوے کے پیچھے شواہد کی مضبوطی ایک جیسی نہیں۔ بعض فوائد کے حق میں مضبوط انسانی تحقیق موجود ہے، جب کہ بعض پہلوؤں پر ابھی مزید مطالعات کی ضرورت ہے۔ ایک سائنسی مضمون کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں پہلو قارئین کے سامنے دیانت داری سے رکھے جائیں۔

پِری ذیابطیس (Pre-Diabetic) کے مریضوں پر اثرات: پری ذیابطیس، دراصل ذیابطیس سے پہلے کا مرحلہ ہے۔ اس میں خون میں شوگر کی سطح معمول سے زیادہ ہوتی ہے، لیکن اتنی نہیں کہ ٹائپ ٹو ذیابطیس کی تشخیص کی جاسکے۔ یہی وہ مرحلہ ہے، جہاں بروقت مداخلت کے ذریعے بیماری کے مکمل ظہور کو کئی برس تک مؤخر کیا جاسکتا ہے، اور بعض افراد میں اس سے بچاؤ بھی ممکن ہے۔

اس حالت کی بنیادی وجہ انسولین ریزیسٹینس ہے، یعنی جسم کے خلیات انسولین کے لیے کم حسّاس ہوجاتے ہیں،نتیجتاً لبلبہ زیادہ انسولین پیدا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اگر یہ کیفیت مسلسل برقرار رہے تو آخرکار لبلبہ بھی مطلوبہ مقدار میں انسولین بنانے سے قاصر ہو جاتا ہے اور ٹائپ ٹو ذیابطیس پیدا ہو جاتی ہے۔

تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ انسولین کی سطح کم رکھنے، خلیات کی انسولین کے لیے حسّاسیت بہتر بنانے اور جسم میں اضافی چربی خصوصاً پیٹ کےگرد موجود Visceral Fat کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ (American Diabetes Association ADA) طرزِ زندگی میں تبدیلی کو پری ذیابطیس کے علاج کا بنیادی ستون قرار دیتی ہے۔ اگرچہ ماہرین نے انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کو ہر مریض کے لیے لازمی تجویز نہیں کیا، لیکن یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ Time-Restricted Eating بعض افراد میں مؤثر حکمتِ عملی ثابت ہو سکتی ہے۔

ٹائپ ٹو ذیابطیس پر اثرات: ٹائپ ٹو ذیابطیس کے مریضوں میں انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے نتائج حوصلہ افزارہےہیں، لیکن اس کےساتھ احتیاط کی اہمیت بھی اتنی ہی زیادہ ہے۔ تحقیقی جائزوں میں دیکھا گیا ہے کہ مناسب نگرانی کے ساتھ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ اختیار کرنے والے بعض مریضوں کا وزن کم ہوا۔ HbA1c میں بہتری آئی، انسولین ریزیسٹینس کم ہوئی اور بعض افراد میں شوگر کنٹرول ہونے پر ادویہ کی ضرورت بھی کم ہوئی۔

تاہم یہ نتائج ہر مریض میں یک ساں نہیں تھے۔ سب سے بڑا خطرہ ہائپوگلیسیمیا (Hypoglycemia) یعنی خون میں شوگر کا خطرناک حد تک کم ہوجانا ہے، خاص طور پر اُن مریضوں میں، جوانسولین یا Sulfonylureas جیسی ادویہ استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے ایسے مریض اگر خُود سے فاسٹنگ شروع کردیں تو انہیں بے ہوشی، شدید کم زوری،دل کی دھڑکن میں تبدیلی یا دیگر پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے ذیابطیس کے مریض انٹرمٹنٹ فاسٹنگ صرف اپنے معالج کی نگرانی میں کریں تاکہ ادویہ کی مقدار، شوگرکی نگرانی اور غذائی منصوبہ مناسب طریقے سے ترتیب دیا جا سکے۔

دل کی صحت پر اثرات: دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ آج بھی قلبی بیماریاں ہیں۔ ان بیماریوں کےخطرے میں اضافہ صرف کولیسٹرول کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر، ذیابطیس، دائمی سوزش، تمباکو نوشی اور جسمانی غیرفعالیت بھی اہم عوامل ہیں۔ اگرچہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ پر مزید طویل مدتی تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن موجودہ شواہد یہ ظاہرکرتے ہیں کہ عام افراد میں اس سے وزن، کمر کا گھیر، بلڈ پریشر اور بعض خون کی چکنائیوں میں بہتری آ سکتی ہے۔

