قدرت نے نومولود بچے کو زندگی کے آغاز ہی میں ایک ایسی مکمل غذا، مؤثر دوا اور قدرتی حفاظتی نظام عطا کیا ہے جس کا کوئی مصنوعی متبادل نہیں۔ یہ ہے ماں کا دودھ، جو صرف بچے کی بھوک مٹانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ’’سپر فوڈ‘‘ ہے، جس میں موجود اینٹی باڈیز، سفید خون کے حفاظتی خلیات، پروٹین، وٹامنز، معدنیات اور دیگر حیاتیاتی اجزا بچے کو زندگی کے ابتدائی دنوں میں حملہ آور ہونے والے جراثیم، وائرس اور متعدد جان لیوا بیماریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹرز اسے نومولود کی پہلی دوا اور پہلی قدرتی ویکسین قرار دیتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ماں کا دودھ وہ واحد غذا ہے جو بچے کی عمر اور جسمانی ضروریات کے مطابق اپنی ساخت تبدیل کرتی رہتی ہے۔ یہ نہ صرف بچے کی غذائی ضروریات پوری کرتی ہے بلکہ اس کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی، دماغی و جسمانی نشوونما بہتر کرتی، نمونیا، اسہال، غذائی قلت، سانس اور کان کے انفیکشن سمیت متعدد بیماریوں کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کرتی ہے۔
زندگی کے پہلے چھ ماہ تک بچے کے لیے ماں کے دودھ کا کوئی نعم البدل نہیں، جب کہ اس کے بعد مناسب گھریلو غذا کے ساتھ دو سال تک دودھ پلانا بچے کی صحت، نشوونما اور بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
زندگی کے پہلے ایک ہزار دن
ماہرین صحت کے مطابق حمل کے آغاز سے لے کر بچے کی دو سال کی عمر تک کے پہلے ایک ہزار دن پوری زندگی کی صحت، ذہنی صلاحیت اور جسمانی نشوونما کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اگر اس عرصے میں بچے کو مناسب غذا اور بروقت ماں کا دودھ ملے تو نہ صرف اس کی قوت مدافعت بہتر ہوتی ہے بلکہ مستقبل میں سیکھنے کی صلاحیت، جسمانی استعداد اور مجموعی صحت بھی بہتر رہتی ہے۔
اسی لیے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور یونیسیف سفارش کرتے ہیں کہ پیدائش کے بعد پہلے چھ ماہ تک بچے کو صرف ماں کا دودھ دیا جائے۔ اس دوران پانی، شہد، گھٹی یا کسی دوسری غذا کی ضرورت نہیں چھ ماہ بعد مناسب اضافی غذا کے ساتھ دو سال تک دودھ پلایا جائے۔
کولسٹرم: قدرت کی پہلی ویکسین
پیدائش کے فوراً بعد آنے والا گاڑھا زرد دودھ، جسے کولسٹرم کہا جاتا ہے، نومولود کے لیے قدرت کی پہلی ویکسین تصور کیا جاتا ہے، اس میں اینٹی باڈیز، حفاظتی پروٹین اور سفید خون کے خلیات وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں، جو بچے کے ناپختہ مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے اور متعدد خطرناک انفیکشنز سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
بیماریوں سے مؤثر تحفظ
تحقیقی مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں نمونیا، اسہال، غذائی قلت، کان کے انفیکشن، سانس کی بیماریوں اور دیگر متعدی امراض کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق زندگی کے پہلے چھ ماہ تک ماں کا دودھ بچوں کی بقا کے لیے سب سے مؤثر حفاظتی اقدامات میں سے ایک ہے۔
ماں کے دودھ میں موجود ڈی ایچ اے (DHA)، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، پروٹین، وٹامنز اور معدنیات دماغ، اعصابی نظام اور بینائی کی بہتر نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جب کہ مختلف سائنسی مطالعات کے مطابق ایسے بچوں میں مستقبل میں موٹاپے، ٹائپ ٹو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور بعض الرجی کی بیماریوں کے امکانات بھی نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
ماں کے لیے بھی بے شمار فوائد
