• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’موٹاپا‘‘ کئی بیماریوں کی بنیادی وجہ

آج او پی ڈی میں زیادہ رش نہیں تھا، ابھی کافی پینے کا سوچ ہی رہی تھی کہ ایک خاتون کمرے میں داخل ہوئی، اس کے ساتھ ایک لڑکی تھی، آتے ہی کہنے لگی، ڈاکٹر صاحبہ یہ میری نند ہے، اسے کوئی بیماری تو ہے نہیں، بس اس کا وزن کم کروانا ہے، چار ماہ بعد اس کی شادی ہے، لڑکی کی عمر کوئی اٹھارہ بیس سال تھی، پیاری شکل، فربہ جسم، اسٹاف اس کا B.P وزن اور قد چیک کرچکی تھی، بلڈ پریشر نارمل، وزن 80 کلو اور قد 157 سینٹی میٹر تھا۔

میں نے کہا پہلے اطمینان سے بیٹھیں اور بتائیں کہ اس کا کھانا، پینا کیسا ہے، اس کا روٹین کیا ہے؟ جواب ملا ،وزن کم کرنے کے لیے آج کل کھانا، پینا تو چھوڑ رکھا ہے، کالج میں پیٹیز، سینڈوچ اور کول ڈرنک وغیرہ لے لیتی ہے، اسے گھر کے کھانے زیادہ پسند نہیں ہیں، فاسٹ فوڈ، پیزا، برگر وغیرہ پسند ہیں، پھر پوچھا گھر میں کام وغیرہ کرتی ہے؟ جواب تھا گھر میں کام کاج کے لیے نوکر ہیں، زیادہ وقت لیپ ٹاپ پر گزارتی ہے، کالج میں گیمز وغیرہ میں حصہ لیتی ہے؟ نہیں بالکل نہیں دھوپ میں کھیلنے سے رنگ کالا ہوجاتا ہے، زیادہ تر موبائل پر ہی مصروف رہتی ہے۔

ڈاکٹر صاحبہ کچھ کریں نا! کوئی دوا، کوئی انجکشن وغیرہ، یہ ہر چیز کے لیے تیار ہے۔ اتفاقاً یہ صبح سے دوسری لڑکی تھی جو وزن کی زیادتی کا شکار تھی اور جلد ہی وزن کم کرنے کی خواہش رکھتی تھی۔

پاکستان میں ماہرین صحت کے مطابق تقریباً 74 سے 80فی صد سے زائد بالغ افراد وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں جن میں تقریباً 81 فی صد خواتین اور 74فی صد مرد شامل ہیں۔ غیر صحت مند خوراک، ورزش کی کمی اور غیر متحرک طرز زندگی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔

موٹاپا صرف جسم کی ظاہری ساخت کو متاثر نہیں کرتا بلکہ آہستہ آہستہ جسم کے قریباً ہر نظام پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ عالمی ادارہ ِصحت موٹاپے کو ایک دائمی اور پے چیدہ بیماری قرار دیتا ہے، جس میں غذائی، جنیاتی، ہارمونل، نفسیاتی اور معاشرتی عوامل سب اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

وزن کم کرنے کے لیے سب سے پہلے(Body Mass Index) BMI معلوم کرنا چاہیے، یہ ایک ایسا پیمانہ ہے، جس سے معلوم کیا جاتا ہے کہ ہمارا وزن، قد کے لحاظ سے درست ہے یا نہیں۔ BMI معلوم کرنے کا فارمولا ہوتاہے۔ وزن کلو گرام+ قد میٹر2 = BMI، ڈبلیوایچ او کے مطابق ایشیائی ممالک میں 24.9 سے 23 BMI وزن کی زیادتی ،جب کہ 25 سے 30 تک BMI موٹاپا تصور کیا جاتا ہے۔

موٹاپا عموماً ایک وجہ سے نہیں ہوتا، اس کے پیچھے کئی عوامل ہوتے ہیں، بنیادیی طور پر جسم میں حاصل ہونے والی توانائی اور خرچ ہونے والی توانائی کے درمیان عدم توازن اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن جنیاتی، نفسیاتی، ماحولیاتی اور سماجی عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔

اہم وجوہات میں ٭ ضرورت سے زیادہ کھانا٭ تلی ہوئی اور فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال ٭ میٹھے مشروبات اور چینی کا زیادہ استعمال٭ مٹھائی اور بیکری آئٹم جیسے کیک، پیسٹری وغیرہ۔٭ Processed food کی زیادتی٭ ورزش اور جسمانی سرگرمی کی کمی اور زیادہ بیٹھے رہنا٭موبائل، ٹی وی اور زیادہ اسکرین ٹائم، ٭بعض ہارمونل بیماریاں٭کچھ ادویات٭خاندانی یا جنیاتی رجحان ٭حمل کے بعد وزن کا برقرار رہ جانا٭ عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی سرگرمی میں کمی۔

موٹاپا ،خاموشی سے کئی بیماریوں کی بنیاد رکھ سکتا ہے جن ذیابطیس، بلند فشار خون، دل کی بیماریاں، فالج، جوڑوں کے مسائل، نیند میں سانس کا رکنا (Sleep Apnea) اور چند اقسام کے کیسز شامل ہیں۔ خواتین میں موٹاپا، ماہواری کی بے قاعدگی، PCOS، بانجھ پن اور حمل کے دوران بعض پیچیدگیوں کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے، موٹاپے کا علاج صرف کم کھانا یا فاقہ کرنا نہیں ہے اور نا ہی کسی جادوئی طریقے سے ممکن ہے۔

