ایک لفظ’’ پولی سسٹک اووری سنڈروم ( PCOS)‘‘ کئی دہائیوں تک ہم یہی نام لیتے رہے۔ اس سال دنیا بھر کے ڈاکٹروں نےاس کا نام تبدیل کرکے ’’پولی اینڈو کرائن میٹا بولک اوورئین سنڈروم ( PMOS) رکھا ہے۔ یہ محض الفاظ کی تبدیلی نہیں ہے۔ یہ اس انداز کی تبدیلی ہے کہ ہم ایک ایسی کیفیت کو کس طرح سمجھتے ہیں جو خواتین کی پوری زندگی میں ان کی صحت کو متاثر کرتی ہے اور پاکستان میں اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔
نیا نام دنیا بھر کے ڈاکٹروں، محققین اور مریضوں کے گروپس کی برسوں کی محنت کا نتیجہ ہے، جس میں اینڈوکرائن سوسائٹی بھی شامل ہے۔ چھ براعظموں میں 22ہزار سے زائد مریضوں اور صحت کے کارکنوں سے مشاورت کی گئی۔ سرویز میں 86 فی صد مریضوں اور 76 فی صد ڈاکٹروں نے کہا کہ پرانا نام ختم ہونا چاہیے۔ اس تبدیلی کا باضابطہ اعلان روان سال مئی کے مہینے میں"The Lancet" نامی طبی جریدے میں کیا گیا ہے ۔
پرانا نام کیوں ختم کرنا پڑا؟
الٹراساؤنڈ میں ڈاکٹروں کو نظر آنے والے چھوٹے چھوٹے دھبے خطرناک سسٹ نہیں ہوتے۔ یہ دراصل چھوٹی، نارمل، انڈے رکھنے والی تھیلیاں ہوتی ہیں جنہیں ’’فولیکلز‘‘ کہا جاتا ہے۔ کسی خاتون کا اس مر ض میں مبتلا ہونے کے لیے الٹراساؤنڈ میں یہ علامات نظر آنا ضروری نہیں، جب کہ کچھ خواتین میں یہ علامات موجود ہونے کے باوجود کبھی یہ سنڈروم پیدا نہیں ہوتا۔ اس نام نے سب کو الجھن میں ڈال دیا تھا۔ کچھ خواتین سمجھتی تھیں کہ ان کے خطرناک سسٹ ہیں جو پھٹ سکتے ہیں یا جن کے لیے سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
’’پولی اینڈوکرائن ‘‘کا مطلب یہ ہے کہ صرف اووریز ہی نہیں بلکہ کئی ہارمون سسٹمز متاثر ہوتے ہیں، جن میں انسولین، دماغ اور اووریز کے درمیان بھیجے جانے والے سگنلز شامل ہیں جو میٹابولک، ذیابطیس، دل کی بیماری اور فیٹی لیور جیسے خطرات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
’’اووریئن‘‘ نام میں اس لیے برقرار ہے، کیوں کہ بے قاعدہ ماہواری اور زرخیزی کے مسائل اب بھی اس کیفیت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ سادہ الفاظ میں، PMOS صرف اووریز کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ پورے جسم کے ہارمونز اور میٹابولزم سے متعلق مسئلہ ہے جو ایک خاتون کی زندگی کے ہر مرحلے کو متاثر کر سکتا ہے۔
انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن کے مطابق، 2024 میں پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 45 لاکھ بالغ افراد ذیابطیس کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے، جو بالغ آبادی کا 31.4 فی صدبنتے ہیں۔ اس پس منظر میں PMOS سے وابستہ میٹابولک خطرات کو نظر انداز کرنا مسائل کی ابتدائی شناخت اور مستقبل میں بیماری سے بچاؤ کا ایک اہم موقع ضائع کرنا ہے۔
ہمارے پاس اس حوالے سے ٹھوس اعداد و شمار موجود نہیں کہ کتنی پاکستانی خواتین PMOS کا شکار ہیں اور چھوٹے پیمانے پر ہونے والی تحقیقات میں اعداد و شمار بہت مختلف ہیں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ عام ہے اور جنوبی ایشیائی خواتین میں انسولین سے متعلق مسائل دنیا کے دیگر خطوں کی خواتین کے مقابلے میں اکثر کم عمر اور کم وزن پر پیدا ہوتے ہیں۔