نومولود کو دودھ پلانا صرف بچے ہی نہیں ماں کی صحت کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔ اس سے زچگی کے بعد رحم جلد اپنی معمول کی حالت میں واپس آتا ہے، وزن متوازن رکھنے میں مدد ملتی ہے، چھاتی، بیضہ دانی اور رحم کے سرطان، ٹائپ ٹو ذیابیطس اور بعض قلبی بیماریوں کے خطرات میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
فارمولا دودھ مکمل متبادل نہیں
اگرچہ بعض طبی وجوہات کی بنا پر فارمولا دودھ کی ضرورت پیش آ سکتی ہے، لیکن ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ماں کے دودھ کا مکمل متبادل نہیں۔ اس میں وہ زندہ اینٹی باڈیز، حفاظتی خلیات، قدرتی اینزائمز اور مدافعتی اجزا موجود نہیں ہوتے جو ماں کے دودھ کو منفرد بناتے ہیں۔
اگر فارمولا دودھ کی تیاری میں صفائی کے اصولوں پر عمل نہ کیا جائے یا آلودہ پانی استعمال کیا جائے تو بچوں میں اسہال، انفیکشن اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ، ماں کا دودھ پلانے کے فروغ کے لیے کسی بڑے بجٹ یا اضافی وسائل کی ضرورت نہیں بلکہ صرف درست آگاہی اور اجتماعی عزم درکار ہے۔ ہر نئی ماں کو پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانے اور اس کے بعد دو سال تک مناسب غذا کے ساتھ بریسٹ فیڈنگ جاری رکھنے کے فوائد سے آگاہ کرنا چاہیے۔
ماں کا دودھ پینے والے بچے تعلیم، کھیل اور روزمرہ زندگی میں زیادہ متحرک ہوتے ہیں، جبکہ یہ عمل ماں اور بچے کے درمیان ایک مضبوط جذباتی تعلق بھی قائم کرتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 40 فی صد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جس کے اثرات پوری زندگی برقرار رہ سکتے ہیں۔
پاکستان میں بریسٹ فیڈنگ کی صورتحال
یونیسیف پاکستان کے چیف آف نیوٹریشن، اینٹینیہ گرما میناس کے مطابق پاکستان میں چھ ماہ سے کم عمر صرف 48 فی صد بچوں کو مکمل طور پر ماں کا دودھ پلایا جاتا ہے، جو 2030 تک عالمی اسمبلی صحت (WHA) کے کم از کم 60 فی صد ہدف سے کم ہے۔ ملک میں صرف 46 فی صد نومولود بچوں کو پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر ماں کا دودھ پلایا جاتا ہے، جب کہ تقریباً نصف بچے دو سال کی عمر تک بریسٹ فیڈنگ جاری رکھتے ہیں۔
ماں کا دودھ بچے کی پہلی ویکسین ہے، جو انفیکشن سے تحفظ فراہم کرتا، غذائی قلت کم کرتا اور بہتر ذہنی نشوونما، سیکھنے کی صلاحیت اور پیداواری صلاحیت کی بنیاد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بریسٹ فیڈنگ کے قومی اور عالمی اہداف حاصل کرنے کے لیے معیاری کونسلنگ، بیبی فرینڈلی اسپتالوں کی تعداد میں اضافہ، زچگی کے تحفظ، کام کرنے والی ماؤں کے لیے سازگار ماحول اور بریسٹ ملک سبسٹی ٹیوٹس کی مارکیٹنگ سے متعلق بین الاقوامی ضابطۂ اخلاق پر مکمل عمل درآمد ناگزیر ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بریسٹ فیڈنگ صرف ماں کی ذمہ داری نہیں بلکہ خاندان، طبی عملے، آجر اداروں، حکومت اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ماؤں کو درست معلومات، مناسب رہنمائی، زچگی کی سہولتیں، کام کی جگہ پر معاون ماحول اور خاندان کی بھرپور حمایت میسر ہو تو نہ صرف بچوں کی اموات، غذائی قلت اور بیماریوں میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ ایک صحت مند، ذہین اور مضبوط نسل کی تشکیل بھی ممکن ہے۔
ماں کا دودھ قدرت کا ایسا انمول تحفہ ہے جسے نہ سائنس تیار کر سکتی ہے اور نہ ہی کوئی مصنوعی غذا اس کا نعم البدل بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا فروغ محض ایک طبی سفارش نہیں بلکہ پاکستان کی آنے والی نسلوں کی صحت، انسانی ترقی اور قومی خوشحالی میں ایک ایسی سرمایہ کاری ہے، جس کے ثمرات دہائیوں تک حاصل کیے جا سکتے ہیں۔