موٹاپے کا علاج ایک طویل مدتی عمل ہے، مقصد صرف وزن کم کرنا نہیں بلکہ صحت مند جسم کے ساتھ قابل تقلید طرز زندگی حاصل کرنا ہے، وزن میں کمی کے لیے سب سے پہلے غذا میں تبدیلی ہے، پلیٹ کا بڑا حصہ سبزیوں اور کچی سلاد پر مشتمل ہونا ضروری ہے، دالیں، چنے، لوبیا، انڈا، مچھلی اور مناسب مقدار میں گوشت شامل کریں ٭ سفید آٹے اور چاول کی مقدار کم کریں اور بھوسی والے آٹے کو ترجیح دیں، آج کل ملٹی گرین آٹا بھی مل جاتا ہے ٭ میٹھے مشروبات، بیکری آئٹمز اور فاسٹ فوڈ بند کردیں ٭ چینی کا استعمال چھوڑ دیں ٭ کھانے کی مقدار پر بھی توجہ دیں، صحت مند غذا بھی ضرورت سے زیادہ کھانے سے وزن بڑھا سکتی ہے ٭ پانی زیادہ پئیں۔

… ورزش…

٭ابتدا میں 30 منٹ تیز چہل قدمی سے شروع کریں اور بتدریج جسمانی سرگرمی بڑھائیں، بالغ افراد کے لیے کم از کم 150 منٹ فی ہفتہ جسمانی سرگرمی ضروری ہے، اس کے ساتھ ایرو بکس جیسے جاگنگ، تیراکی اور پہاڑ پر چڑھنا۔ جسمانی قوت کی ورزش، جیسے ویٹ لفٹنگ، سامان اٹھانا، فرش دھونا اور پونچھا لگانا٭ جسمانی لچک کی ورزش، اسٹریچنگ، یوگا اور تائی چی وغیرہ۔

… نیند اور ذہنی صحت…

بھرپور مناسب نیند اور ذہنی دباؤ کم کرنا، وزن کم کرنے کے پروگرام کا اہم حصہ ہیں، بہت سے افراد زہنی دباؤ، اداسی، تنہائی اور بے خوابی کے دوران غیر محسوس طریقے سے زیادہ کھانا شروع کردیتے ہیں، جسے Emotional eating بھی کہتے ہیں۔

… ادویات…

اگر غذا، ورزش اور طرز زندگی میں تبدییل کے باوجود وزن میں کمی نا آرہی ہو اور موٹاپا صحت کے لیے خطرہ بننے لگے تو ڈاکٹر مریض کو (weight loss medicine) وزن کم کرنے والی ادویات تجویز کرتے ہیں۔ ان میں کھانے کی دوائیاں اور انجکشن شامل ہیں، یہ ادویات ہر شخص کے لیے مناسب نہیں ہوتی ہیں، صرف ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کرناچا ہیے۔

…سرجری…

شدید موٹاپا اور متعلقہ بیماریوں کے مخصوص مریضوں میں Bariatric sangry بھی ایک موثر علاج ہوسکتی ہے، مگر اس کا فیصلہ بھی مریض کے BMI سابقہ بیماریوں، علاج اور مجموعی صحت کو دیکھ کر ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم کرتی ہے۔ 

موٹاپا صرف جسمانی صحت کو متاثر نہیں کرتا بلکہ انسان کی ذہنی کیفیت، خوداعتمادی، خاندانی تعلقات اور سماجی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے، موٹے افراد کو معاشرے میں بعض اوقات طنز، مذاق اور Body Shaming کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور سے بچوں اور نوجوانوں میں، اس طرح مذاق اڑایا جانا ان کی شخصیت اور ذہنی صحت پر منفی اثر ڈالتا ہے، اسکول میں بچے پڑھائی، کھیل اور دوستوں سے دوری اختیار کرسکتے ہیں، موٹاپا اور ذہنی صحت کے مسائل کا تعلق دوطرفہ ہوتا ہے، جسے ذہنی دباؤ کی وجہ سے زیادہ کھانا، وزن میں اضافہ، احساس کمتری اور ذہنی دباؤ۔

اس لیے وزن کم کرنے کی خواہش رکھنے والے افراد کی صرف کلیوریز کا گننا کافی نہیں بلکہ اس کی نفسیاتی کیفیت اور کھانے کے رویے کو بھی سمجھنا ضروری ہے، موٹاپے کا شکار لوگ جسمانی سرگرمی کم ہونے، جلد تھک جانے اور سانس پھولنے کی وجہ سے سماجی سرگرمیوں میں شرکت کو محدود کردیتے ہیں، بعض موٹے افراد شادی، ملازمت یا سماجی تعلقات کے حوالے سے بھی غیر ضروری ذہنی دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ معاشرے کی بھی ذمے داری ہے کہ موٹے انسان کو تنقید، طنز یا شرمندگی کے بجائے مدد، احترام اور حوصلہ افزائی محسوس کروائے۔

صحت سے مزید