دل کی صحت کے حوالے سے اصل فائدہ غالباً براہِ راست فاسٹنگ سے زیادہ ان تبدیلیوں سے حاصل ہوتا ہے، جو اس کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں، مثلاً وزن میں کمی، انسولین ریزیسٹینس میں بہتری، سوزش میں کمی اور بہتر غذائی عادات۔ یہی عوامل مل کرقلبی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

فیٹی لیور کے مریضوں پر اثرات: نان الکوحلک فیٹی لیور ڈیزیز (NAFLD) اس وقت دنیا کی سب سےعام جگر کی بیماری بن چُکی ہے۔ پاکستان میں بھی موٹاپے، ذیابطیس اور غیرمتحرک طرزِزندگی کی وجہ سےاس کے مریض تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ جب جسم میں ضرورت سے زیادہ توانائی جمع ہوتی رہتی ہے تو اس کا ایک حصّہ جگر میں بھی چربی کی شکل میں ذخیرہ ہونے لگتا ہے۔

ابتدا میں مریض کو کوئی علامت محسوس نہیں ہوتی، لیکن وقت کےساتھ یہ کیفیت جگرکی سوزش، فائبروسزاوربعض صُورتوں میں سِروسزتک پہنچ سکتی ہے۔ مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کےنتیجےمیں وزن کم ہونے اورانسولین ریزیسٹینس بہتر ہونے سے جگر میں موجود چربی میں بھی کمی آسکتی ہے۔ بعض مریضوں میں جگر کے ٹیسٹ (ALT اور AST) میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ تاہم شدید جگر کے مریضوں میں اس کا فیصلہ صرف ہیپاٹولوجسٹ یا معالج کی رائے سے ہونا چاہیے۔

دماغی صحت اور اعصابی نظام: قدیم زمانے سے یہ مشاہدہ کیا جاتا رہا ہے کہ مناسب فاسٹنگ کے دوران بعض افراد ذہنی یک سوئی اور توجّہ میں بہتری محسوس کرتے ہیں۔ جدید سائنس نے اس مشاہدے کی ممکنہ وجوہ تلاش کرنا شروع کردی ہیں۔ فاسٹنگ کے دوران جسم میں بننے والی Ketone Bodies نہ صرف توانائی فراہم کرتی ہیں بلکہ بعض تحقیقی مطالعات کے مطابق دماغی خلیات کے لیے ایک مؤثر متبادل ایندھن بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔

اسی دوران (Brain-Derived Neurotrophic Factor BDNF) نامی پروٹین کی سطح میں اضافے کی بھی نشان دہی کی گئی ہے، جو اعصابی خلیات کی نشوونما اور باہمی رابطےمیں اہم کردارادا کرتا ہے۔ جانوروں پر ہونے والی تحقیق میں الزائمر اور پارکنسن جیسی بیماریوں کے حوالے سے بھی اُمید افزا نتائج سامنے آئے ہیں، لیکن انسانوں میں ابھی اتنے مضبوط شواہد موجود نہیں کہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کو ان بیماریوں کی روک تھام یا علاج کے طور پر تجویز کیا جا سکے۔ اس لیے اس موضوع پر احتیاط سے بات کرنا ضروری ہے۔

آٹوفیجی(Autophagy): گزشتہ چند برسوں میں انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے ساتھ جس اصطلاح کا سب سے زیادہ استعمال ہوا ہے، وہ آٹوفیجی (Autophagy) ہے۔ سوشل میڈیا پر اسے بعض اوقات جسم کی ’’مکمل صفائی‘‘ یا ’’تمام بیماریوں کے علاج‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالاں کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