اس کے باوجود پاکستان میں علاج اب بھی زیادہ تر ماہواری، ظاہری شکل یا زرخیزی پر مرکوز ہے۔ بے قاعدہ ماہواری والی غیر شادی شدہ لڑکی کو اکثر صرف دوا دے دی جاتی ہے، اور کسی دوسری چیز کی جانچ نہیں کی جاتی۔
نیا نام محدود سوچ کو چیلنج کرتا ہے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ ماہواری باقاعدہ ہونے یا بچے کی پیدائش کے بعد علاج ختم نہیں ہونا چاہیے۔ بلڈ پریشر، بلڈ شوگر، کولیسٹرول، نیند اور ذہنی صحت پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور جب ماہواری طویل عرصے تک رک جائے تو اسے کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ رحم کی اندرونی تہہ غیر معمولی طور پر موٹی ہو سکتی ہے، جس سے وقت کے ساتھ سنگین مسائل، بشمول کینسر کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
کچھ خواتین میں بڑھتاوزن اس کیفیت کو مزید خراب کر سکتا ہے لیکن یہ اس کی اہم وجہ نہیں بنتا اور بہت سی دبلی پتلی خواتین بھی اس کا شکار ہوتی ہیں۔ انسولین کے مسائل، جینیاتی عوامل اور ہارمونز میں عدم توازن ہر طرح کے جسمانی وزن والی خواتین میں ظاہر ہو سکتا ہے۔
کسی خاتون سے یہ کہنا کہ ’’وزن کم کرو اور دوبارہ آؤ‘‘غلط ہے ،اس کے بجائے اسے طرزِ زندگی بہتر بنانے اور کھانے کی عادات کے مطابق غذائی مشورے، ایکنی یا غیر ضروری بالوں کے علاج، رحم کی اندرونی تہہ کے تحفظ، زرخیزی کے منصوبے اور بے چینی، کم موڈ یا غیر صحت مند کھانے کے معمولات سے نمٹنے کے لیے مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
اس کی علامات اور اہداف کے مطابق دوا کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس نام کی تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر وہ خاتون، جس میں پہلے ہی PCOS کی تشخیص ہو چکی ہے، وہ دوبارہ اپنے سارے ٹیسٹ کروائیں۔ فی الحال ڈاکٹرز پہلے طریقے سے ہی اس کی تشخیص کرتے ہیں۔
تین میں سے دو علامات کو دیکھا جاتا ہے: بے قاعدہ اوویولیشن، اضافی مردانہ ہارمونز کی علامات (خون کے ٹیسٹ میں یا ایکنی اور بالوں کی افزائش جیسی علامات کی صورت میں)اور دیگر وجوہات کو خارج کرنے کے بعد الٹراساؤنڈ میں فولیکلز کا مخصوص پیٹرن۔
نئے نام کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ہر بے قاعدہ ماہواری یا ہر ایکنی کا کیس PMOS ہے۔ تھائیرائڈ کے مسائل، ہارمونز میں دیگر عدم توازن، حمل یا وزن میں نمایاں تبدیلیاں بھی ایسی ہی علامات ظاہر کر سکتی ہیں۔ نوعمر لڑکیوں کے لیے بھی خصوصی توجہ ضروری ہے، بے قاعدہ ماہواری اور ایکنی اکثر بلوغت اور بڑھنے کے عمل کا معمول کا حصہ ہو سکتے ہیں اور صرف الٹراساؤنڈ اسکین کی بنیاد پر کسی نوعمر لڑکی پر بہت جلد یہ تشخیص عائد کرنا غیر ضروری تشویش اور غیر ضروری علاج کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈاکٹرز کو اس کی عمر، پہلی ماہواری کے بعد گزرنے والے عرصے اور اس کی علامات کے برقرار رہنے کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔
اس نام کی تبدیلی دنیا بھر میں بتدریج نافذ کی جائے گی، جبکہ 2028 تک اسے مکمل طور پر اپنائے جانے کی توقع ہے۔ ڈاکٹرز کو چاہیے کہ وہ اس عرصے کو مریضوں کو اس تبدیلی کی واضح وضاحت کرنے کے لیے استعمال کریں، نہ کہ ان کی اُلجھن میں مزید اضافہ کریں۔
میڈیکل کالجز کو اسے صرف ایک امراضِ نسواں کی کیفیت کے بجائے پورے جسم کو متاثر کرنے والی کیفیت کے طور پر پڑھانا چاہیے۔ فیملی ڈاکٹرز، گائناکالوجسٹس، ہارمون کے ماہرین، جلد کے ماہرین، ڈائٹیشنز اور ذہنی صحت کے ماہرین کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے اور مریضوں کو ایک دوسرے کے پاس ریفر کرنے کے واضح طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
لیبارٹریز اور ریڈیولوجی کلینکس کو کسی ایک خون کے ٹیسٹ یا اسکین کو خود ہی تشخیص کا فیصلہ کرنے کی بنیاد بنانا بند کرنا چاہیے۔ عوامی آگاہی مہمات میں واضح کیا جانا چاہیے کہ مسلسل بے قاعدہ ماہواری کے لیے مناسب طبی معائنہ ضروری ہے۔
پاکستان، میں PMOS کتنا عام ہے، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے، اس کے صحت کے خطرات کیا ہیں، خواتین تشخیص کے لیے کتنے عرصے تک انتظار کرتی ہیں، اس کا ذہنی صحت پر کیا اثر پڑتا ہےاور خواتین کو علاج حاصل کرنے سے کیا چیزیں روکتی ہیں۔
اس تحقیق میں دیہی خواتین، نوعمر لڑکیوں اور ان افراد کو بھی شامل کیا جانا چاہیے جو آسانی سے کسی ماہر ڈاکٹر تک نہیں پہنچ سکتیں۔ زیادہ آمدنی والے ممالک سے حاصل ہونے والے نتائج ہماری غذائیت، ہمارے جینز، ہمارے سماجی دباؤ یا ہمارے صحت کے نظام سے متعلق ہر سوال کا جواب نہیں دے سکتے۔
خواتین کو ان کی زرخیزی سے بڑھ کر دیکھناچاہیے۔ چہرے کے بالوں کی وجہ سے پریشان نوعمر لڑکی بھی مناسب نگہداشت اور احترام کی مستحق ہے۔ ایک خاتون جن کے بچے ہیں، انہیں بھی اپنی طویل مدتی صحت کی نگرانی کی ضرورت ہے۔
ظاہری شکل، موڈ یا مستقبل کی صحت کے بارے میں خدشات کو صرف اس لیے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ وہ فوری طور پر جان لیوا نہیں ہیں، جب پرانے نام سائنس اور مریضوں کی جانب سے حاصل ہونے والی نئی سمجھ سے مطابقت نہیں رکھتے تو طب اپنے نام تبدیل کرتی ہے، لیکن اس کی حقیقی اہمیت اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اس کے بعد کیا کرتے ہیں۔
اگر ہم صرف ایک مخفف کو دوسرے مخفف سے بدل دیتے ہیں تو پاکستانی خواتین کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ لیکن اگر اس کے نتیجے میں جلد تشخیص، مناسب صحت کی اسکریننگ، بہتر اور اہم مشاورت اور ایسی نگہداشت سامنے آتی ہے جو ایک خاتون کی پوری زندگی کے ساتھ چلتی ہے، تو یہ اس ملک میں خواتین کی صحت کو کہیں آگے تک تبدیل کر سکتی ہے۔ PMOS کے پیچھے پیغام سادہ ہے، یہ کبھی بھی صرف سسٹ، ماہواری یا حمل کے بارے میں نہیں تھا۔ یہ پوری خاتون کے بارے میں ہے۔
کلینیکل اسسٹنٹ پروفیسر اور کنسلٹنٹ، شعبہ امراضِ نسواں و زچگی، آغا خان یونیورسٹی ہسپتال۔