ڈاکٹر حمزہ وصی، جنرل فزیشن
گردے ،صحت اور تندرستی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ جسم سے اضافی مواد کو خارج کرتے، نمک، پوٹاشیم اور ایسڈ لیول کو کنٹرول کرتے ہیں، جس سے بلڈ پریشر معمول پر رہتا ہے، جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار بڑھتی ہے اور خون کے سرخ خلیات بھی متوازن سطح پر رہتے ہیں۔ گردے ہمارے جسم کا اہم ترین اعضاء ( آرگن ) ہیں جن کا کام خون میں موجود مضر صحت، آکسیڈنٹ اور فاضل مادّوں کی صفائی کے بعد پورے جسم میں اس کی صحت مندانہ طریقے سے ترسیل کرنا ہے۔
ہر انسانی جسم میں گردوں کا صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ہوتا ہے، ان کی کارکردگی کا متاثر ہونا زندگی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ اگر کسی فرد میں بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر)، ذیابطیس ٹائپ 1اور 2، شریانوں میں کھنچائو کی شکایت پائی جاتی ہےتو یہ ممکنہ طور پر گردوں کے بیمار ہونے کی علامت ہو سکتی ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق گردوں کی صفائی اور ان کی کارکردگی بڑھانے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی اور سادہ غذاؤں کا استعمال کرنا چاہیے، خود کو متعدد بیماریوں جیسے کہ شوگر، منفی کولیسٹرول اور وزن میں اضافہ، شریانوں کی تنگی اور خراب جلد کے علاج کے لیے گردوں کا صحت مند ہونا ضروری ہے۔ پھل، سبزیوں، ہلدی اور مچھلی کے استعمال سے گردوں کے تکلیف دہ امراض سے بچاجاسکتا ہے۔
دن بھر میں مناسب مقدار میں پانی کا استعمال گردوں کے امراض میں بہت اہم ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جسم میں پانی کی شدید کمی کے نتیجے میں گردے خون میں موجود زہریلے مواد کو فلٹر کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں اور جمع ہونے والا فضلہ گردوں کے فیل ہونے کا باعث بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ زیتون کا تیل کولیسٹرول کم کرتا ہے، پتھری کی وجہ سے ہونے والے درد میں راحت دیتا اور انفلیمیشن میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سیب: سیب وٹامنز، منرلز اور فائبر سے بھرپور پھل ہونے کے ساتھ ورم کش اور اینٹی آکسائیڈنٹس خصوصیات رکھتا ہے جو کولیسٹرول کم کرنے، امراضِ قلب، کینسر اور ذیابطیس سے تحفظ فراہم کرتا ہے، ذیابطیس گردوں کے فیلیئر کا خطرہ بڑھانے والی وجوہات میں سے ایک ہے سیب کھانے سے یہ خطرہ کم یاختم ہو جاتا ہے۔ اس میں موجود فائبر زہریلے مواد کو جذب کر کے خارج کر دیتا ہے، اس کے علاوہ سیب آنتوں میں ہونے والی انفلیمیشن کو بھی کم کرتا ہے۔
ہرے پتوں والی سبزیاں: گردوں کی صفائی و صحت کے لیے یہ سبزیاں نہایت مفید ہوتی ہیں، یہ وٹامن’’ سی‘‘ اور’’ کے‘‘ سے بھر پور ہوتی ہیں، ان میں موجود اجزا اور فائبر بلڈ شوگر کو کنٹرول کرتے ہیں، جس سے گردوں پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ ان کا استعمال روزانہ کی بنیاد پر بطور سلاد کرنا گردوں کے لیے بہت فائدے مند ہے۔
گوبھی اور بند گوبھی: یہ فائدہ مند سبزیاں ہیں۔ بند گو بھی اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ جسم میں گردش کرنے والے فری ریڈیکلز سے بچانے میں مدد دیتی ہے، جس سے گردوں کے افعال میں تنزلی کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
اس کا استعمال سلاد میں اکثر ہوتا ہے۔ گوبھی وٹامن سی، فولیٹ اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہے، جب کہ اس میں موجود کمپاؤنڈ جگر کے لیے انتہائی ضروری اور جسم میں زہریلے مواد کی روک تھام کرتے ہیں۔
پیاز: پیاز کھانے کی عادت ڈالیں، یہ گردوں کے افعال ٹھیک رکھنے میں مدد دیتی ہے، اس میں موجود فلیونوئڈز اور دیگر اجزا خون کی شریانوں میں چربی کے اجتماع کی روک تھام کرتے ہیں ،جس سے امراض قلب اور کینسر کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔
لہسن: پیاز کی طرح لہسن بھی گردوں کی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے، اس کا عرق گردوں کی صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے۔
لیموں کا عرق: وٹامن سی اور سٹرک ایسڈ سے بھرپور ہوتا ہے یہ گردوں کے مسائل کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ لیموں پانی کو صبح یا کھانے سے پہلے پینا گردوں کے امراض سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔
مچھلی: طبی تحقیق کے مطابق سبزیوں اور مچھلی کھانے والوں میں گردوں کی پتھری کا امکان ایسے افراد کے مقابلے میں 30 سے 50 فی صد کم ہوتا ہے جو روزانہ گوشت کھاتے ہیں۔
لوبیہ: اگر کوئی مریض گردوں میں پتھری اور درد محسوس کر رہا ہے تو اسے چاہیے کہ چھ گھنٹے تک لوبیہ ابالے اور پھر اس کا پانی چھان کر ہر دو گھنٹے بعد پیئے، ایک سے دودن میں اس کے بہترین نتائج سامنے آجائیں گے۔
چیری: دل اور گردوں کے لیے فائدہ مند پھل ہے، اسے روزانہ کھانا جسم میں ورم کو کم کرتا ہے خصوصاً گردوں میں۔
اس کے علاوہ ہلدہ، ادرک اور لہسن کا استعمال جسم میں ہونے والی سوزش اور جلن کئی بیماریوں کا سبب بنتی ہے، ان میں ایک گردوں کی بیماری بھی ہے، جسم کو انفلیمیشن سے پاک اور گردو ں کو صاف رکھنے کے لیے ہلدی کی موزوں مقدار کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں۔
اس میں کرکیومن (Curcumin)ہوتا ہے، جس میں انفلیمیشن کے خلاف کام کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ ہلدی کو چاول، سالن، دالوں، سبزیوں یہاں تک کہ اسموتھیز میں بھی شامل کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق گردوں کی صحت کے سب سے بڑے دشمن زہریلے مواد (Toxins)اور انفلیمیشن ہیں، لہسن ان دونوں کو دور رکھنے میں بہت مدد کرتا ہے۔
اس میں جز الیسن (Allicin) ہوتا ہے جو اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلیمیٹری خصوصیت رکھتا ہے، یہ دونوں خصوصیات گردوں اور بلڈ پریشر کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں، اسی لیےکھانوں میں لہسن ضرور شامل کریں۔ ادرک بھی گردوں کو صاف کرنے میں بہت اہم ہے، یہ کسی بھی غذا میں شامل کر کے کھائی جا سکتی ہے۔ یہ گردوں کو صحت مند رکھنے کے لیے انتہائی مفید ہیں۔