آٹوفیجی ایک قدرتی خلیاتی عمل ہے، جس میں جسم کے خلیات اپنے اندر موجود خراب، پرانے یا غیرضروری اجزاء کو توڑکردوبارہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آٹوفیجی پر ہونے والی زیادہ تر بنیادی تحقیق جانوروں اورخلیاتی ماڈلز پر ہوئی ہے۔ انسانوں میں یہ ابھی پوری طرح واضح نہیں کہ کتنے گھنٹےکی فاسٹنگ سے، کس عُمر میں، اور کن حالات میں آٹوفیجی نمایاں طور پر بڑھتی ہے۔ اس لیے یہ دعویٰ کرنا کہ سولہ یااٹھارہ گھنٹے کی ہر فاسٹنگ لازماً آٹوفیجی کو فعال کردیتی ہے، موجودہ سائنسی شواہد کی روشنی میں درست نہیں۔

انٹرمٹنٹ فاسٹنگ،کن افراد کےلیے موزوں؟: موجودہ شواہد کی بنیاد پراُن بالغ افراد کونسبتاً زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے، جو موٹاپے، پیٹ کےگرد اضافی چربی، پری ذیابطیس، ابتدائی ٹائپ ٹوذیابطیس، میٹابولک سینڈروم یا ہلکے درجے کے فیٹی لیورکا شکار ہوں۔

اسی طرح ایسے افراد جن کی عادت دن بھر بلا ضرورت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے کی ہو،وہ بھی کھانے کے اوقات منظّم کرکےفائدہ حاصل کرسکتے ہیں، البتہ یہ فائدہ اسی وقت پائے دار ہوگا،جب فاسٹنگ کے ساتھ متوازن غذا، مناسب پروٹین، باقاعدہ ورزش، معیاری نیند اور ذہنی دباؤ پر قابو پانے کی کوشش بھی شامل ہو۔

کن افراد کے لیے یہ مناسب نہیں: ہر مؤثر طریقہ ہر شخص کے لیے محفوظ نہیں ہوتا۔ حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں، بچّوں اور نوعُمروں کو نشوونما کے لیے مسلسل غذائی اجزاء درکار ہوتے ہیں، اس لیے ان میں انٹرمٹنٹ فاسٹنگ عمومی طور پر تجویز نہیں کی جاتی۔

اِسی طرح ٹائپ ون ذیابطیس کے مریض، شدید کم وزن والے افراد، کھانے کی نفسیاتی بیماریوں (Eating Disorders) میں مبتلا افراد، شدید دائمی امراض کے مریض، یا وہ لوگ جو ایسی ادویہ استعمال کر رہے ہوں، جن سےخون میں شوگر خطرناک حد تک گرسکتی ہو، اُنہیں یہ طریقہ صرف ماہر معالج کی نگرانی ہی میں اختیار کرنا چاہیے۔ اس حقیقت کوہمیشہ یادرکھیں کہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ ایک سائنسی غذائی حکمتِ عملی ہے، نہ کہ ہر فرد کےلیے یک ساں موزوں نسخہ۔ اورجدیدطب بھی اسی انفرادی نقطۂ نظر کی حمایت کرتی ہے۔

عملی رہنمائی، احتیاطیں، اہمیت اور مستقبل کا راستہ: سائنسی شواہد کےمطابق انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کا اصل فائدہ صرف طویل وقت تک کھانےسےپرہیزمیں نہیں بلکہ اس بات میں پوشیدہ ہے کہ فاسٹنگ کے دوران اور اس کے بعد انسان اپنی مجموعی غذائی عادات اور طرزِ زندگی کو کس حد تک بہتر بناتا ہے۔

اگر فاسٹنگ کے بعد ضرورت سے زیادہ کیلوریز، میٹھے مشروبات، فاسٹ فوڈ اور چکنائی سے بھرپور غذائیں استعمال کی جائیں تو کئی گھنٹوں کی فاسٹنگ بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتی۔ اس کے برعکس اگر کھانے کے محدود وقت میں متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک استعمال کی جائے تو طبی فوائد میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔

فاسٹنگ کے دوران خوراک کی منصوبہ بندی: فاسٹنگ ختم ہونے کے بعد پہلی غذا متوازن ہونی چاہیے۔ اس میں اچھی کوالٹی کی پروٹین مثلاً دالیں، چکن، مچھلی، انڈے یا کم چکنائی والےدودھ کی مصنوعات شامل ہونی چاہئیں تاکہ عضلات محفوظ اور دیر تک پیٹ بَھرنے کا احساس برقرار رہے۔ اس کے ساتھ پلیٹ کاایک بڑا حصّہ موسمی سبزیوں پرمشتمل ہونا چاہیے، کیوں کہ ان میں فائبر، وٹامنز اور معدنیات وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔

کاربوہائیڈریٹس مکمل طور پر ترک کرنا ضروری نہیں، بہتر یہ ہےکہ سفید آٹے اور ری فائنڈ اشیاء کی بجائے ثابت اناج، جئی (Oats)، براؤن چاول یادیگرپیچیدہ کاربوہائیڈریٹس کو ترجیح دی جائے۔ صحت بخش چکنائیاں، مثلاً زیتون کا تیل، گِریاں، بیج اور مناسب مقدارمیں ایووکاڈو بھی غذا کا حصّہ بن سکتے ہیں۔ دوسری جانب مشروبات، بیکری مصنوعات، سفید آٹے سے بنی اشیاء، مٹھائیوں، تلی ہوئی غذائوں اورالٹراپراسیسڈ فوڈز سے حتیٰ الامکان اجتناب کرنا چاہیے کہ یہی اشیاء انسولین ریزیسٹینس، موٹاپے اور فیٹی لیور میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

پانی اور الیکٹرولائٹس کی اہمیت: فاسٹنگ کے دوران جسم کی پانی کی ضرورت ختم نہیں ہوتی۔ اگر پانی کی مقدارکم ہوجائے تو سردرد، تھکن، قبض، چکر آنے اور بعض افراد میں بلڈ پریشر گرنے جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔ عام حالات میں سادہ پانی، بغیر چینی کی سبز یا کالی چائے اور بغیر چینی کی بلیک کافی فاسٹنگ کےدوران استعمال کی جا سکتی ہے۔ تاہم، ایسے افراد جو طویل دورانیے کی فاسٹنگ کرتے ہیں یا گرم موسم میں زیادہ جسمانی مشقّت کرتے ہیں، اُنہیں پانی اور الیکٹرولائٹس کی کمی سے بچنے پرخصوصی توجّہ دینی چاہیے۔

ورزش،فاسٹنگ کی کام یابی کا اہم ستون: صرف غذامیں تبدیلی کافی نہیں ۔ماہرین اس بات پر زوردیتے ہیں کہ متوازن غذا کے ساتھ باقاعدہ جسمانی سرگرمی بھی ضروری ہے۔ہفتےمیں کم از کم 150 منٹ کی معتدل شدت کی جسمانی سرگرمی، مثلاً تیز قدموں سے چہل قدمی، سائیکل چلانا یا تیراکی، مجموعی صحت کے لیے مفید سمجھی جاتی ہے۔

اس کے ساتھ ہفتے میں دویا تین دن ہلکی ویٹ ٹریننگ یا ریزیسٹینس ایکسرسائز شامل کرنے سے عضلات محفوظ رہتے ہیں، جو وزن کم کرنے کے دوران خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اگر کوئی شخص پہلی مرتبہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ شروع کررہاہے تو انتہائی سخت ورزش سے گریز کرے، کیوں کہ جسم کو نئے معمول سے ہم آہنگ ہونے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔

عام غلطیاں، جو نتائج پر اثرانداز ہوتی ہیں: انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے دوران سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ لوگ فاسٹنگ کے اختتام پر بہت زیادہ مقدار میں کھانا کھا لیتے ہیں۔ اس سےنہ صرف اضافی کیلوریز جسم میں داخل ہوتی ہیں بلکہ معدے پر بھی غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے۔

دوسری عام غلطی یہ ہے کہ بعض افراد پورے دن کی بھوک کا ازالہ میٹھے مشروبات، بیکری مصنوعات یا فاسٹ فوڈ سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے شوگر میں اچانک اضافہ اورانسولین کی زیادہ مقدار خارج ہوتی ہے۔ کچھ لوگ پانی کم پیتے ہیں، نیند پوری نہیں کرتے یا ورزش کو مکمل طور پرترک کردیتے ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کے فوائدمحدود کرتے ہیں۔

