پاکستان بھر میں درجۂ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے اور ہیٹ ویوز (شدید گرمی کی لہریں) پہلے کے مقابلے میں زیادہ شدت کے ساتھ اور زیادہ طویل مدت تک ہونے لگی ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر لوگ پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) اور ہیٹ اسٹروک کے خطرات سے آگاہ ہیں لیکن بہت سے افراد اس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ شدید گرمی جلد پر کیا اثرات مرتب کر سکتی ہے، حالانکہ جلد وہ پہلا عضو ہوتی ہے جو گرمی سے متعلق بیماریوں کی علامات ظاہر کرتی ہے۔
یہ انسانی جسم کا سب سے اہم عضو اور ماحول کے خلاف دفاع کی پہلی حفاظتی دیوار ہے۔ شدید گرمی اور نمی کے دوران یہ حفاظتی رکاوٹ شدید دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں افراد مختلف اقسام کے جلدی مسائل کا زیادہ آسانی سے شکار ہو سکتے ہیں۔
گرمیوں کے مہینوں میں، خصوصاً جب گرمی اور نمی طویل عرصے تک برقرار رہے۔ جلدی امراض میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔ جن میں ایک ہیٹ ریش (گھموری یا ملیریا) ہے۔ یہ اس وقت ہوتی ہے جب پسینے کی نالیاں بند ہو جاتی ہیں اور پسینہ جلد کے نیچے پھنس جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جلد پر چھوٹے سرخ دانے، خارش، جلن اور چبھن ہوتی ہے۔
شیر خوار اور کم عمر بچے، کھلی فضا میں کام کرنے والے افراد اور وہ لوگ جو طویل عرصے تک گرمی میں رہتے ہیں، اس بیماری کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ایک اور عام مسئلہ فنگل جلدی انفیکشن (fungal skin infection)ہے۔ گرم موسم، زیادہ پسینہ اور بلند نمی فنگس کی نشوونما کے لیے خاص ماحول فراہم کرتے ہیں خاص طور پر جلد کی تہوں میں۔
اس کے علاوہ جلد کی کئی پہلے سے موجود بیماریاں بھی گرم موسم میں مزید بگڑ سکتی ہیں۔ جیسے ایگزیما، ایکنی (مہاسے)، روزیشیا(Rosacea ) اور جلد کی رنگت سے متعلق بیماریوں میں مبتلا مریض گرمیوں کے دوران زیادہ پسینہ، رگڑ اور دھوپ کی وجہ سے بیماری میں شدت محسوس کرتے ہیں۔
سورج کی روشنی میں ضرورت سے زیادہ رہنا بھی مناسب نہیں۔ الٹرا وائلٹ شعاعیں جلد کو جھلسا سکتی ہیں اور قبل از وقت بڑھاپے کا باعث بن سکتی ہیں، نیز رنگت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جلد کو طویل المدتی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
شدید گرمی کے دوران بعض افراد کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کم عمر بچے، بزرگ افراد، کھلی فضا میں کام کرنے والے مزدور، کھلاڑی اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد جلدی مسائل اور شدید درجہ ٔحرارت کی دیگر پیچیدگیوں سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کےدرجۂ حرارت کو منظم کرنے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔ اسی طرح چھوٹے بچے پیاس یا تکلیف کو بتا نہیں سکتے، ماؤں کو چاہیے کہ وہ انہیں مناسب مقدار میں سیال فراہم کریں اور شدید گرمی سے محفوظ رکھیں۔
اس موسم میں مناسب مقدار میں پانی پینا سب سےبہتر ہوتا ہے۔ دن بھرزیادہ پانی پینے سے جسم درجۂ حرارت کو متوازن رکھنے اور جلد کے معمول کے افعال کو برقرار رکھنے میں مدد حاصل کرتا ہے۔ تاہم، زیادہ پسینہ آنے، طویل وقت تک باہر کام کرنے، سخت جسمانی کام یا ہیٹ ویو کے دوران جسم پسینے کے ذریعے سوڈیم اور پوٹاشیم جیسے اہم الیکٹرولائٹس بھی کھو دیتا ہے۔ ایسی صورتحال میں او آر ایس، الیکٹرولائٹس پر مشتمل مشروبات نہ صرف پانی بلکہ ضروری نمکیات کی کمی بھی پوری کرنے میں مددگار ثابت ہو تے ہیں۔
لوگوں کو پیاس لگنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ پیاس اکثر جسم میں پانی کی کمی دیر سے ظاہر ہونے والی علامت ہوتی ہے۔دل کی کمزوری، دائمی گردوں کی بیماری یا وہ افراد جنہیں سیال کی مقدار محدود رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہو، انہیں اپنے معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔ ہلکے، ڈھیلے ڈھالے اور سوتی کپڑے پہنیں یہ پسینہ اور جلدی جلن کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ تنگ اور ریشمین کپڑوں سے گریز کرنا چاہیے۔
جلد کی صفائی کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ روزانہ نہانا، پسینے والے کپڑے فوراً تبدیل کرنا اور جلد کی تہوں کو اچھی طرح خشک رکھنا فنگل انفیکشن اور گھموریوں کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کر تا ہے۔ جہاں تک ممکن ہو دھوپ کے وقت براہِ راست دھوپ سے بچیں، کیونکہ اس وقت الٹرا وائلٹ شعاعیں زیادہ طاقتور ہوتی ہیں۔ سن اسکرین کھلی جلد پر لگائیں اور اگر طویل وقت تک باہر رہنا ہو تو اسے دو مرتبہ بھی لگائیں۔
اس کے علاوہ ٹوپی پہننا، سن گلاسز استعمال کرنا اور سایہ دار جگہوں میں رہنا سورج کی نقصان دہ شعاعوں کے اثرات کو کم کر سکتا ہے۔ والدین کو گرم موسم میں بچوں پر خصوصی نظر رکھنی چاہیے، بزرگ رشتہ داروں کا بھی خاص خیال رکھیں، یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ طبی مدد کب حاصل کرنی چاہیے۔ اگر جلد پر نمودار ہونے والا دانہ یا ریش بہت زیادہ پھیل جائے، چھالے بن جائیں، پیپ نکلنے لگے ساتھ، بخار ہو تو فوری طور پر طبی ماہر سے رجوع کریں۔
اسی طرح چکر آنا، گھبراہٹ ہونا، شدید کمزوری، دل کی دھڑکن تیز ہونا اور متلی وغیرہ محسوس ہو تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ جیسے جیسے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات بڑھ رہے ہیں، شدید گرمی محض ایک موسمی تکلیف نہیں رہی بلکہ عوامی صحت کا ایک اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اس لیے احتیاط اور علاج دونوں ضروری ہیں۔