رمضان المبارک کے روزے اور انٹرمٹنٹ فاسٹنگ: مسلمانوں کےلیےروزہ صرف عبادت ہی نہیں،نظم وضبط، صبر اور خود احتسابی کی تربیت بھی ہے۔ طبّی اعتبار سے رمضان المبارک کےروزوں اورانٹرمٹنٹ فاسٹنگ میں کچھ مماثلت ضرور موجود ہے، کیوں کہ دونوں میں کھانے کے درمیان طویل وقفہ آتا ہے، لیکن دونوں کا مقصد اور طریقۂ کار مختلف ہے۔ ماِ صیام میں طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کھانے اور پانی دونوں سے اجتناب کیاجاتا ہے، جب کہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کی زیادہ تر اقسام میں پانی اور بغیر کیلوریز والے مشروبات کی اجازت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ رمضان کے روزے عبادت ہیں، جب کہ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ ایک طبی اور غذائی حکمتِ عملی۔

تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ اگر رمضان میں اعتدال کے ساتھ غذا استعمال کی جائے اور افطار و سحر میں ضرورت سے زیادہ کھانے سے اجتناب برتا جائے تو وزن، بلڈ شوگر اوربعض میٹابولک اشاریوں میں بہتری آ سکتی ہے۔ تاہم ضرورت سے زیادہ تلی ہوئی اشیاء، مٹھائیاں اورمشروبات یہ فوائد کم کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے تناظر میں انٹرمٹنٹ فاسٹنگ کی اہمیت: پاکستان اس وقت غیر متعدی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا سامنا کررہا ہے۔ ذیابطیس، موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر، فیٹی لیور اور دل کی بیماریاں نہ صرف افراد بلکہ پورے صحت کے نظام پر دباؤبڑھارہی ہیں۔ شہری زندگی، جسمانی سرگرمی میں کمی، رات گئے کھانا، فاسٹ فوڈ اور میٹھے مشروبات اس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

ایسے ماحول میں انٹرمٹنٹ فاسٹنگ ایک کم خرچ، آسان اور قابلِ عمل حکمتِ عملی ثابت ہوسکتی ہے، لیکن صرف اُسی صورت میں، جب اُسے متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند اورطبی مشورے کے ساتھ اپنایا جائے۔ اسے کراماتی علاج یا ہر بیماری کا حل سمجھنا سائنسی طور پر درست نہیں۔

طبّی ماہرین کی سفارشات: بین الاقوامی طبی اداروں کی موجودہ سفارشات سامنے رکھتے ہوئے درج ذیل اصول اپنانا زیادہ مناسب ہے۔

کھانے کے اوقات میں غذائیت سےبھرپور اور متوازن غذا استعمال کریں۔روزانہ مناسب مقدار میں پانی پئیں۔ہفتے میں کم از کم 150 منٹ جسمانی سرگرمی کو معمول بنائیں۔ ذیابطیس، گُردوں، جگر یا دیگر دائمی بیماریوں کے مریض معالج سے مشورے کے بغیر فاسٹنگ شروع نہ کریں۔ اگر شدید کم زوری، چکر، بے ہوشی، یا ہائپوگلیسیمیا کی علامات ظاہر ہوں، تو فوراً طبّی مشورہ حاصل کریں۔

حرفِ آخر: انٹرمٹنٹ فاسٹنگ جدیدغذائی سائنس کا ایک اہم موضوع ہے، جس سے متعلق گزشتہ دو دہائیوں میں قابلِ قدرسائنسی شواہد سامنے آئے ہیں۔ موجودہ تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ عام افراد میں یہ طریقہ وزن میں کمی، انسولین ریزیسٹینس میں بہتری، پری ذیابطیس کےخطرےمیں کمی،فیٹی لیور، قلبی صحت اور مجموعی میٹابولک صحت پر مثبت اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

تاہم اس کے فوائد کاانحصار صرف فاسٹنگ کے دورانیے پر نہیں بلکہ متوازن غذا،جسمانی سرگرمی، معیاری نیند اور مستقل مزاجی پر بھی ہے۔ جدید طب کا پیغام واضح ہے کہ صحت کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔ انٹرمٹنٹ فاسٹنگ ایک مؤثر ذریعہ ضرور ہے، مگر ادویہ، متوازن غذا، ورزش او طبّی نگرانی کا متبادل نہیں۔ اگر ہر فرد اپنی عُمر، طبی کیفیت اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسےاختیار کرے تو یہ نہ صرف وزن کم کرنے بلکہ طویل مدتی میٹابولک صحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ (مضمون نگار، پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ اور چیف میڈیکل آفیسر، محکمۂ صحت، سندھ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید